899

چوتھی مرتبہ ملازمین کی ریٹائر منٹ حد میں تبدیلی

 پشاور۔سر کاری ملازمین کی ریٹائر منٹ کی حد میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی ہے ٗ خیبر پختونخوا حکو مت نے محکمہ خزانہ کی تجویز پر سر کاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے لئے عمر کی حد 60 سے بڑھا کر63 سال کر دی ہے ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ٗ1960 ء تک یہ حد 55 سال تھی 1960 ء سے1966 ء تک یہ حد 60 رہی ٗ66 ء کے بعد دوبارہ 55 سال کر دی گئی اور1976 ء میں ایک بار پھر 60 سال کر دی گئی ٗ حکومت اپنی تر جیحات کے مطابق عمر کی حد میں کمی بیشی کرتی رہتی ہے۔

ٗچونکہ موجودہ دور میں حکو مت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے جن پر قابو پانے کے لئے کفا یت شعاری کے اقدامات سمیت دیگر مختلف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ٗاس لئے ریٹائر منٹ کی حد 63 سال کر نا بھی انہی اقدامات کا حصہ ہے ٗ محکمہ خزانہ کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے سرکاری خزانے کو سالانہ20 ارب روپے کافائدہ ہو گا ٗدوسرے مذید تین سال کے لئے سر کاری محکموں بالخصوص سول سیکر ٹر یٹ کو تجربہ کار افسروں کا تعاون حاصل رہے گا ٗ سول سیکر ٹر یٹ اور ملحقہ صو بائی محکموں میں پی ایم ایس کیڈر بننے کے بعد نئے بھرتی افسروں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ فیلڈ میں کام کر یں جہاں انہیں اسسٹنٹ کمشنر اور دیگراسامیوں پر تعینات کیا جاتا ہے ٗاگر کسی کی تعیناتی سیکر ٹر یٹ میں ہو بھی جاتی ہے تو وہ اپنا تبادلہ فیلڈ میں کرائے۔

 جس کے لئے ضروری ہے کہ نئے بھرتی ہو نے والے پی ایم ایس افسروں  کے لئے کم از کم سات سال تک سٹیبلشمنٹ ٗ قانون ٗ فنانس اور محکمہ پی اینڈ ڈی میں خدمات لازمی قرار دی جائیں ٗصو بائی حکو مت کے نوٹس میں لا یا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سول سیکر ٹر یٹ اور ملحقہ محکموں میں تجربہ کار افسروں کی کمی ہو رہی ہے اور محکموں میں ریٹائر افسروں کو کنٹر یکٹ پر بھرتی کرکے اہم سر کاری امورچلائے جا رہے ہیں عمر کی حد میں تین سال کے اضافے سے ان نئے افسروں کو بھی تجربہ حاصل کر نے کا موقع ملے گا ٗتا ہم ایسے افراد جو ترقی کے منتظر تھے ان کا انتظار اب مذید تین سال بڑھ گیا ہے جو اپنی ترقی کے لئے اپنے سینئرز کی ریٹائر منٹ کے منتظر تھے اسی طرح ایسے ملازمین جو اپنے افسر سے سینئر ہیں وہ پہلے ہی ریٹائر ہو جائیں گے۔