133

سیاسی بیانات میں تیزی

انسداد منشیات فورس کے ہاتھوں ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کیساتھ وطن عزیز کے سیاسی منظرنامے میں مزید تیزی آگئی ہے اور بیانات کی حدت میں اضافہ ہوگیا ہے‘ اے این ایف کے ترجمان ریاض سومرو کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی کی گاڑی سے منشیات کی بڑی مقدار برآمد ہوئی ہے‘ ن لیگ پنجاب کے سربراہ کو فیصل آباد سے لاہور آتے ہوئے گرفتار کیاگیا‘ رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری پر ن لیگ کے رہنما شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا ذاتی عناد سامنے آگیا ہے‘ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ گرفتاری میں حکمران ملوث ہیں‘ پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو اس کو سیاسی انتقام کی مایوس کن کوشش قرار دیتے ہیں‘ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نوازشریف اور آصف علی زرداری مشکل میں ہیں تو قوم کا پیسہ لوٹا دیں اور خود باہر چلے جائیں‘ مریم نواز کے مستقبل سے متعلق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ وقت ہی بتائے گا‘ اس سب کے ساتھ وزیراعظم یہ بھی کہتے ہیں کہ نوازشریف کے بیٹوں نے دو ممالک سے مداخلت کا کہا ہے مگر سفارش کام نہیں آئے گی‘ ان کا کہنا ہے کہ فوج حکومت کے ساتھ ہے اور کوئی بھی ملک سے فرار نہیں ہوسکتا‘ سیاسی بیانات میں گرماگرمی کا گراف مزید بھی بڑھتا نظر آرہا ہے جبکہ دوسری جانب بعض اہم امور ایسے ہیں کہ جن کے لئے قومی قیادت کو اچھے ماحول میں بڑے فیصلے کرنے ہیں‘ وطن عزیز کی معیشت پریشان کن ہے‘۔

 حکومت صورتحال کو سنبھالنے کے لئے بعض اہم اقدامات اٹھارہی ہے تاہم مسئلے کے مستقل حل کے لئے سرمایہ کاری بڑھانے‘ ٹیکس نظام میں اصلاحات‘ تجارتی خسارے میں کمی کے لئے اقدامات ناگزیر ہیں‘ کسی بھی ملک میں انویسٹمنٹ کے لئے ماحول کی سازگاری ضروری ہوتی ہے‘ پاکستان میں سرمایہ کاری کو دیگر سہولیات کی فراہمی کیساتھ مستحکم سیاسی ماحول دینا بھی ضروری ہے‘ وطن عزیز میں طویل عرصے سے سیاسی گرماگرمی کا سلسلہ جاری ہے‘ جمہوری نظام میں یہ کوئی معیوب بات نہیں بلکہ سیاسی مخالفت کو جمہوریت کی خوبصورتی بھی کہاجاتا ہے تاہم اس عمل میں اہم قومی امور پر جہاں ضرورت ہو معاملات بات چیت کے ذریعے نمٹانے کی روایت بھی رہی ہے‘ اس وقت بھی جبکہ ملکی معیشت نے گرانی کی شرح بڑھادی ہے‘ عوام کے ریلیف کے لئے اقدامات بھی ضروری ہیں جن کے لئے سینئر قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

صحت انصاف کارڈ

خیبرپختونخوا میں صحت انصاف کارڈ کی فراہمی بلاشبہ ایک اہم اور قابل اطمینان اقدام ہے‘ وزیراعلیٰ محمود خان صحت سہولت پروگرام کی وسعت اور اسے فعال بنانے کیلئے عزم کا اعادہ کررہے ہیں‘ قبائلی اضلاع کے 10لاکھ خاندانوں کیلئے کارڈز کی چھپائی مکمل ہوچکی ہے‘ ہیلتھ سیکٹر میں خیبرپختونخوا حکومت دیگر متعدد اقدامات بھی اٹھارہی ہے جن کیلئے فنڈز کی فراہمی میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جارہی‘ جہاں تک عوام کو اس شعبے میں عملی ریلیف فراہم کرنے کا سوال ہے تو اس کیلئے ضرورت نگرانی کے کڑے نظام کی ہے‘ حکومت کے تمام اقدامات کے باوجود اگر سرکاری شفاخانوں میں بہتر سروسز نہ ملیں‘ لوگ نجی شعبے میں علاج کیلئے جانے پر مجبور ہوں‘ پرائیویٹ سیکٹر میں چارجز کیلئے قاعدہ نہ ہو تو تمام تر اصلاحاتی اقدامات بے ثمر ہو کررہ جاتے ہیں‘ ہیلتھ سمیت کسی بھی شعبے میں حکومتی اقدامات اسی صورت عملی ریلیف دے سکتے ہیں جب ان پر عملدرآمد کیلئے کڑی نگرانی یقینی بنائی جائے۔