179

قومی بجٹ‘ امیدیں اور خدشات

مالی سال 2019-20ءکےلئے قومی بجٹ آج پیش کیا جارہا ہے‘ وطن عزیز کو درپیش شدید مالی مشکلات کے تناظر میں پیش ہونے والے بجٹ سے قبل ہی حزب اختلاف حکومت کی مالی حکمت عملی اور خصوصاً مہنگائی کے حوالے سے احتجاج کررہی ہے‘اس منظرنامے میں پیش ہونے والا میزانیہ حکومت کے فنانشل منیجرز کے لئے یقینا ایک بڑا امتحان ہے‘ وطن عزیز کو درپیش مشکلات سے انکار ممکن نہیں‘ اکانومی کھربوں روپے کے قرضوں تلے دبی ہے‘ ایک قرضے کی قسط ادا کرنے کیلئے دوسرا قرضہ لیا جارہا ہے‘ زرمبادلہ کے ذخائر سے آﺅٹ فلو کا لوڈ کم کرنے کیلئے تیل تک ادھار لیا جارہا ہے‘ گردشی قرضوں کا والیوم اپنی جگہ بڑھتا چلا جارہا ہے‘ توانائی کا بحران اپنی جگہ ہے تجارتی خسارہ پیداواری شعبے کی حالت کا عکاس ہے‘بدانتظامی کا اندازہ گردشی قرضوں اور بحران کے باوجود بجلی اور گیس کے شعبوں میں لائن لاسز سے لگایا جا سکتا ہے‘ اسی بدانتظامی کے باعث کل کے منافع بخش اداروں کا آج ملازمین کی تنخواہیں تک ادا کرنے کے قابل نہ رہنا ہے‘ اس بدانتظامی میں سیاسی مداخلت ‘خلاف میرٹ تقرریوں اور تکنیکی مہارت سے عاری فیصلے شامل ہیں جن کا نتیجہ قومی اثاثوں کی نیلامی کی صورت میں سب کے سامنے ہے یہی بدانتظامی کرپشن کو فروغ دیتی رہی‘ قومی بجٹ سے قبل قوم کے نام اپنے پیغام میں وزیراعظم نے مجموعی طور پر اس درپیش صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی کے خدوخال اجاگر کئے ہیں۔

وہ قرضوں کے بڑھتے حجم کے مقابلے میں ٹیکس اکٹھا کرنے میں حاصل رقم کو ناکافی قرار دیتے ہیں‘وزیراعظم اعداد و شمار کےساتھ پاکستان کے قرضے میں اضافے کا ذکر بھی کرتے ہیں‘ وزیراعظم کے پیغام پر حکومت کے اپنے اور مخالف حلقوں سے ردعمل کا سلسلہ فوری طور پر شروع ہوچکا ہے‘ یہ درست ہے کہ موجودہ حالات میں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا تاہم حکومتی لیول پر قرضوں میں اضافے کے عرصہ دراز سے جاری سلسلے کا بوجھ عام شہریوں پر ڈالنا بھی درست نہیں عوام گرانی اور ٹیکسوں کے ہاتھوں پریشان ہیں قومی بجٹ خدشات کے ساتھ توقعات کا حامل بھی ہوتا ہے وفاقی کابینہ کو بجٹ کی منظوری سے قبل عوامی ریلیف کو مدنظر رکھنا چاہئے تاکہ لوگوں کی وہ توقعات پوری ہوں جو وہ حکومت سے لگائے بیٹھے ہیں۔

ٹرانسپورٹ کرائے

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے عید کی چھٹیوں سے واپس آنے والے شہریوں سے اضافی ٹرانسپورٹ کرائے وصول کرنے کی شکایت پر کاروائی کی ہے‘ اس ایکشن میں ڈرائیوروں کو جرمانہ کرنے کے ساتھ اضافی وصول کئے گئے کرائے سواریوں کو واپس کئے گئے انتظامیہ اس حوالے سے سو فیصد شکایات کا ازالہ تو محدود وسائل کے باعث کرنا چاہے بھی تو نہیں کرسکتی تاہم جتنا بھی ہواوہ اس ضمن میں ذمہ دار اداروں کے احساس کا عکاس ضرور ہے‘ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کےساتھ گیس کے نرخوں میں اضافے نے کمرشل ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے متعلق مسئلہ کھڑا کیا ہوا ہے‘ رکشہ‘ ٹیکسی اور دوسری کمرشل گاڑیوں کیلئے کرایوں کا تعین‘ انہیں آویزاں کرنے اور ان پر عملدرآمد کےلئے سنجیدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے اس ضمن میں موبائل ایپ بھی بن سکتی ہے عوام کو یہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ زیادہ کرایہ طلب کئے جانے پر شکایت کس کو کی جانی ہے تاکہ سارا عمل قاعدے قانون کا پابند بنایا جاسکے۔