83

ہمیشہ حکومت میں نہیں رہنا

وفاقی کابینہ نے کرپشن کیسزمیں گرفتار ارکان پارلیمنٹ کے پروڈکشن آرڈر روکنے کیلئے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی جیلوں میں وی آئی پی سیل ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے لیکن لگتا ہے کہ قانون منظور ہونے سے پہلے ہی اس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے‘پتہ چلا ہے کہ قومی اسمبلی کی ایک سٹینڈنگ کمیٹی میں آصف زرداری کی شرکت کیلئے چیئرمین کمیٹی کی طرف سے جاری کئے جانےوالے پروڈکشن آرڈر روک لئے گئے ہیں اور چند دن پہلے گرفتار ہونےوالے مسلم لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کو جیل میں عام قیدی کی طرح رکھاگیا ہے‘ ان کو کوئی اے ‘ بی کلاس کی سہولیات نہیں دی گئیں‘ اسی اثناءمیں یہ خبر بھی آئی ہے کہ لاہور کوٹ لکھپت جیل میں قید میاں نوازشریف کو گھر سے کھانا لانے کی سہولت واپس لے لی گئی ہے اس سے پہلے ان سے خاندان کے چند افراد کے علاوہ ملاقاتوں پر بھی پابندی لگائی جاچکی ہے‘ یہ سب اقدامات وزیراعظم عمران خان کے سخت رویئے اور کرپشن کیلئے عدم برداشت میں انتہا پسندی کا پتہ دیتے ہیں حالانکہ ایک طبقہ ایسے اقدامات کا حامی ہے اور اسکا موقف ہے کہ کرپشن کیس میں ملوث سیاستدانوں کو ہیرو کا درجہ دینا اور انکو جیلوں میں بھی وی آئی پی سہولتیں دینا انصاف نہیں ہے‘ابھی تک کسی سے کرپشن کا کوئی پیسہ تو وصول نہیں ہوا مگر انکو قید کی بھی کوئی تکلیف نہیں اور اسکے برعکس طویل اور پیچیدہ عدالتی نظام کی بدولت وہ فرشتے ثابت ہو رہے ہیں۔

اس وجہ سے کرپشن کا خوف پیدا نہیں ہو رہا مگر اسکے باوجود اس وقت حکومت کی طرف سے کی جانےوالی سختی اور ارکان پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح کرنا حکومت کیلئے درست ہی ہے‘ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب سے قیدی یا گرفتار ارکان پارلیمنٹ کو اجلاس میں بلانے کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا قانون بنا ہے موجودہ اسمبلی کے سپیکر نے سب سے زیادہ پروڈکشن آرڈر جاری کئے ہیں‘ یہ سارے ارکان اسمبلیوں کے اجلاس کے دوران اجلاس میں لائے جاتے ہیں خواجہ سعد رفیق کو لاہور سے اسلام آباد اورفریال تالپور کو اسلام آباد سے کراچی لے جایا جاتا ہے اور ہوائی جہاز میں لانے لے جانے کا خرچہ سرکار برداشت کرتی ہے ابھی مزید ارکان کو گرفتار کرنے کا امکان بھی ہے ‘شاید یہ اعزاز بھی موجودہ اسمبلیوں کو ہی حاصل ہوگا کہ اتنی تعداد میں ارکان جیلوں سے اجلاس میں شرکت کیلئے لائے جاتے ہیں‘ سیاستدانوں کے مقدمات کے بارے میں کبھی بھی سچ یا جھوٹ کا فیصلہ نہیں ہو سکتا ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قتل کیس میں سزائے موت دی گئی مگر انکو کبھی بھی قاتل نہیں سمجھا گیا بلکہ آج بھی شہید کہا جاتا ہے اگر جنرل ضیاءالحق کے دور میں انکو پھانسی نہ دی جاتی تو ان کے دور میں ہونیوالے مظالم زیادہ نمایاں ہوتے مگر ایک سیاسی مقدمے نے سارے گناہ دھودیئے اور سیاست میں ان کا نام بکتا ہے۔

 ماضی قریب میں محترمہ بےنظیر بھٹو‘آصف زرداری اور میاں نوازشریف پر کرپشن کے کیس بنائے گئے مگر انکی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی حتیٰ کہ میاں نوازشریف اور مریم نواز سزا یافتہ ہیں مگر عوام نے عدالتی فیصلوں کو قبول نہیں کیا‘یہ حال آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماﺅں کا ہے ان پر تفتیش میں جو بھی ثابت ہو جائے عدالتیں جو سزا بھی دےدیں مگر ان کی پارٹی کے کارکن یہ قبول نہیں کرتے‘ آج بھی ایک طرف یہ عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں تو دوسری طرف جلسے بھی کر رہے ہیں اسلئے اگر موجودہ حکومت کا سابقہ حکمرانوں کو گرفتار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان سے پیسے وصول کئے جائےں تو یہ آج تک نہیں ہوسکا تو آئندہ کیا ہوگا اور اگر مقصد ان کو عوام میں بدنام کرنا اور حمایت سے محروم کرنا ہے تو یہ بھی نہیں ہوگا بلکہ ان کے بہت سے گناہوں پر انتقام کا پردہ پڑ جائیگا اور اپنے حلقوں میں مزید ہمدردی حاصل کرلیں گے اسلئے جو کچھ سوچا جا رہا ہے اس پر عملدرآمد نہ کیا جائے البتہ اگر کرپشن کیسزمیں سچائی ہے تو نیب عدالتوں میں ثابت کرے‘ موجودہ حالات میں مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ کی گرفتاری حکومت کی بوکھلاہٹ کا بڑا اظہارہے بالخصوص جب وزیراعظم سے ملاقات کرنیوالے ن لیگی ارکان اسمبلی کےخلاف بیان دینے کے دوسرے دن مشکوک انداز میں انہیںگرفتار کرنا اور منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ کرنا کسی کو بھی ہضم نہیں ہورہا‘وزیراعظم عمران خان کو ایسے اقدامات سے گریز کرناہوگا کیونکہ ان اقدامات سے انکے اقتصادی پروگرام کو بھی دھچکا لگے گا وہ اگر اپوزیشن کو اسکے حال پر چھوڑ کر اپنے دیگر کاموں پر توجہ دیں تو یہ احتساب کے عمل کیلئے بھی اچھا ہوگا اور ملک کیلئے بھی‘کیونکہ انتظامی مشینری اپوزیشن کے پیچھے لگانے سے ذخیرہ اندوز اور منافع خور آزاد ہو کر عوام کو بجٹ سے بھی زیادہ لوٹ رہے ہیں اور عمران خان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے بھی ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔