146

باڑ لگانے کاعمل تیزکیاجائے

یہ امر خوش آئند ہے کہ عساکر پاکستان ڈیورنڈ لائن پر تیزی سے باڑ لگا رہی ہیں اگراس کام میں کوئی کھنڈت نہ پڑی تو غالب امکان یہ ہے کہ 2019 کے اواخر تک یہ کام کافی حد تک پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے بارڈر مینجمنٹ سے ڈیورنڈ لائن کے رستے دہشت گردوں کی آمدو رفت کو کافی حد تک کنٹرول میں لایا جا سکتا ہے اب تک اس لائن پر پاکستان کی سائیڈ پر 1126 جبکہ افغانستان کی سائیڈ پر صرف 145 پوسٹیں ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے میں ہم کتنے سنجیدہ ہیں اور افغانستان کتنا لا پرواہ ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ افغانستان کی سائیڈ پر افغان حکام کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے ‘امریکہ بار بار ہم پر یہ الزام لگاتاہے کہ پاکستان سے دہشت گرد افغانستان کے اندر جاکر وہاں تخریب کاری کرتے ہیں اگر وہ اس معاملے میں واقعی سنجیدہ ہے کہ اسکا تدارک ہو تووہ کیوں پاکستان کی دل کھول کر مالی امداد نہیں کرتا خصوصاً ان اخراجات میں کہ جو ہم ڈیورنڈ لائن پر باڑلگانے پر برداشت کر رہے ہیں اس سے ہر کسی کاگلہ اور شک ختم ہو جائیگا کہ دہشت گرد پاکستان میں اپنی مبینہ کمین گاہوں سے نکل کر افغانستان تخریب کاری کیلئے جاتے ہیں ۔

امریکہ افغانستان کی حکومت کو بھی دل کھول کر پیسہ دے سکتا ہے کہ وہ اپنی سائیڈ پر اسی طرح باڑلگانے اور فوجی چوکیاں قائم کرنے کا سلسلہ آگے بڑھائے کہ جس طرح پاکستان کر رہا ہے خدا لگتی یہ ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں امریکہ قطعاً اس خطے میں امن کا خواہاں نہیں وہ یہاں انتشار چاہتا ہے دل سے وہ خفا ہے کہ پاکستان کے فوجی حکام کیوں ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگا رہے ہیں کیونکہ اس طرح تو اسکے پروردہ بھارت کے عزائم کی تکمیل میں خلل پڑتا ہے جو ڈیورنڈ لائن کے راستے اپنے گماشتے پاکستان کے اندر داخل کرکے یہاں کا امن تاراج کرتے ہیں یہ باڑ لگانے کا کام جو آج ہو رہا ہے یہ بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا لیکن چلو دیر آید درست آید ‘اب جب کہ اس کام کا بیڑہ اٹھایاگیاہے اس کو اپنے منطقی انجام تک پہنچاناازحد ضروری ہے او ر راستے میں اسے کسی سیاسی مصلحت کے تحت ادھورا نہیں چھوڑنا چاہئے ‘یقین کریں قوم آئے دن ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات سے اس قدر تنگ آ چکی ہے کہ وہ اس بات پر بھی ذہنی طور پر تیار ہو جائے گی کہ اگر ایک سال یا دو سال کیلئے اس مقصد کے حصول کیلئے حکومت کوئی اس پر اضافی ٹیکس بھی لگانا چاہے تولگادے بشرطیکہ اسے یقین ہو جائے کہ اب پاکستان اس کام سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گا کہ جب تک ڈیورنڈ لائن کو مکمل طور پر ہر قسم کی ٹریفک کیلئے سیل نہ کر دیا جائے تاکہ یہ روزانہ کی بک بک جھک جھک سے اسکی جان چھوٹ جائے یہ ایک ایسادردسر ہے کہ جسکا اب مکمل علاج ناگزیر ہے ۔

کوئی مانے یا نہ مانے پر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس روز سے دہشت گردوں کو پکڑ کر تختہ دار پر لٹکایاجا رہا ہے اس دن سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں واضح اور نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس سے ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیاہے کہ بعض چیزوں کا علاج صرف ڈنڈے سے ہی ہو سکتا ہے ‘ تو ہم بات کر رہے تھے فاٹا میں باڑ لگانے کے عمل کی اس مقصد کیلئے ظاہر ہے کہ فرنٹیئر کور کے کئی مزید ونگز تیار کرنے ہوں گے جن پر کافی خرچہ اٹھے گا لیکن ملک کی بقا‘ سلامتی اور امن عامہ کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے قوموں کو بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ملک اگر ہو گا تو قوم بھی زندہ رہے گی اور ملک میں ترقیاتی منصوبے بھی بنیں گے خاکم بدہن اگر ملک ہی نہ رہا تو پھر دیگر منصوبے کس کام کے ؟