165

ڈالر کی اڑان اور مہنگائی

وطن عزیز کی کھربوں روپے کے اندرونی وبیرونی قرضوں تلے دبی معیشت میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے‘ سونے کے نرخ تاریخی حدوں تک جا پہنچے ہیں‘ نئے مالی سال کے آغاز سے پہلے ہی بجٹ میں اعلان کردہ ٹیکسوں کے اثرات مارکیٹ پر مرتب ہو چکے ہیں‘ بجلی اور گیس کے ٹیرف مسلسل بڑھتے چلے جارہے ہیں‘ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں آئے روز کے اضافے نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا رکھا ہے‘ اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ متاثر غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہری ہوتے ہیں‘ وہ تنخواہ دار ملازمین گرانی کے ہاتھوں پریشانی کا شکار ہیں کہ جن کی تنخواہیں بڑھانے کیلئے افراط زر سے جڑا کوئی قاعدہ کلیہ موجود ہی نہیں‘اس عام شہری کو اقتصادی اعشاریوں میں بہتری ‘زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور سٹاک ایکسچینج میں تیزی سے کوئی غرض نہیں‘ وطن عزیز کا عام شہری ان حالات کا ذمہ دار نہیں ہے کہ جن میں یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنیوالی حکومتوں نے قرضوں کے والیوم بڑھائے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب ایک قرضے کی قسط ادا کرنے کیلئے دوسرا قرضہ لیاجارہا ہے‘کل کے منافع بخش ادارے آج ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کیلئے بیل آﺅٹ پیکج لے رہے ہیں۔

ان شہریوں کو مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کے فقدان جیسے مسائل سے نکالنا ضروری ہے‘ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے حکومتی کاوشیں اپنی جگہ‘ ضرورت عام شہری کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اقدامات کی ہے‘ جن میں مارکیٹ کنٹرول اور شہری سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح کی متقاضی ہیں‘ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ محمود خان نے گزشتہ روز انتظامیہ کو گرانفروشی اور ملاوٹ کے خلاف کاروائی جاری رکھنے اور سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے‘ وزیراعلیٰ کی ہدایات کا ثمر آور ہونا ان پر عملدرآمد کے فول پروف انتظامات سے جڑا ہوا ہے‘ مارکیٹ کنٹرول ایک فل ٹائم جاب ہے‘ ماضی کے مجسٹریسی نظام میں مجسٹریٹ یہ ذمہ داری پوری کرتے تھے‘ اب فوڈ اتھارٹی‘ محکمہ خوراک اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کاروائیاں کرتی ہیں‘ مارکیٹ کی صورتحال کا تقاضا ہے کہ سرکاری مشینری کے وسائل اور افرادی قوت یکجا کی جائے اور ساری کاروائیوں کو مربوط بنایاجائے‘ اداروں کے درمیان باہمی رابطے کو یقینی بنایاجائے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ لی جائے۔

دسویں کا نتیجہ اور داخلے

پشاور کے تعلیمی بورڈ نے دسویں کے نتیجے کا اعلان کردیا ہے‘ کسی بھی تعلیمی بورڈ یا یونیورسٹی کے نتائج اعداد وشمار کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کے عکاس ہوتے ہیں‘ اسی سے اداروں میں اصلاحات وبہتری سے متعلق اعلانات ‘ اقدامات اور ان پر عملدرآمد کے درمیان فاصلوں کا پتہ چلتا ہے‘ اسی تناظر میں ہمارے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کو اپنے لئے اہداف کا تعین کرنا ہوگا‘ صوبے میں تعلیمی بورڈز کے نتائج مکمل ہونے کیساتھ کالجوں میں داخلے کا مرحلہ والدین کیلئے انتہائی دشوار ہوتا ہے‘ امتحانی نتائج کے اعداد وشمار کی روشنی میں ضرورت انٹر کے داخلوں میں گنجائش پیدا کرنے کی ہے‘ ضروری یہ بھی ہے کہ پرائیویٹ کالجوں کا معیار دیکھاجائے اور نظر اس بات پر بھی رکھی جائے کہ فیسوں کی شرح مناسب ہو‘ کالجوں میں داخلے کیلئے دستاویزات کی تیاری میں بھی سہولیات فراہم کرنے کیلئے خصوصی اقدامات ناگزیر ہیں۔