92

پیرس میں تھنڈر کی اڑان

پیرس ائیرشو اپنی نوعیت کا سب سے بڑا شو ثابت ہوا جس میں دنیا بھر سے اڑھائی ہزار کے قریب مصنوعات نمائش کیلئے پیش کی گئیں ‘اس نمائش کو دیکھنے کیلئے ایک لاکھ چالیس ہزار ایسے افراد نے رجوع کیا جو ہوا بازی‘ہوائی جہازوں یا متعلقہ صنعتوں سے وابستہ ہیں‘ انکا تعلق فرانس کے علاوہ 185 ممالک کی مختلف کمپنیوں اور اداروں سے تھا جبکہ ایک لاکھ چھہتر ہزار عام شہریوں نے نمائش دیکھی اور مختلف طیاروں و دیگر آلات میں دلچسپی لی پیرس کے نواح میں لی بورگی ائرپورٹ پر منعقد ہونیوالے اس ائےرشو اور نمائش میں پاکستان اور پاکستانیوں کیلئے دلچسپی اور فخر کی بات پاکستان اےروناٹیکل کمپلیکس میں چین کے فنی تعاون سے تیار کردہ جے ایف17 تھنڈر طیارے کے بھرپور مظاہرے اور پسندیدگی سے ہے‘ ویسے تو اس نمائش میں طیارہ ساز کمپنیاں اور ممالک اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کرنے اور ان کی کارکردگی اور صلاحیتوں سے دنیا کو روشناس کرانے کیلئے شرکت کرتے ہیں مگر پاکستان ائےرفو رس کا شاید مقصد فرانس کے تیار کردہ رافیل طیارے سے موازنہ اور مقابلہ تھا جو بھارت نے خرید رکھے ہیں اور اس کا دعویٰ ہے کہ ان طیاروں کےساتھ وہ پاکستان ائےرفورس پر برتری حاصل کرسکے گا‘بھارت کے پاس جانے اور بھارتی پائلٹوں کے ہاتھوں استعمال کی تو بات ہی دوسری ہے‘فرانس میں‘ فرانسیسی پائلٹ بھی اس جدید طیارے کی صلاحیتوں کو ہمارے جے ایف 17تھنڈر کے مقابلے میں بہتر نہ دکھا سکے‘ ویسے تو یہاں امریکہ کے جدید تر ایف35سمیت سینکڑوں جنگی ‘مسافر اور کارگو جہاز نمائش میں موجود تھے مگر فضائی مظاہرہ صرف ان ہی دو طیاروں نے کیا۔

اس قسم کے کرتب اور خطرناک سٹنٹ دراصل جہاز سے زیادہ ہوا باز کے فنی جوہر اور صلاحیت کا مظاہرہ ہوتے ہیں اور پاکستان کے شاہین صفت ہوا بازوں کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ اکثر اوقات کم اوصاف کے حامل طیاروں سے بھی زیادہ مہارت کےساتھ کام لے لیتے ہیں جے ایف17تھنڈر اور پاکستان کے پائلٹوں کا امتزاج تو امن اور جنگ‘دونوں صورتوں میں اپنی اعلیٰ کارکردگی کی داد حاصل کرچکا ہے پاکستان میں یوم پاکستان کی پریڈ ہو یا ائےرفورس اکیڈمی کی پاسنگ آﺅٹ پریڈ یا سعودی عرب اور دبئی میں مظاہرے ہر جگہ ناظرین اورشائقین کو حےران کرنے کے بعد 27فروری کو بھارت کی جسارت کے جواب میں حملہ اور بھارتی طیاروں کو مارگرانے کے عملی مظاہرے دنیا دیکھ چکی ہے کہ یہ ایک ناقابل گرفت شاہین ہے جو فضاﺅں میں داخل ہوا ہے اور بھارت نے تو اعلانیہ اعتراف کرلیا تھا کہ ہمارے پاس جے ایف17تھنڈر کا توڑ نہیں ہے اور اسکا جواب دینے کیلئے فرانس کا رافیل طیارہ لارہے ہیں شاید یہی نفسیاتی برتری کا احساس تھا جس نے پاکستان ائےرفورس کو پیرس کے ائےرشو میں رافیل کے مقابل دیکھنے کیلئے اپنے تھنڈر کو لانے کا فیصلہ کیا اور دنیا نے دیکھا کہ سبز ہلالی پرچم سے مزین تھنڈر نے شائقین اور ناظرین کےساتھ ماہرین کو بھی اپنے سحر میں جکڑ لیا‘ جے ایف17تھنڈر کےساتھ چین کے فنی تعاون کا لاحقہ لگا ہوا ہے اور دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ چین کی مصنوعات کےساتھ ناپائیداری کا الزام بھی مستقل نتھی ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ ہر طرح کی صنعتی ترقی کے باوجود چین کوئی اچھی گاڑی بھی دنیا کو نہیں دے پایا اسلئے جے ایف تھنڈر کو بھی حیرانگی کے ساتھ دیکھا جاتا ہے کہ یہ چین کا تیار کردہ ہے مگر یہ غلط فہمی دور کرنے کیلئے ایسی نمائشوں میں کرتب دکھانے والے طیارے کو پاکستانی پرچم میں رنگ کر اسے مجسم پاکستان بنادیاگیا‘پیرس ائےرشو میں پاکستان نیوی نے بھی شرکت کی اور اپنے ATR-72 ائےرکرافٹ کو نمائش کیلئے پیش کیا یہ ٹرانسپورٹ اور پٹرولنگ کیلئے استعمال ہوتا ہے اس میں جدید ریڈار اور آلات نصب ہیں جو سمندر کے نیچے کی حرکات سے بھی آگاہ رکھتے ہیں اس ائےرکرافٹ کو یہاں لانے کا مقصد یہ تھا کہ پاک بحریہ بھی جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس ہے اور دشمن کی خبر لینے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں تک اس نمائش کا کاروباری پہلو ہے تو طیاروں کی خرید کے معاہدوں کے لحاظ سے بھی یہ ایک ریکارڈ ہے یہاں140 ارب ڈالر کے سودے ہوئے سب سے زیادہ ائےربس کمپنی نے700 جہازوں کے سودے کئے فرانس کے رافیل جنگی جہاز کا سودا بھارت نے پہلے ہی کر رکھا ہے ورنہ اس طےارے نے جے ایف17تھنڈر کےساتھ مقابلے میں جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے شاید یہ دیکھ کر بھارت یہ فیصلہ نہ کرتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔