191

بجٹ 20-2019: سگریٹ، مشروبات پر ہیلتھ ٹیکس کے نفاذ کی حتمی منظوری ​​​​​​​

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے سگریٹ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس (مشروبات) پر ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی۔

 سگریٹ کے فی پیکٹ پر 10 روپے جبکہ کاربونیٹڈ ڈرنکس (مشروبات) کی 250 ملی لیٹر بوتل پر ایک روپے ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق ہیلتھ ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم صحت کے شعبے کی ترقی پر خرچ کی جائے گی جبکہ بجٹ میں سگریٹ کی غیرقانونی تجارت کے خلاف اقدامات کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ سگریٹ اور دیگر مصنوعات کی غیر قانونی پیداوار اور تجارت کی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی اور اس سلسلے میں وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز اینڈ ریگولیشنز مجوزہ اقدامات کا مسودہ پیش کرے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں سالانہ 143 ارب 21 کروڑ روپے کی تمباکو نوشی کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ 60 ہزارافراد تمباکو نوشی کے باعث ہلاک ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان میں ایک کروڑ 56 لاکھ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔

وزیراعظم کے ترجمان کی تصدیق

علاوہ ازیں وزیراعظم کے ترجمان برائے انسداد تمباکو نوشی بابر بن عطا نے ڈان نیوز کو تصدیق کی کہ حکومت کی جانب سے ہیلتھ ٹیکس کی منظور دے دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 20 روپے والے سگریٹ کے پیکٹ پر 10 روپے اور مشروبات پر بھی ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں ہیلتھ ٹیکس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم صحت کارڈ کے ذریعے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے ٹیکس لگائے جارہے ہیں، جس سے 40 سے 50 ارب روپے کے وسائل حاصل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر جرات مندانہ فیصلہ کیا گیا اور دعویٰ کیا کہ موت کے سودا گروں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

اس سے قبل جنوری میں قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے ترمیمی منی فنانس بل میں سگریٹ اور مشروبات پر گناہ ٹیکس کا ذکر نہ ہونے پر شعبہ صحت کے حکام نے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔