558

خیبر پختونخوا حکومت نے تاریخی بجٹ پیش کیا ٗتیمورسلیم جھگڑا

پشاور۔صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑانے کہاہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک تاریخی بجٹ پیش کیا ہے وفاق کے مقابلے میں وزراء کی تنخواہوں میں مزید کمی کی گئی ہے کم گریڈ والے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔وہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پرصوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ہم نے بہترین بجٹ دیااورکفایت شعاری کی ابتداء ہم نے اپنی تنخواہیں کم کرکے کی،بندوبستی اضلاع کے تنخواہوں کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تاہم قبائلی اضلاع کے لیے اضافہ کیاگیاہے،ہم نے پوراسال ہم نے کام کرکے 95 ارب کی ہم نے بچت کی جس سے ترقیاتی بجٹ بڑھاہے،اگر ہم انتظامی اخراجات کم نہ کرتے توترقیاتی بجٹ116 ارب ہی رہ جاتا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہم نے سندھ سے زیادہ ترقیاتی بجٹ دیاہے۔

ہم نے کوشش کی ہے کہ سب طبقات کوکورکریں،صحت انصاف کارڈہمارابڑامنصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال قبائلی اضلاع کے لیے دس ارب کی تخصیص تھی جوتاخیرسے ملے،یہ پیسہ متعلقہ اداروں کے پاس گیا جو وہ آئندہ سال بھی استعمال کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ملکی مفاد میں ٹیکس لگتے رہتے ہیں،ٹیکسوں کی شرح میں کمی بیشی کی گئی ہے،کئی سالوں سے جن ٹیکسوں یافیسوں میں اضافہ نہیں ہواتھااس میں اضافہ کیاگیاہے،انکم ٹیکس نہیں 1990 کے فنانس ایکٹ میں پروفیشن ٹیکس میں ردوبدل کیاگیاہے،دہری ٹیکسیشن ختم کی گئی ہے،رہائشی گھروں پرٹیکسوں میں اضافہ نہیں کیاگیا،پشاورکے ساتھ ڈویڑنل ہیڈکوارٹرزکوشامل کیاگیاہے،ہمارے ٹیکس شیڈول بین الاقوامی معیارپرلائے گئے ہیں۔

تیمورسلیم جھگڑانے کہا کہ مرکزسے پورے واجبات نہیں ملے،ہم نے مرکزسے واجبات نہ ملنے پربہترین مالی منیجمنٹ کی،ہم تھروفارورڈکوکم کرینگے,کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ سال ملازمتیں دینگے،21 ہزاراساتذہ بندوبستی اور3 ہزارقبائلی اضلاع کے لیے بھرتی کرینگے،مجموعی طورپر47 ہزاربھرتیاں کرینگے،سیاحت,زراعت,بلین سونامی ٹری منصوبے, صحت, تعلیم پر فوکس کیاگیاہے،ہم نے پسماندہ اضلاع کے لیے وسائل فراہم کیے, حکومت واپوزیشن کودیکھے بغیراضلاع کوفنڈزدئیے گئے،قبائلی اضلاع کے لیے جاریہ بجٹ 38 ارب،17 ارب آئی ڈی پیزکے لیے اور24 ارب دس سالہ پروگرام کے تحت ملیں گے,قبائلی اضلاع کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 48 ارب اضافی رقم ملی جبکہ این ایف سی ایوارڈجاری ہوگاتومزیدرقم بھی ملے گی اورکے پی نے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی پروگرام کے لیے 11 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی طالبات کے لیے وظیفہ پروگرام بھی شروع کیاجائے گا،پشاور ہم سب کے لیے عزیزہے,پشاور کے لیے شہری ترقی کی مدمیں تین ارب روپے اضافی دئیے گئے ہیں, پشاورصاف کرناہے اس لیے ڈبلیوایس ایس پی کی دوسری شفٹ اوراتوارکے دن کاآپریشن شروع کیاجائے گا،ہم نے بڑے ہسپتالوں کے لیے7 ارب روپے فراہم کیے ہیں جن میں سے تین پشاورمیں ہیں،پشاور کے لیے 200 پولیس اہلکاربھرتی کرکے ٹریفک نظام درست کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی منافع صوبہ کامسلہ ہے,مرکزبقایاجات اداکرے,ماہانہ بنیادوں پرسالانہ رقم دیں,یہ رقم براہ راست رقم کے طورپرمنتقل کی جانی چاہیے،دوارب ماہانہ ملیں تواس سے مسلہ حل ہوجائے گا،ہم نے حکومت نہیں بیوروکریسی کازہن بدلناہے تاکہ مسائل جلد حل ہوں۔انہوں نے کہا کہ مرکزکے ذمے 1991کے بھی بجلی بقایاجات ہیں جو129 ارب بنتے ہیں جبکہ گزشتہ سال کے 34 ارب کے بقایاجات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مرکزکے کہنے پر45بجٹ میں ارب روپے فاضل چھوڑے جوہم استعمال کرسکتے تھے،صحت انصاف کارڈسب کوملے گاجس کے لیے شناختی کارڈکوبنیادبنائیں گے،صوبہ کے ساڑھے تین کروڑ لوگوں کو اس سے فائدہ ملے گا۔تیمورسلیمجھگڑانے کہا کہ صوبہ میں 469 ارب کاتھروفارورڈکوہم نے چھ سال سے کم کیا,ہم نے 203 ارب کاتھروفارورکم کیا،200 ارب روپے کے نئے منصوبے شامل اور40 ارب ان کے لیے مختص کیے،420 ارب کااب تھروفارورڈ3.9سال کارہ گیاہے۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو آئندہ سے فنڈز تحصیلوں اور نیبرہڈوویلیج کونسلوں کے لیے دیئے جائیں گے۔۔ صوبے کے مسائل بہت زیادہ ہیں اپوزیشن احتجاج کی بجائے بجٹ تقریرسنتے تو زیادہ بہترہوتا۔ ہمارے صوبے کی روایات کچھ اور ہیں اپوزیشن کل کس چیز پر بات کرینگے نہ کچھ سنا ہے بلکہ انکے پاس تو بجٹ کاپی بھی نہیں۔ ہم کوشش کرینگے کہ بجٹ کی کاپی کو تمام مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا بجٹ میں کسی قسم کانیا ٹیکس نہیں لگایا گیا سروسز ٹیکسز میں کمی کی گئی ہے ٹیکس کلچر کو فروغ دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ماضی میں ٹیکس کی وصولی پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔

 اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ اپوزیشن کو بجٹ سننا چاہیے تھا بجٹ سنے بغیر اپوزیشن اسمبلی میں بحث کس بنیاد پر کریں گے۔ صوبائی بجٹ صرف حجم کے لحاظ سے نہیں بلکہ ترقیاتی بجٹ اور قبائلی اضلاع کے لیے رکھے گئے 162 ارب روپے کے حوالے سے تاریخی بجٹ ہے۔ معاشی مشکلات کے باوجود یہ ایک بہترین سرپلس اور عوام دوست بجٹ ہے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پسماندہ اضلاع جیسے ٹانک چترال شانگلہ اور کوہستان کی ترقی کے لیے خصوصی طور پر 1.1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ہنگامی سروسز کی فراہمی کے لیے بجٹ میں ریسکیو 1122 کو مزید چار اضلاع تک توسیع دے دی گئی ہے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ترقیاتی بجٹ 319 ارب روپے رکھا گیا ہے جو پنجاب جیسے بڑے صوبے سے تھوڑا کم اور سندھ کے ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں قبائلی اضلاع کے لیے 83 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔