187

قومی بجٹ اور سیاسی گرماگرمی

مالی سال 2019-20ءکیلئے قومی بجٹ پیش کردیا گیا‘قومی بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش ہوا جب ملک میں سیاسی گرماگرمی کا گراف موسم کی گرمی کیساتھ بلند ہوتا جارہا ہے‘ بجٹ کے اعداد وشمار ‘ ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافے اور عوامی ریلیف کیلئے اقدامات کی تفصیل میں پڑے بغیر اس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ ملکی معیشت کی حالت انتہائی سنجیدہ اقدامات کی متقاضی ہے‘ وقت کی ضرورت یہ بھی ہے کہ ملک میں عام شہری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے‘ اسے مہنگائی کے طوفان سے نکالاجائے اور روزگار سمیت بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی اس کیلئے ہر صورت ممکن بنائی جائے‘ یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب اقتصادی شعبے میں اصلاحات لائی جائیں‘ معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کیاجائے‘ قومی فنڈز کے استعمال کو شفاف اور ضرورت کے مطابق درست امکاناتی رپورٹ کی روشنی میں استعمال کیاجائے‘ اداروں کو سیاسی مداخلت اور دباﺅ سے آزاد کیاجائے‘ تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر ہوں اور علم وہنر سے لیس افرادی قوت کو آزاد ماحول میں ذمہ داری کیساتھ ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع دیا جائے‘ بیوروکریسی کے پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لیاجائے اور انتظامی ڈھانچے میں ریفارمز کو یقینی بنایاجائے‘انفراسٹرکچر میں توسیع کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتا تاہم اس حقیقت سے بھی فرار ممکن نہیں کہ صرف عمارات بنادینا کافی نہیں۔

 ان کا استعمال اور عوام کو ان کے ذریعے خدمات فراہم کرنا زیادہ اہم ہے‘ اس سب کیلئے ایک جانب ضرورت بڑے فیصلوں اور ان میں عوام کو شریک کرنے کی ہے تو دوسری جانب کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات سے گریز کی بھی ہے‘ کسی بھی ریاست میں معاشی استحکام سرمایہ کاری اور صنعتی وتجارتی سرگرمیوں سے ہی جڑا ہوتا ہے‘ یہ اسی صورت ممکن ہے جب ملک میں سیاسی استحکام ہو‘ ہمارے ہاں سیاست کا میدان گزشتہ دور حکومت سے ہی گرم چلا آرہا ہے‘ جمہوری نظام میں سیاسی مخالفت کوئی نئی بات نہیں تاہم ملک کو درپیش اہم معاملات پر سیاسی قیادت کو متفقہ فیصلے کرنا ہوتے ہیں‘ ہمارے ہاں بھی ایسا ہوتا رہا ہے‘ حال ہی میں قبائلی اضلاع کیلئے نشستوں کی تعداد بڑھانے کے معاملے پر ایک بڑا اتفاق دیکھا گیا ہے‘ کیا ہی بہتر ہو کہ میثاق معیشت نہ بھی سہی کم ازکم ایسا ماحول پیدا کیاجائے کہ جس میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی فضاءپیدا ہوسکے‘ اسی سے عوام کا ریلیف جڑا ہے اور سیاسی قیادت عوام ہی کی نمائندہ ہوتی ہے۔

پنشنرز کے مسائل

ہمارے رپورٹرکی فائل کردہ سٹوری کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کے باوجود پنشنرز کو تنخواہوں کی وصولی میں بے شمار مشکلات کا سامنا رہا‘ اس میں بعض محکموں سے کیس نہیں گئے تو کہیں بینکوں نے ادائیگی نہیں کی‘ کروڑوں روپے کے سافٹ ویئرز آ جانے کے بعد بھی اگر تنخواہوں‘ جی پی فنڈ‘ پنشن یا دوسرے بلوں کی ادائیگی میں تاخیر ہو تو سارے اخراجات بے ثمر ہی نظر آئیں گے‘ مسائل کا حل ایک دفتر میں ممکن نہیں‘ تمام سٹیک ہولڈر محکموں کو یکجا کرنے‘ باہمی رابطہ یقینی بنانے اور انہیں ٹائم فریم کے اندر کام کرنے کا پابند بنانا ہوگا‘ جی پی فنڈ بیلنس کی درستگی میں کئی کئی اضلاع شامل ہوتے ہیں جن کو ایک سرکلر میں تمام کیس ہفتے دس دن میں بھجوانے کا پابند بنانا بھی ضروری ہے تاکہ ملازمین کو ریلیف مل سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔