219

فیض آباد دھرنا کیس رپورٹ پیش نہ کر نے پر عدالت بر ہم 

اسلام آباد اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس میں راجہ ظفرالحق رپورٹ عدالت میں پیش نہ کی جاسکی، عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔

سوموار کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سیکرٹری دفاع اور ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشد کیانی عدالت میں پیش ہوئے ۔

سیکرٹری دفاع نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی، عدالت نے راجہ ظفرالحق رپورٹ پیش کرنے کا کہا،جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ رپورٹ فائنل نہیں ہے، عدالت نے استفسار کیا رپورٹ کب تک فائنل ہوگی؟ عدالت نے مذید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کیوں نہ آج توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیں ،وزیر داخلہ کے دستخط کے بغیر بھی رپورٹ جمع کرائی جا سکتی عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل نہ کھیلا جائے، عدالت کا مذید کہا کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ چئیرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے براہ راست ریکارڈ طلب کرنا پڑے، اگر 20 فروری تک رپورٹ پیش نہ ہوئی تو وزیراعظم سمیت دیگر وزراء کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے، عدالت نے کیس کی مذید سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔