52

اظہار تشکر

قسمت کی دیوی کو بالآخر پاکستان کرکٹ ٹیم پر ترس آ ہی گیا‘ ورلڈ کپ کے ابتدائی پانچ مقابلوں میں صرف ایک کامیابی اور ان زخموں پر نمک چھڑکنے والی بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد‘ پاکستان کے لئے عالمی مقابلے میں جمے رہنے کے لئے جیت کے علاوہ کوئی دوسرا باعزت راستہ نہیں تھا اور ٹیم گرین نے اس ناممکن کو ممکن کر دکھاتے ہوئے‘ تیئس جون کے مقابلے میں جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے‘ یوں چھ میچوں میں صرف 2 کامیابیوں کے باوجود قومی ٹیم کے جاری ورلڈ کپ میں فتح کے امکانات اتنے ہی ہیں‘ جس قدر 1992ءکے ورلڈ کپ میں تھے!انیس سو بانوے سے 2019ءتک پاکستان کرکٹ ٹیم بہت سے نشیب و فراز دیکھ چکی ہے۔ اپنے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد اس نے ہاٹ فیورٹ میزبان برطانیہ کو شکست دی‘پھر سری لنکا کےخلاف مقابلہ بارش کی نذر ہو جانے کے بعد آسٹریلیا اور بھارت کے ہاتھوں مسلسل دو شکستیں کھائیں۔ ان دونوں ناکامیوں نے جہاں قومی ٹیم کو پوائنٹس ٹیبل پر بدترین حالت تک پہنچایا وہیں بھارت کے ہاتھوں شکست پر تو گویا آگ ہی لگ گئی! بہرحال پے در پے شکستوں کے بعد ایک زخمی شیر کا روپ دھارنے والی جنوبی افریقی ٹیم کےخلاف قومی کرکٹ ٹیم نے کسی ایک لمحے کے لئے بھی میچ کو اپنی گرفت سے نکلنے نہ دیا‘اس کامیابی میں جہاں باو¿لرز نمایاں تھے۔

‘ وہیں 300سے زیادہ کی نفسیاتی حد عبور کروانے میں حارث سہیل کا کردار اہم تھا۔ وہی حارث سہیل کہ جنہیں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں شکست کے بعد اس طرح باہر کردیا گیا‘ گویا وہ سکواڈ میں موجود ہی نہیں‘ غالباً بھارت کے ہاتھوں شکست اور اسکے بعد سخت ترین ردعمل نے ٹیم انتظامیہ کو مجبور کیا کہ حارث کو سکواڈ میں جگہ دی جائے اور انہوں نے 59گیندوں پر 3چھکوں اور 9چوکوں کی مدد سے 89رنز بنا کر اپنے انتخاب کو بالکل ٹھیک ثابت کردیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ حارث کا لگایا گیا ہر شاٹ جنوبی افریقہ کے باو¿لرز کے لئے نہیں بلکہ ان کے لئے تھا‘ جنہوں نے اسے پچھلے میچوں میں باہر بٹھائے رکھا۔ بہرحال‘ شاندار اننگ کےساتھ حارث سہیل ثابت کر چکے ہیں کہ پاکستان کو ورلڈ کپ میں واپس آنے کے لئے ان کی سخت ضرورت ہے!پاکستان کی قسمت ملاحظہ کریں کہ جنوبی افریقہ کےخلاف اہم ترین مقابلے میں اسی بلے باز نے مشکل سے نکالا جسے پچھلے کئی میچوں سے نظر انداز کیا جارہا تھا اور باو¿لنگ میں بھی اب تک وہی باو¿لرز چل رہے ہیں جو ورلڈ کپ کے لئے ابتدائی سکواڈ کا حصہ نہیں تھے یعنی عامر اور وہاب ریاض۔ذرا تصور کیجئے کہ پاکستان اپنے اصل پلان کے مطابق ورلڈ کپ کھیل رہا ہوتا تو اس وقت کہاں ہوتا؟ خیر‘ کامیابی ایک سیاہ کپڑے کی مانند ہوتی ہے جس پر لگنے والے بیشتر داغ سرے سے نظر ہی نہیں آتے جبکہ ناکامی ایسی ہوتی ہے ۔

جیسے ایک سفید کپڑے پر لگنے والا ایک معمولی سا دھبہ بھی سب کو نمایاں نظر آتا ہے۔ اس لئے پاکستان کی جنوبی افریقہ کےخلاف کامیابی میں ہوسکتا ہے ہمیں چند مایوس کن پہلو نظر نہ آئیں لیکن اس میچ میں بھی پاکستان کی فیلڈنگ ناقابل برداشت حد تک خراب تھی۔ ورلڈ کپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی روایتی سخاوت کے فیلڈنگ میں مظاہرے جنوبی افریقہ کےخلاف بھی جاری رہے‘ جس میں انہوں نے کم از کم پانچ کھلاڑیوں کو آو¿ٹ کرنے کے یقینی مواقع ضائع کئے۔ لمحہ بھر کے لئے سوچئے کہ یہ سارے آسان مواقع ضائع نہ ہوتے توکیا ورلڈ کپ کا پوائنٹس ٹیبل اس وقت کافی حد تک بدلا ہوا نہ ہوتا؟ ایک ایسے ٹورنامنٹ میں جہاں دیگر ٹیموں کے کھلاڑی ہاف چانسز پر بھی جان لڑا رہے ہیں اور ناقابل یقین کیچز تھام کر اپنے ملک کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں‘ وہاں پاکستان کی یہ نااہلی اسے ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے لئے کافی ہوگی۔ بہرحال جنوبی افریقہ کا جس قدر شکریہ ادا کیا جائے‘ اتنا ہی کم ہوگا‘ جس نے پاکستان کے خلاف حسب روایت کھیل پیش نہ کر کے ایک مشکل وقت میں ساتھ دیا بلکہ ورلڈ کپ درجہ بندی میں پاکستان کو کچھ بلند بھی کیا ہے تو جب کبھی موقع ملا پاکستان کرکٹ ٹیم اس احسان کا بدلہ بمعہ سود ادا کر دے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔