133

نیا مالی سال اور گیس کے نرخ

یکم جولائی کو مالی سال2019-20ءکا آغاز ہوگیا ہے جس کے ساتھ بجٹ میں عائد کئے گئے اربوں روپے کے ٹیکس لاگو ہوچکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وطن عزیز میں میزانیے کے اعلان کیساتھ ہی مارکیٹ میں وہ اشیاءمہنگی ہوگئی ہیں کہ جن پر ٹیکس عائد ہونے میں ابھی وقت باقی تھا‘ اس عرصے میں گرانی کے ذمہ داروں نے کتنا اضافی کمایا یہ الگ چیپٹر ہے نئے مالی سال کے پہلے روز حکومت کی جانب سے سوئی گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان بھی کر دیاگیا، اس ضمن میں مہیا تفصیلات کے مطابق100 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے گیس کی قیمت300 روپے رکھی گئی ہے، یہ قیمت پہلے127 روپے تھی اسی طرح مختلف بلوں کیلئے علیحدہ علیحدہ شرح کیساتھ قیمتیں بڑھائی گئی ہیں‘ سی این جی سے متعلق بتایا جاتاہے کہ یکم جولائی سے اس کی قیمت میں فی کلو22 روپے کا اضافہ کر دیاگیا ہے، اس مرتبہ پٹرولیم کے نرخ برقرار رکھے گئے ہیں، ملکی معیشت کو درپیش مشکلات ایک حقیقت ہیں‘ حکومت اصلاح احوال کیلئے جو بھی کوششیں کر رہی ہے، وہ بھی اپنی جگہ ہیں تاہم اس سارے منظرنامے میں مہنگائی کے ہاتھوں کمر اس غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے و الے شہری کی ٹوٹی ہے کہ جو اس ساری صورتحال کا ذمہ دار نہیں یہ یکے بعد دیگرے برسر اقتدار آکر قرضوں کا والیوم بڑھانے والی حکومتوں کے ان فیصلوں کی سزا بھگت رہاہے کہ جن کے نتیجے میں ہم قرضوں تلے دب چکے ہیں، توانائی کے وفاقی وزیر بجلی وگیس کے نرخوں کو سابق حکومت کی بچھائی گئی سرنگوں کا نتیجہ قرار دے چکے ہیں۔

 اس بحث میں پڑے بغیر کہ اس ساری صورتحال کا ذمہ دار کون ہے‘ اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں کہ ملک میں مہنگائی زوروں پر ہے اور گیس کے نرخوں میں اضافہ اس کی شدت مزید بڑھا دے گا‘ اس حقیقت سے بھی انحراف ممکن نہیں کہ موجودہ اقتصادی صورتحال میں حکومت کیلئے قیمتیں کم کرنا بھی ممکن نہیں تاہم انکار اس حقیقت سے بھی نہیں کیاجاسکتا کہ مارکیٹ کنٹرول کیلئے اقدامات بھی قطعاً کافی نہیں، وزیراعظم مارکیٹ کے حوالے سے رپورٹ طلب کرچکے ہیں‘ خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ انتظامیہ کو فوری اقدامات کیلئے ہدایت دے چکے ہیں،ایک آدھ بازار میں چھاپے کی خبر بھی آتی ہے لیکن یہ سب مسئلے کا حل نہیں، گرانی کسی کی بھی غلط پالیسی کا ہے ہو ملاوٹ میں نہ تو ملکی اکانومی کا کوئی دخل ہے نہ ہی یہ کسی کی پالیسی کا نتیجہ ہے اس وقت مارکیٹ میں دودھ کے اندر مضرصحت کیمیائی اجزاءملائے جارہے ہیں جن سے متعلق وزیراعظم عمران خان خود تشویش ظاہرکرچکے ہیں۔

 مردہ اور لاغر مویشیوں کے گوشت کی فروخت سے متعلق خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں، مردہ مرغیوں کی بڑی تعداد خود انتظامیہ تلف کرچکی ہے، جعلی مشروبات کی تیاری سے متعلق شکایات عام ہیں، کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ ایک جانب مارکیٹ میں جعلی اور دو نمبر کی ادویات بھی مل رہی ہیں‘اس ساری صورتحال پر حکومت کا احساس و ادراک قابل اطمینان سہی ثمر آور نتائج ایک ٹھوس اور مربوط حکمت عملی سے جڑے ہوئے ہیں کہ جس میں تمام سٹیک ہولڈر اداروں اور کمیونٹی کو یکجا کیاجائے، گلی محلے کی سطح پر مہنگائی اور ملاوٹ سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں اور پوری ترتیب کے ساتھ رو زانہ کی بنیاد پر کاروائی ہو یہی وہ پلاننگ ہے کہ جس میں عام آدمی اس ریلیف کا احساس پاسکتا ہے جس کیلئے اس نے حکومت سے بہت ساری توقعات وابستہ کر رکھی ہیں، اگر اس وقت اصلاح احوال کیلئے کوششیں نہ کی گئیں تو آئے روز کی گرانی میں سے عام آدمی کیلئے اخراجات پورے کرنا مزید دشوار ہوگا۔