59

پاکستان نے دہشت گردی کی لہر کا رخ موڑ دیا‘ شاہ محمود قریشی 

برسلز۔ وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے عظیم جانی ومالی قربانیاں دے کر دہشت گردی کی خوفناک لہر کا رخ موڑ   دیا،  دہشت گردی اور انتہاپسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پاکستانی قوم پرعزم ہے۔

   پاکستان امن، تحمل اور پرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے، بھارت نے پاکستان پر باربار دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کئے، ہمارے خلاف دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے بھی سنجیدہ امور  ہمارے علم میں ہیں، ہم جنوبی ایشیاء میں تزویراتی ضبط وتحمل کے نظام کے حامی ہیں۔

 افغانستان میں بھارت کی بڑھتی سٹرٹیجک مداخلت پاکستان کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کررہی ہے، جموں وکشمیر، اپنی جگہ ایک اور ایسا تنازعہ ہے جو جنوبی ایشیامیں پائیدار امن وسلامتی قائم ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہے، پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کو سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت فراہم کررہا ہے،بھارت کشمیریوں کی مقامی اور قانونی طورپر جائز جدوجہد کو دہشت گردی کے ذریعے دبانے کی کوشش کررہا ہے۔

 طاقت کے بہیمانہ استعمال کے نتیجے میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں ہورہی ہیں، دہائیوں کے تنازعہ کے بعد بھی افغانستان میں امن کا خواب ادھورا ہے،   افغانستان میں عدم استحکام کا پاکستان کی سلامتی اور استحکام پر براہ راست اثر پڑتا ہے، پاکستان مذاکرات کے ذریعے افغان تنازعہ ختم کرنے کا آرزو مند ہے، اس کا کوئی فوجی حل نہیں۔

  ایران میں کسی قسم کے عدم استحکام کے پاکستان کی سکیورٹی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔یورپی یونین کی سیاسی وسلامتی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے  وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا  اس اہم فورم میں آج موجودگی اور علاقائی سلامتی پر پاکستان کا نکتہ نظر پیش کرنا میرے لئے باعث مسرت ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ اور دفاعی حکمت عملی تشکیل دینے میں چونکہ کمیٹی کا نمایاں کردار ہے۔

 اس لئے مجھے پوری امید ہے کہ آج کی اس نشست میں، میں آپ کو جنوبی ایشیاکے خطے کے سیاسی وسلامتی کے مضمرات سے مزید آگاہ کرسکوں۔ میرے لئے یہ امر بھی نہایت خوشی کا باعث ہوگا کہ میری معروضات کو سماعت فرمانے کے بعد آپ کے ذہن میں ابھرنے والے سوالات کا میں جواب دے سکوں۔  اس سے قبل کہ اس موضوع پر میں اپنی بات کا آغاز کروں، مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ پاکستان یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔ 

یورپی یونین نہ صرف پاکستان کا ایک روایتی حلیف ہے بلکہ ایک معاشی شراکت دار بھی ہے۔ ہمارا تعاون جمہوریت، کثیرالشراکتی، باہمی ہم آہنگی اور احترام کی مشترک اقدار پر مبنی ہے۔ 

یہ امر باعث اطمنان ہے کہ تمام شعبہ جات میں ہمارے تعلقات مثبت سمت میں مستحکم طورپر فروغ پارہے ہیں۔   انہوں نے کہا آپ سب بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں آج ایک اہم  دن ہے۔ یورپین یونین کی اعلی نمائندہ فیڈریکا موغرینی اور میں سٹرٹیجک اینگیجمنٹ پلان پر دستخط کریں گے۔