147

سیاست نامہ

چوہدری نثار علی خان نے فرمایا ہے وہ مریم نواز کے ماتحت کام نہیں کر سکتے اور اتنے سیاسی یتیم بھی نہیں کہ جونیئر کو سریا میڈم کہتے پھریں‘سابق وزیر داخلہ نہ جانے کس دنیا میں رہتے ہیں وہ ابھی تک جان ہی نہ سکے کہ یہاں تو ریت ہی نرالی ہے یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے اگر انہوں نے (ن)لیگ میں رہنا ہے تو ان کو کوئی ایسی بات نہیں کرنی جس سے ان کی پارٹی کے قائد کی ابرو پر خم پڑے یہ تو ان کے قائد کی مرضی ہے کہ جس کو وہ چاہیں اپنا سیاسی جانشین بنائیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رسم صرف (ن)لیگ نے تھوڑی ہی اپنائی ہے ایک آدھ سیاسی پارٹی کو چھوڑ کر آپ کسی ایک پارٹی کا نام لے لیں کہ جس سے آپ کو موروثیت کی بو نہ آتی ہو چوہدری نثار علی خان کے اس بیان پر بلا شبہ اس ملک کی اکثرسیاسی پارٹیوں کے سربراہان دل میں خفا ہوں گے کہ آخر انہوں نے کیوں ایسا بیان دیا ہے کہ جو ان کی دکھتی رگ پر بھی ہاتھ رکھنے کے مترادف ہے کیونکہ اگر میاں صاحب اپنے بعد اپنی صاحبزادی کو (ن) لیگ کی کمانڈ سونپنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں تو اس معاملے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی سوچ بھی میاں صاحب کی سوچ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں‘تقریباً ہر سیاسی جماعت کے قائد نے یا تو اپنے بھائی یا بیٹے اور یا کسی اور نزدیکی رشتہ دارکو اپنی اپنی پارٹی کے اندر ایسے منصب پر بٹھایا ہوا ہے کہ اگر کل کلاں ان کو عرش سے بلاوا آتا ہے تو وہ ان کی جگہ سنبھال لیں گویا سیاسی پارٹیاں نہ ہوئیں ان کی ذاتی جاگیریں ٹھہریں ہمیں ان کے نام گنوانے کی قطعاً ضرورت نہیں لوگ انہیں خود ہی اچھی طرح جانتے ہیں۔

اب ان حالات میں آپ ذرا خود فیصلہ کیجئے گا کہ اس قسم کی نام نہا د جمہوریت اور بادشاہت میں کیا فرق ہے بجز اسکے کہ ایک کانام جمہوریت ہے اور دوسری کا بادشاہت ‘چوہدری صاحب کے اس بیان سے (ن)لیگ کے اندر ایک ارتعاش پیدا ہو چکا ہے ادھر ایم کیو ایم کی موجودہ صورتحال بھی پتلی نظر آ رہی ہے یہ مکافات عمل نہیں تو پھر کیا ہے ؟ کیا کوئی کبھی یہ سوچ بھی سکتا تھاکہ یہ پارٹی ایک دن توڑ پھوڑ کا اس طرح شکار ہوگی؟ایک دور تھا جب الطاف حسین کے ایک اشارے پر اسکے جان نثار سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار بیٹھے ہوتے تھے لیکن آج ڈاکٹر فاروق ستار کو کوئی گھاس ڈالنے والا نظر نہیں آتا آج اس پارٹی کے اتنے حصے بخرے ہوچکے ہیں کہ بقول کسے کوئی ادھر گراتو کوئی ادھر گرا‘کوئی پی ایس پی کی شکل میں نمودار ہوا ہے تو کوئی ایم کیو ایم پاکستان کے روپ میں ‘ایم کیو ایم پاکستان کے اندر بھی دراڑ پڑ چکی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ فاروق ستار کس طرح اور کس حد تک اس دراڑ کو جوڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں اسکا بھی عنقریب پتہ چل جائیگا کہ لندن میں بیٹھ کر الطاف حسین کراچی میں اپنی پارٹی کے کس دھڑے کو بطور کٹھ پتلی اب تک استعمال کر رہا ہے۔

ایک انار سو بیمار کے مصداق اقتدار میں آنے کیلئے ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں سندھ میں بسنے والے اردو سپیکنگ لوگ حیران و پریشان ہیں کہ وہ ان دھڑوں میں سے کس پر یقین کریں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا جلد پتہ چل جائے گا ایم کیو ایم کے بانی مبانیوں کیلئے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس کے بانی الطاف حسین نے اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف اپنے آپ کو ڈبو دیا ہے بلکہ اپنے ساتھ اپنی پارٹی کی لٹیا بھی ڈبو دی ہے کہ جو کسی زمانے میں عوام الناس اور عام آدمی کی پارٹی بن کر ابھری تھی اگر اسکے رہنماؤں کے سیاسی لچھن ٹھیک ہوتے تو وہ صحیح معنوں میں ملک میں مڈل کلاس کی پارٹی کے طور پر اپنے قدم جما سکتی تھی لیکن لسانیت کو اپنا محور بنا کر اس نے اپنے آپ کو صرف کراچی اور حیدر آباد تک محدود کر دیا اور جو رہی سہی کسر باقی تھی وہ الطا ف حسین کے کرتوتوں نے پوری کر دی۔