695

کارکردگی کا فقدان!

سیاسی تاریخ کے تاریک ابواب گواہ ہیں کہ پاکستان میں ’عام انتخابات‘ کبھی بھی سوفیصد ایماندارانہ نہیں رہے تو جہاں انتخابات ایماندارانہ نہ ہوں وہاں منتخب ہونے والوں کیسے امانت و دیانت کے کسی کم سے کم معیار پر بھی پورا اُتر سکتے ہیں! مثالی اور روشن سیاسی قیادت صرف اُسی صورت حاصل ہوگی‘ جبکہ عام انتخابات بھی مثالی اور روشن ہوں‘ سیاست دانوں کے رویئے اور سیاسی کارکنوں میں پائے جانے والے اختلافات اگر تنازعات کی صورت اختیار کرتے ہیں تو درحقیقت اِس سے مایوس کن صورتحال جنم لیتی ہے‘ جو کسی بھی صورت تعمیری نہیں‘ ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور وغوغا اٹھنا بھی ایک الگ سے معمول ہے‘ جو کچھ زیادہ غلط اور بیجا بھی نہیں کیونکہ جب کبھی معاملات الیکشن ٹربیونل میں گئے تو کئی جیتنے والوں کو ’ڈی سیٹ‘ کرکے دوبارہ الیکشن کرائے گئے‘ ہمیں شفاف عام انتخابات کی ضرورت ہے لیکن اِن کا ممکنہ انعقاد کیلئے خاطرخواہ الیکشن کمیشن کے پاس عملے کی کمی اور تربیت کے فقدان جیسے کئی عذر ہوں گے مگر اس سے نتائج تبدیل ہوتے ہیں تو حلقے کے لوگوں کے ساتھ زیادتی اور دوبارہ الیکشن ہونے سے قومی خزانے سے مالی وسائل کا ضیاع ہوتا ہے لہٰذا ایسے عذر قابل قبول نہیں ہوسکتے‘ کبھی گن پوائنٹ اور کبھی عملے کو ساتھ ملا کر دھاندلی کے شواہد سامنے آچکے ہیں‘ تحریک انصاف نے دوہزارتیرہ کے عام انتخابات میں منظم دھاندلی کے الزامات لگائے مگر وہ ’جوڈیشل کمیشن‘ کے سامنے اپنے اِس الزام کی صداقت کے ثبوت پیش نہ کرسکے‘ ۔

دوہزارتیرہ کے عام انتخابات کے نتائج پر بڑی اکثریت سے جیتنے والی نواز لیگ سمیت تمام قابل ذکر پارٹیوں کو تحفظات تھے‘ ضرورت اِس امر کی ہے کہ صرف قومی اداروں کا وجود ہی نہ ہو بلکہ اُن کی کارکردگی بھی ظاہر ہونی چاہئے بالخصوص ’الیکشن کمیشن‘ کی کارکردگی اس قدر قابل اعتماد ہو کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو عام انتخابات کے نتائج پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے‘الیکشن کے حوالے سے کسی کو تحفظات اور اعتراضات ہوں تو الیکشن کمیشن انہیں دور کرنے کی کوشش کرے مگر الزامات اور حالات پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے‘ اگر الزامات لگائے جاتے ہیں تو الزام لگانے والا انہیں عدلیہ میں ثابت کرے‘ جھوٹے الزامات پر عدالت کاروائی کرنے کی مجاز ہوتی ہے‘ اس طرح ہی بیجا الزامات کی روایت ختم ہو سکتی ہے‘ بروقت اور شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا اختیار ہے تاہم الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کیلئے دیگر اداروں کی ضرورت پڑتی ہے‘ ہمارے ہاں الیکشن کمیشن پر حکومتوں کے دباؤ کے شواہد بھی سامنے آچکے ہیں‘ بروقت اور شفاف انتخابات کیلئے چیف الیکشن کمشنر کے منصب پر مضبوط شخصیت کا ہونا ضروری ہے۔

بلدیاتی انتخابات کتنے سال مؤخر ہوتے رہے؟ یہ اس دور کے الیکشن کمیشن کی کمزوری تھی‘ سپرئم کورٹ سخت احکامات جاری نہ کرتی تو آج بھی شاید ملک بلدیاتی اداروں کے بغیر چل رہا ہوتا اور پھر مردم شماری بھی عدالت عظمیٰ کے سخت رویئے کے باعث ہی ممکن ہوسکی تھی‘ دوہزارتیرہ کے عام انتخابات کو الیکشن کمیشن کے کئی غیرذمہ دارانہ اقدامات کے باعث بھی متنازعہ قرار دیا گیا‘ کئی بیلٹ پیپرز پر ووٹرز کے انگوٹھوں کے نشانات نہیں تھے‘ الیکشن کمیشن کے موجودہ سیٹ اپ کی کارکردگی اور کام کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ آئندہ ’’آزاد و شفاف انتخابات‘‘ کرانے کی پوری صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہے‘ عدلیہ کے فیصلوں سے قبل مقدمات کی سماعت کے دوران فاضل جج صاحبان کے ریمارکس بھی بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں‘ ماہرین تو اِن ریمارکس کے پیچھے چھپے حتمی فیصلے تک اخذ کرلیتے ہیں‘ پاکستان کے موجودہ اور جاری ’سیاسی انتشار کی سی کیفیت‘ میں ہر صوبے کی حکومت کی کارکردگی میڈیا میں زیربحث ہے‘ ملک کا کوئی ایک صوبہ بھی ایسا نہیں جہاں جمہوریت کے ثمرات سے عام آدمی (ہم عوام) کی زندگیوں میں بہتری آئی ہو‘یکساں اہم ہے کہ عدلیہ کو اپنے فیصلوں کے ذریعے بولنا چاہئے‘ مالی و انتظامی بدعنوانوں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور نشان عبرت بنائے بغیر ہر حربہ ناکافی اور ناکام ہونے کے علاؤہ ’ہر تدبیر بھی الٹی‘ ہی ثابت ہوگی۔