132

معاشی روڈ میپ کااعلان

وزیراعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے آئند ہ ایک سال کیلئے معاشی روڈ میپ کا اعلان کر دیا ہے میپ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام چند روز میںشروع ہو جائے گا ورلڈ بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک سے3 ارب ڈالر تک کا اضافی قرضہ مختلف منصوبوں کیلئے لیا جا سکے گا اسلامی ترقیاتی بینک سے 1.2 ارب ڈالر کی موخر ادائیگیوں کی سہولت حاصل کی جائے گی ‘ قرضوں کی اس تفصیل کیساتھ اصلاح احوال کےلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 925 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں جبکہ مالیاتی خسارے میں 4 ارب ڈالر کی کمی لائی جا چکی ہے مشیر خزانہ آنے والے برس کو استحکام کا سال قرار دے رہے ہیں حکومت محصولات بڑھانے اور اخراجات کم کرنے کو بھی ہدف قرار دے رہی ہے اس سب کے ساتھ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کو زیرو کرنے کا بھی کہا جا رہا ہے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت کواقتدار سنبھالنے پر معیشت اس طرح کی ملی کہ وطن عزیز پر 100 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ تھا قرضوں کا مجموعی حجم31 ہزار ارب تھا جبکہ زرمبادلہ 10ارب ڈالر سے بھی کم تھا۔

‘ مالیاتی خسارہ20 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا ‘ اس حالت میں حکومت کے پاس قرضوں کی اقساط بروقت ادا کرنے کا کام چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا جس کےلئے ہنگامی بنیادوں پر مختلف ممالک سے رابطہ کرکے پیکج لئے گئے اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ معیشت کا بگاڑ ایک عرصہ سے چلا آ رہاہے اورہر آنے والی حکومت میں قرضوںکا حجم بڑھتا ہی رہا ہے اس بگاڑ کو سنوارنے میں وقت ضرور لگے گا تاہم اس سارے منظر نامے میں غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات کا احساس ضروری ہے مشیر خزانہ آنے والے میزانیے میں غریبوں کی ریلیف کیلئے متعدد اقدامات کا عندیہ دے رہے ہیں یوٹیلٹی بلوں میں تحفظ دینے اور سبسڈی دینے کا عزم بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ان تمام اقدامات کے ساتھ ضروری یہ بھی ہے کہ امیر طبقہ پر ریونیو کےلئے ڈالا جانے والا بوجھ غریب شہریوں کو منتقل نہ ہونے پائے قابل اطمینان ہے کہ حکومت پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے والی نجی شعبہ کی کمپنیوں کو ٹیکس میں مراعات دینے کا کہہ رہی ہے اس طرح تمام مراعات اور سہولیات کو عوامی ریلیف سے جوڑا گیاتو اس کے مثبت نتائج ہی ملیںگے اس ساری طویل المدتی منصوبہ بندی کےساتھ ضروری ہے کہ غریب شہریوں کو مارکیٹ میں فوری ریلیف دینے کےلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ا ن کے مسائل کی شدت میں کمی لائی جا سکے ۔

پشاور کے مسائل؟

وزیرخزانہ تیمورسلیم جھگڑا نے اس حقیقت کا اعتراف کھلے دل کیساتھ کیا ہے کہ جامع منصوبے بندی کے فقدان کے باعث پشاور وہ ترقی نہ کر سکا کہ جس کا یہ شہر متقاضی تھا ۔ وزیر ©خزانہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صوبائی دارالحکومت کی کل وقتی بنیادوں پر صفائی ناگزیر ہو چکی ہے جس کیلئے وہ وسائل کی فراہمی سے متعلق بھی یقین دہانی کراتے ہیں ‘ خیبر پختونخوا کا دارالحکومت اس وقت متعدد مسائل اور مشکلات کا شکار ہے ان مسائل سے نمٹنے کیلئے کسی ایک ادارے کی فعالیت مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی ضرورت تمام سٹیک ہولڈر اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی ہے یہ بات بھی مد نظر رکھنا ہو گی کہ پشاور ایک وسیع شہر ہے یہاں دو چار سڑکوں پر کام کرکے کافی نہ سمجھا جائے کہ یہ پریکٹس پہلے بھی ہوتی رہی ہے ۔