95

'آئی ایم ایف پروگرام سے ملک میں معاشی استحکام آئے گا'

وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے ملک میں معاشی استحکام آئے گا۔

اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے مالیات حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) بھی پاکستان کو 3 ارب 40 کروڑ ڈالر دینا چاہ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آئی ایم ایف پروگرام سے معاشی استحکام آئے گا جبکہ ورلڈ بینک اسلام آباد کو اضافی رقم بھی فراہم کرے گا۔مشیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں اس وقت مشکل معاشی حالات ہیں جبکہ موجود حکومت کو 31 ہزار ارب کا قرضہ ورثے میں ملا ہے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کی منظوری دی ہے اور اس کے بورڈ کے کسی رکن نے پیکج کی مخالفت نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مشکل فیصلے کیے جائیں گے لیکن اسی دوران کمزور طبقے کا بھی خیال رکھا جائے گا جبکہ چیزیں بہتر انداز میں چلانا ہمارے مفاد میں ہے۔رواں مالی سال کے بجٹ پر بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے پہلے سال کے بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا ہے۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں کاروبار کے لیے مراعات دی گئی ہیں جبکہ برآمدات پر ٹیکس لاگو نہیں کیے گئے۔

بجلی کے استعمال سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 3 سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا اور اگر ایسا ہوا تو وہ بوجھ حکومت برداشت کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے مالیات حماد اظہر کا کہنا تھا کہ وہ کسی قانون کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں کر رہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کئی باتیں کی گئیں لیکن ہم اپنا کام کرتے رہے، تاہم تمام چیزیں سامنے آگئی ہیں تمام لوگ اسے دیکھ سکتے ہیں جبکہ نجکاری سے متعلق آئی ایم ایف کی کوئی شرائط نہیں ہیں۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت خود فیصلہ کرے گی کہ کون سے حکومتی ادارے ریاست کو بہتر چلاسکتے ہیں یا پھر ان کی نجکاری کی جائے گی۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا آئی ایم ایف مالیاتی ادارہ ہے، تاہم یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس سے کس طرح فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

عبدالحفیظ شیخ نے اعتراف کیا کہ جب بھی آئی ایم ایف سے قرض لیا تو اس کے چند سالوں تک حالات بہتر رہے لیکن وہ 2 یا 3 سال بعد دوبارہ خراب ہوئے، تاہم اب ایسے اقدامات کرنے ہیں جس سے ترقی کی شرح مستحکم رہے۔

بے نامی جائیدادوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ان کے لیے پہلا ہدف صنعتی شعبہ ہوگا، اس کے بعد گھروں اور گاڑی رکھنے والوں کو بھی نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔