116

ممنوعہ بور کا اسلحہ

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ممنوعہ اور غیر ممنوعہ بور کی دو کروڑ سے زائد بندوقیں موجود ہیں‘ ہر ایک ہزار لوگوں میں سے ایک سو سولہ بندوں کے پاس کوئی نہ کوئی اسلحہ موجود ہے‘ پاکستان اسلحہ رکھنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے‘ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ روزانہ ملک بھر میں تقریباً سات افراد گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں ایک سابق وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس نے ایک سال میں ستر ہزار ممنوعہ بور کے اسلحہ کے لائسنس جاری کئے حالانکہ اس سے قبل سال بھر میں زیادہ سے زیادہ دس ہزار لائسنس ایشو ہوتے تھے ان اعدادو شمار کا مطلب ہے کہ پاکستان بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا ہے تبھی معمولی سی بات پر روز کوئی نہ کوئی بھڑک کر کسی نہ کسی کو ماردےتا ہے ‘ہمارے حکمران ‘کیا سابقہ اور کیا موجودہ گفتار کے کافی غازی ہیں لیکن کردار کے بالکل نہیں ‘ ماضی میں بھی ہم نے ان کے منہ سے سنا ہے اور اب بھی سنتے ہیں کہ و ہ ملک سے جرائم اور دہشت گردی کاخاتمہ کرکے ہی دم لیں گے لیکن نہ جانے ان کے ذہن میں یہ بات کیوں نہیں سماتی کہ جب تک ہمارے معاشرے میں جدید ترین آٹو میٹک ممنوعہ بور کے اسلحہ کے انبار موجودرہیں گے قتل و غارت کا قلع قمع کیسے ہو گا؟

ان سے تو نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم جےسنڈا آرڈرن ہی بھلی نکلیں جب گزشتہ مارچ میں نیوزی لینڈ کے ایک جنونی کے ہاتھوں مسجد مےں ممنوعہ بور کے ہتھیار سے 51 مسلمانوں کاقتل عام ہوا تو انہوںنے اعلان کر دیا کہ وہ نیوزی لینڈ کے اسلحہ قوانےن میںانقلابی ترامیم کرنے والی ہیں اور انہوں نے صرف تین ماہ کے اندر اپنا یہ وعدہ پورا کر دکھایا ‘ نیوزی لینڈ کے معاشرے سے ممنوعہ بور کے اسلحہ کے خاتمے کے لئے انہوں نے ایک ایمنسٹی سکیم کا اعلان کر ڈالا اورنیوزی لینڈ کے ان تمام باشندوں کو جن کے پاس آٹو میٹک اسلحہ بمعہ آرمز لائسنس موجود ہے کو حکم دے دیا کہ وہ انہیں چھ ماہ کے اندر حکومت کے حوالے کر دیں اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا ‘ اسلحہ جمع کرانے والوں کو حکومت اس اسلحہ کے جمع کرانے کے عوض مناسب قیمت ادا کرے گی لیکن اگر انہوں نے حکم عدولی کی اور اسلحہ جمع نہ کرایا تو پھر گرفتار ہونے پر ان کوپانچ برس قیدکی سزا دی جا سکتی ہے‘ مزہ آ گیا ناں! اس کوکہتے ہیں حکومت اور اس کی رٹ ‘اپنے ہاں تو کسی حکمران یا پارلیمنٹ کے کسی رکن کو خدانے یہ توفیق ہی نہیں دی کہ وہ معاشرے میںموجود جدید ترین آٹو میٹک اسلحہ کے انبار کا قلع قمع کرنے کے لئے کوئی انقلابی قانون سازی کریں۔

وہ تو الٹا عوام پر اپنا رعب اور دھاک بٹھانے کے لئے ایک نہیں کئی کئی مسلح باڈی گارڈز اپنے ساتھ پھراتے ہیں جو جدید ترین اسلحہ سے لیس ہوتے ہیں بلکہ اس اسلحہ کو لہراتے بھی ہیں‘ جب بھی وہ اپنے حلقہ انتخاب میں جاتے ہیں جلوس کی شکل میں‘ تو ان کے باڈی گارڈز خوشی میں ہوائی فائرنگ کرتے ہیں جیسا کہ وہ کشمیر کوفتح کرکے لوٹے ہوں‘ اس ملک میں نہ تو ہوائی فائرنگ پر کسی کا کنٹرول ہے اور نہ ہی ان کے آرمز لائسنس جاری کرنے پر‘حکومت بااثرلوگوں کوآرمز لائسنس جاری کرکے خود جرائم کے پھیلاﺅ کی مرتکب ہو رہی ہے‘ ممنوعہ بور کے لائسنس دار اسلحہ کا ریکارڈ تو حکومت کے پاس موجود ہے اس اسلحہ پر تو کریک ڈاﺅن فوراً کیا جا سکتاہے او ر نیوزی لینڈکی حکومت کے تازہ ترین مندرجہ بالا اقدام سے سبق لیا جا سکتا ہے‘ اس کے علاوہ پاکستان میں ایک اکثریت کے پاس بغیر لائسنس کے بھی کافی ممنوعہ بورکا اسلحہ موجود ہے اس کی ریکوری کے لئے بھی ایک آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے‘ ماضی میں بعض حکومتوں نے نیم دلانہ آپریشن کلین اپ ضرور کئے لیکن ان کو آدھے راستے میں سیاسی بااثر لوگوں کے دباﺅ کے نیچے آ کر معطل یا ترک کر دیاگیا اس طرح تو حکومتیں نہیں چلائی جاتیںاور نہ اس قسم کی نرم پالیسیوں سے ملک کا امن عامہ بہتر ہوسکتا ہے۔

 جن مغربی ممالک میں آج تک اسلحہ رکھنے پر کوئی خاص پابندی نہ تھی آج ان کو بھی یہ احساس ہو چلا ہے کہ اس ضمن میں مادر پدر آزادی ان کے معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے چنانچہ انہوں نے اب اسلحہ خصوصی طور پر آٹو میٹک اسلحہ کے لائسنس دینے بند کرناشروع کر دئیے ہیں ہمارے ہاں حکومتیں ہر نتھو خیرے ہما شما کواس قسم کی خصوصی پرمٹ جاری کرتی آئی ہیں اگر کوئی واقعی دشمن دار ہے اور اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنا چاہتا ہے تو بے شک اس کو آرمزلائسنس جاری کیا جائے لیکن وہ غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ کا ہو اور اسے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اپنی پوری تسلی کرنے کے بعد جاری کرے‘ نیز ہر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے لئے ماہانہ اس قسم کے لائسنس جاری کرنے کا ایک فکسڈ کوٹہ مقرر کیا جائے ‘گن کنٹرول آج اس ملک کے لئے اتنا ہی ضروری ہے کہ جتنا منشیات کے استعمال پر کنٹرول لازمی ہے‘ اس سے روزانہ کئی بے گناہ لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں آخر یہ پارلیمانی ارکان کس مرض کی دواہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔