287

اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کاملنا

گزشتہ دسمبر پشاور میں قیام کے دوران معلوم ہوا کہ میرے لڑکپن کے دوست ڈاکٹر سراج احمد علیل ہیں سراج صاحب فی الوقت کینیڈا کے مشرقی صوبے نوواسکوشیا (Nova Scotia) کے شہر ہیلی فیکس میں رہتے ہیں سردیاں وہ پشاور میں گزارتے ہیں لیکن اس سال علالت کی وجہ سے وہ پشاور نہیں آئے اسلئے پاکستان سے واپسی کے بعد میں نے کینیڈا کا رخت سفر باندھا کہ اسے دیکھوں‘ گلے لگاؤں اور پھر ہم ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ماضی کے دھندلکوں میں کھوجائیں۔یہ 1953ء کی بات ہے میری ملاقات ایک لمبے تڑنگے لڑکے سے ہوئی جس نے میری طرح اسلامیہ کالج میں فرسٹ ائر پری میڈیکل کورس میں داخلہ لیا تھا باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ اس نے اسلامیہ ہائی سکول سے میٹرک کیا تھا فٹ بال کھیلتا تھا اور علاوہ ازیں ہمارے خاندانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ دور کے مراسم بھی تھے انہی حالات میں ہماری دوستی کا آغاز ہوا لڑکپن کی منزلیں طے کرتے ہوئے ہم جوانی کے میدان میں داخل ہوئے اور اب ہم دونوں آہستہ آہستہ خراماں خراماں اپنی زندگی کی سہ پہر میں غروب آفتاب کی طرف رواں دواں ہیں۔ پیچھے کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے بہت سارے ایسے سنگ میل نظر آتے ہیں جن کو ہم نے اکٹھا کراس کیا تھا اسلامیہ کالج سے خیبر میڈیکل کالج کا فاصلہ سراج نے 2سال میں طے کیا اور میں نے 4 سال میں‘وہ میڈیکل کالج میں مجھ سے 2سال آگے تھا لیکن ہمارے درمیان سینئر اور جونیئر کا سوال کبھی پیدا نہیں ہوا جن مضبوط بنیادوں پر ہم نے اپنی دوستی کی بنیاد رکھی تھی وہ بنیادیں اب بھی قائم و دائم ہیں زندگی کے سفر میں ہماری راہیں الگ ضرور ہوئیں لیکن فاصلے ہمارے درمیان حائل نہ ہوسکے۔

امریکہ جانے سے پہلے سراج کا نکاح اپنے ہی رشتہ داروں میں ایک پڑھی لکھی ذہین اور خوبرو لڑکی سے ہوا اس طرح ڈھکی حمید خان کے باسی کی محلہ خداداد میں شادی ہوگئی سگھڑ بیوی ملنے سے سراج اور بھی چمک اٹھا پہلے امریکہ میں تعلیم اور ٹریننگ حاصل کی اور پھر وہ کینیڈا کے شہر ہیلی فیکس چلا گیا جہاں جوڑوں کی بیماریوں Rheumatology میں ٹریننگ کے بعد وہیں ڈلہوزی یونیورسٹی میں پروفیسری اختیار کرلی اور ایک عرصہ تدریس‘ و تحقیق اور پریکٹس کرنے کے بعد کوئی دس سال پہلے پروفیسری سے سبکدوش ہوا ۔سراج کو کالج کے دنوں سے ہی کلاسیکی اور نیم کلاسیکی موسیقی سے دلچسپی تھی اسکی وجہ سے میں بھی اس موسیقی کی طرف مائل ہوا ہمارے پاس ہاسٹل میں چابی والا باجہ اور سینکڑوں ریکارڈ موجود تھے ہمیں سہگل‘ جگ موھن‘ پنکج ملک اور دیگر بہت سے گلوکاروں کی صحبت میسر تھی‘ اب بھی اتنا وقت گزرنے کے بعد ہم اس موسیقی کے متوالے ہیں سراج صاحب اب جاز(Jazz) کی طرف زیادہ متوجہ ہیں اور مغربی موسیقی کا آلہ سیکسا فون(Saxaphone) ان کا پسندیدہ ساز ہے اور بہت خوبی سے بجاتے ہیں۔

سراج اور منور اخترکے بچے کامیابی کی منزلیں طے کرنے کے بعد اب دنیا کے مختلف مقامات پر خوشحال زندگی گزار رہے ہیں بیٹا کامران احمد امریکہ کی شمال مغربی ریاست واشنگٹن میں ریسرچر ہے اور اپنے شعبے میں ایک جانا پہچانا اور معتبر نام ہے بڑی بیٹی سبینہ اپنے خاوند اور بیٹے کیساتھ سوئٹزرلینڈ میں رہتی ہے خاوند کارڈیالوجسٹ ہے اور یونیورسٹی میں کارڈیالوجی کے شعبے کا سربراہ ہے چھوٹی بیٹی زرین‘ والد کی طرح جوڑوں کی بیماریوں کی سپیشلسٹ ہے اور کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں اپنے خاوند اور دو چھوٹے بیٹوں کیساتھ رہتی ہے اسکا خاوند پولیٹیکل سائنس کا پروفیسر ہے زرین بھی یونیورسٹی میں پروفیسر ہے جب سراج کے بچوں کی شادیاں ہوئیں تو میاں بیوی کے اصرار پر میں نے ان کا نکاح پڑھایا تھا۔
ذوق نے کہا تھا کہ
اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے
اس لئے جب بھی ہمیں آپس میں مل بیٹھنے کا موقع ملتا ہے ماضی اور حال ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں کبھی ہم شہر سے صدر پیدل چل کر سلور سٹار ریسٹورنٹ کی چائے کو یاد کرتے ہیں نواز بیرے کو یاد کرتے ہیں کمپنی باغ کے اطراف میں بکھری رات کی رانی کی خوشبو یاد کرتے ہیں دوستوں کو یاد کرتے ہیں جن میں سے کئی حیات ہیں اور کئی اس دنیا سے گزر چکے ہیں ۔ تریسٹھ سال کا عرصہ ایک لمبا عرصہ ہے بلکہ اس کا ایک عمر (life Time) سے موازنہ کیا جاتا ہے یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اوائل زندگی میں ہی سراج سے شناسائی ہوئی اور اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہماری دوستی اسی نج پر قائم ہے جب کالج کے دنوں میں ہم نے اپنی دوستی کی بنیاد رکھی تھی ۔