82

ٹیکس :اب آن لائن

معیشت کو دستاویزی بنانے کی پہلی سنجیدہ اور اپنی نوعیت کی سب سے بڑی و منفرد کوشش آن لائن ٹیکس پروفائل سسٹم‘ عام پاکستانی کی سمجھ سے بالاتر ہے‘ جسے آسان فہم بنانے پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ ٹیکس وصولی کے سلسلے میں پہلی مر تبہ ایف بی آراورنادرا کی مشترکہ کوششوں سے جو شاہکار نظام تخلیق کیا گیا ہے‘ اس قسم کے کثیرالجہتی نظام دنیا کے کئی ممالک میں رائج بلکہ کامیابی سے قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں لیکن پاکستان میں آغاز کرتے ہوئے پہلی ہی مرتبہ اور پہلے ہی مرحلے میں ان تمام افراد کو ایک صف میں کھڑا کر دیا گیا ہے‘ جن کی آمدنی کے معلوم وسائل ان کے قومی شناختی کارڈز سے منسلک ہیں‘بیس کروڑ میں سے 5 کروڑ 30 لاکھ پاکستانیوں کی چھانٹی اسی بنیادپر کی گئی ہے‘ کہ بینک اکاو¿نٹس‘ اثاثہ جات ‘ آمدنی کے وسائل‘ یوٹیلٹی بلز اور بیرون ملک سفری تفصیلات یکجا کر کے آن لائن تعارف تشکیل دےدیاگیاہے اور مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ ان معلومات تک رسائی کی فیس 500 روپے رکھی گئی ہے!

فیصلہ سازوں کی ذہانت ملاحظہ کیجئے کہ ساڑھے پانچ کروڑ افراد سے بناءکوئی ٹیکس لاگو کئے قومی خزانے میں دو ارب روپے سے زائد سرمایہ وصول کر لیں گے‘ اور کوئی شکریئے کا ایک لفظ بھی نہیں کہے گا! بنیادی بات یہ ہے کہ اب ہر پاکستانی اپنے شناختی کارڈکے ذریعے یہ جان سکتا ہے کہ ایف بی آر کی نظرمےں اسکی مالی حیثیت کیا ہے! اکیس جون کو متعارف کئے گئے آن لائن ٹیکس پروفائلنگ سسٹم سے متعلق قوانین کا احترام کرنے والوں کی اکثریت خوف و ہراس میں مبتلا ہے جبکہ ٹیکس چوری بطورکاروباری حکمت عملی اختیار کرنے والے مطمئن ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں ماضی میں بھی اسی قسم کی مشکلات سے نکالنے کےلئے وکلاءاور خود ایف بی آر کے اہلکار حاضر جناب ملیں گے! سیاسی فیصلہ ساز جس ایک غلطی کو دہرا رہے ہیں اور جسکی وجہ سے آن لائن ٹیکس پروفائلنگ سسٹم بھی خاطرخواہ نتائج کا حامل ثابت نہیں ہوگا‘ وہ ایف بی آر کولاحق نااہلی کا مرض ہے جو پرہیز و علاج بھی چاہتا ہے اور اس وفاقی ادارے کی صفوں سے کالی بھیڑوں کو صفایا کرنے کےلئے جراحت کا بھی متقاضی ہے۔ جب تک مرض کی تشخیص و علاج کے مراحل میں خاطرخواہ دلچسپی نہیں لی جاتی‘ اسوقت تک ٹیکس وصولی کا کوئی بھی آزمودہ نظام کسی بھی نئے پرکشش نام اور تعارف و توصیف کے باوجود بھی کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ آن لائن ٹیکس پروفائلنگ سسٹم سے متعلق عمومی تحفظات غور طلب ہیں‘ جلدبازی: ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی بڑھانے کےلئے وفاقی حکومت نے ٹیکس پروفائلنگ کا نظام مرحلہ وار اور زیادہ آمدنی والے ان طبقات پر نافذ کرنے کی بجائے کم اور متوسط طبقات پر بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔

‘ جو پہلے ہی نہ صرف اپنے حصے سے زیادہ ٹیکس نہ صرف مختلف مدوں میں ادا کر رہے ہیں بلکہ ان سے یوٹیلٹی بلز میں ترقیاتی منصوبوں اور ٹیلی ویژن جیسے ادارے کی لائسنس فیس بھی جبراً وصول کی جا رہی ہے۔ لاتعلقی: آن لائن وسیلے کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں شامل ہونےوالوں کےلئے نہ تو خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی ان کی معلومات کےلئے دفاتر میں رہنمائی کا بندوبست کیا گیا ہے! خودغرضی: ذرائع ابلاغ پر تبصروں اور بحث و مباحثوں میں حکومت کی ترجمانی کرنےوالے کچھ ایسے سخت لب و لہجہ میں بات کر رہے ہیں کہ جس سے رہنمائی ملنے یا تحریک پیدا ہونے کی بجائے عوام میں خوف زیادہ پھیل گیا ہے حقیقت حال: گمراہ کن تاثر یہ بھی دیا جا رہا کہ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانےوالے چور ہیں! کیا وزیراعظم سمیت تحریک انصاف یہ غور کرے گی کہ نان فائلر پاکستانی ٹیکس چور نہیں کیونکہ اسی کے ادا کردہ ٹیکس پر حکومت چل رہی ہے! فائلرز تو ٹیکس نظام میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں‘ جو اپنی آمدنی اور اثاثہ جات بیرون ملک رکھے ہوئے ہیںجن طبقات کا جینا مرنا پاکستان میں ہے‘ ان کےلئے پاکستان سے زیادہ عزیز شے کوئی دوسری نہیں ہوسکتی! رواں ماہ جب ایوان صدر میں چڑیا گھر کےلئے کروڑوں روپے کے اشتہارات شائع ہوئے‘ اور جب ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ ایوان صدر‘ میں ہوئے محفل مشاعرہ کی ایک نشست پر تیس لاکھ روپے سے زائد خرچ کئے گئے تو حکمران کیا جواب دیں گے کہ کیا وہ ٹیکس سے حاصل ہونے والے پیسے کو صداقت و امانت کےساتھ خرچ کر رہے ہیں؟

اگر نہیں تو وہ کس منہ سے ملک کے متوسط طبقات سے ٹیکس وصولی کی بات کرتے ہیں!کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان کے ادارے کسی کے ذاتی اکاﺅنٹ سے نہیں بلکہ عوام کے دیئے ہوئے ٹیکسوں ہی سے چل رہے ہیں ‘ملک بھر میں ایوان ہائے صنعت و تجارت تو ہر دور میں ٹیکس میں چھوٹ اور رعایت کےلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ماضی کی طرح موجودہ قانون ساز قومی و صوبائی ایوانوں میں عام آدمی کا کوئی ایک بھی نمائندہ ایسا نہیں جو حکومت کی توجہ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح اور بالخصوص حالیہ چند ماہ میں آئی مہنگائی کی اس لہر کی جانب مبذول کروا سکے‘ جسکی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا ہے اور عوام جو پہلے دو وقت کی دال روٹی پر گزر بسر کر رہے تھے‘ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ گنجی دھوئے کیا اور سکھائے کیا؟گمراہ کن تاثر ہے کہ صرف ایک فیصدپاکستانی واجب الاداءٹیکس دیتے ہیں اگر حقیقت میں ایسا ہی ہوتا تو یہ ملک ہرگز نہ چل رہا ہوتا‘ نہ دفاعی اخراجات اور گردشی قرضے پورے ہو رہے ہوتے‘ عام انتخابات اور نہ ہی اراکین اسمبلیوں کی وارے نیارے ہوتے! وہ شہری جو گاڑی خریدنے‘ اسکی رجسٹریشن‘ ڈرائیونگ لائسنس‘ پیٹرول ڈلوانے‘ گاڑی چلائے یا نہ چلائے لیکن اسکے ٹوکن بھرتا ہے‘ کسی اچھی سڑک پر گاڑی لے جائے تو ٹول ٹیکس دیتا ہے اور ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے پر بھی ٹیکس ادا کرتا چلا جا رہا ہے تو کیا یہ بھی حد سے زیادہ نہیں؟ مہینہ بھر محنت مزدوری کرنے کے بعد تنخواہ پر ایٹ سورس ٹیکس کٹوانے والا‘ بنیان‘ جراب اور چپل پر ٹیکس دیتا ہے۔ ٹیلی ویژن دیکھے یا نہ دیکھے لیکن لائسنس فیس دیتا ہے‘ موبائل فون کے ہر ری چارج اور ہر فون کال پر الگ سے ٹیکس ادا کرنے والا عام پاکستانی کیا ہمدردی کا مستحق نہیں؟ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔