57

اے پی سی‘حکومت خوش‘عوام مایوس

معاشی ٹائی ٹےنک سونامی کی زد میں ہے ڈالر کو ایسے پر لگے ہیں کہ پرواز بلند ہوتی جارہی ہے‘ گیس اور بجلی کے نرخ بڑھ گئے ہیں اور یہ بجٹ پرعملدرآمد سے پہلے کی حالت ہے بجٹ کے بعد کیا ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں مگر اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس میں عوام کی ان مشکلات کا کوئی ذکر یا حوالہ نہیں‘ موجودہ سیٹ اپ بلکہ پارلیمانی تاریخ میں مثالی غیر جانبداری اور سب کیساتھ مساوی سلوک کرنےوالے ہردلعزیز چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ اپوزیشن کی ناکامی کا ایک اعلان ہے کیونکہ وہ حکومت یا وزیراعظم کےخلاف کچھ نہیں کرسکے نہ ہی سپیکر قومی اسمبلی کو ہٹانے کی جرات کر سکے مگر چیئرمین سینٹ کو ہدف بنانے کا مضحکہ خیز فیصلہ کرلیاحالانکہ وہ حکومتی پارٹی کے امیدوار نہیں تھے بلکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے جبکہ تحریک انصاف نے ان کو ووٹ دیا تھا اس طرح اب اپوزیشن پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو ہٹانے پر آگئی ہے‘یہ بات طے ہے کہ صادق سنجرانی کو ہٹانے سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا حالانکہ ابھی اپوزیشن نے اپنی گنتی پوری نہیں کی شاید یہ بھی اتنا آسان نہ ہو مگر اپوزیشن کی نیت آشکار ہو گئی ہے۔

 اے پی سی کے میزبان مولانا فضل الرحمن خود پارلیمنٹ سے باہر ہیں اور روز اول سے ہی اپوزیشن کو مستعفی ہونے کا کہہ رہے ہیں ‘ اگر اے پی سی کا اعلامیہ دیکھا جائے تو اپوزیشن کے تضاد کے علاوہ عوامی دلچسپی کا کوئی نکتہ شامل نہیں نہ ہی مہنگائی پر کسی احتجاج کا اعلان کیا گیا زیادہ زور ذاتی مسائل پر دیا گیا اسلئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اے پی سی کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے‘ میزبان مولانا فضل الرحمن کی کوئی خواہش بھی حمایت یا تائید حاصل نہ کر سکی حتیٰ کہ رمضان کے بعد جس تحریک کا شور تھا وہ بھی فی الحال حج اور عید قربان کے بعد تک ملتوی ہوگئی ہے‘اگر اسوقت تک اپوزیشن جماعتوں کے مفادات میں کوئی ٹکراﺅ نہ آیا تواسوقت اپوزیشن کی طرف سے عوام کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کرنے سے عام شہری مکمل طورپر حکومت کے رحم وکرم پر آگیا ہے‘ ایک امید لگی تھی کہ اپوزیشن کے اتحاد سے حکومت پر کوئی دباﺅ آئے گا کوئی ٹیکس واپس ہونگے اور متوقع مہنگائی کو لگام ڈالی جاسکے گی مگر اپوزیشن کی دلچسپی اور ترجیحات میں یہ تھا ہی نہیں‘قومی اسمبلی میں حکومت کے وزیر نے بجٹ پر بحث سمیٹی اور مرحلہ وار منظوری لینی شروع کردی جس کی مزاحمت کے لئے اپوزیشن نہ ہونے کے برابر تھی‘یہ ایک روایت رہی ہے کہ اپوزیشن اس موقع پر کٹوتی کی تحریکیں پیش کرتی ہے یہ پہلا موقع تھا کہ بجٹ منظوری کے پہلے دن اپوزیشن نے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی‘یہ حکومت کی کامیابی سمجھی جاتی ہے مگر موجودہ صورتحال میں یہ عوام کی ناکامی ہے کہ انکی نمائندگی کرنے کو کوئی موجود نہیں تھا۔

دوسری طرف حکومت کی ایمنسٹی سکیم پر بھی آخری دنوں میں مثبت ردعمل دیکھنے کو آرہا ہے ایک رپورٹ کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں نے ایک ہزار ارب کے مساوی اثاثے اور دولت ظاہر کی ہے جبکہ اندرون ملک بھی تیزی آرہی ہے اب دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ حکومت کی توقع کے مطابق ٹیکس جمع ہوں تاکہ مستقبل میں تو بہتری کی امید برقرار رہ سکے‘اے پی سی میں اپوزیشن نے اپنی عزت بچانے کیلئے چیئرمین سینٹ کو تبدیل کرنے کا اعلان تو کردیا ہے مگر یہ بھی ابھی تک غیر یقینی ہے ان کالموں میں پہلے لکھاگیاتھا کہ اصل تنازع اس بات پر ہوگا کہ کون چیئرمین سینٹ بنایا جائے اسوقت مسلم لیگ ن سینٹ میں بڑی پارٹی ہے اس کا جائز حق ہے کہ اس کو یہ عہدہ ملے جبکہ آصف زرداری نے (مذاق میں ہی سہی) یہ کہہ کر کہ وہ خود چیئرمین سینٹ بنیں گے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنا امیدوار ضرور لائیں گے‘ کہا جارہا ہے کہ اتحاد اور اتفاق برقرار رکھنے کیلئے اب بھی بلوچستان سے ہی چیئرمین لایا جائیگا جبکہ اے پی سی میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ موجودہ چیئرمین سینٹ کا قصور کیا ہے اور اندر کی بات ہے کہ مسلم لیگ ن کے سینیٹرز اسکے حق میں ہی نہیں کہ صادق سنجرانی کو ہٹایا جائے کیونکہ یہ ہرموقع پر اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلے ہیں اور مسلم لیگیوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ ماضی کے دو تجربات کی طرح اب بھی زرداری ہاتھ کر جائیں گے اور مسلم لیگ دیکھتی ہی رہ جائے گی جب اس پر بات آگے چلے گی تو پھر جزئیات بھی سامنے آئیں گی اور اگر مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں رائے لی گئی تو صورتحال زیادہ واضح انداز میں سامنے آئے گی بہرحال اپوزیشن نے عوام سے یکجہتی ظاہر کرنے کا ایک بڑا موقع کھودیا ہے صرف ذاتی مسائل اور مفادات کیلئے اکٹھے ہونے اور عوام کو حکومت کے آگے بے آسرا چھوڑنے سے مایوسی ہی پھیلی ہے حکومت کیلئے بھی یہ اے پی سی بے ضرر ہی ثابت ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔