186

عازمین حج کیلئے اچھی خبر

الحمد للہ آج پاکستان کے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی حاجی موجود ہے اور عمرہ کرنے والے تو اس سے بھی زیادہ ہیں‘یہ بات سب کو معلوم ہوگی کہ جدہ کے ائرپورٹ پر امیگریشن کے مرحلے سے گزرنا مشکل ہوتا ہے‘ امیگریشن کے کیبن کے آگے لمبی لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں مگر کیبن میں بیٹھے نوجوان افسران خوش گپیوں یا موبائل پر چیٹنگ میں مصروف رہتے ہیں‘ائرپورٹ سے باہر نکلنے میں چار سے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں کئی بار ایسا ہوا کہ جہاز رات کے دس بجے پہنچا مگر امیگریشن تک تاریخ بدل گئی اور دوسرے دن فارغ ہوئے‘ شاید اس بات کا احساس خود سعودی حکام کو بھی ہوگیا تھا اور پھر فلائٹس کی مسلسل آمد سے ائرپورٹس پر مسافروں کی بھیڑ ہوجاتی تھی اس سال سے سعودی امیگریشن حکام نے اس کا یہ حل نکالا ہے کہ مختلف مسلمان ممالک میں روڈ ٹومکہ پراجیکٹ کے تحت اپنے امیگریشن کاﺅنٹر کھولے ہیں جہاں سعودی عملہ تعینات ہوا ہے اور عازمین حج کے جہاز پر سوارہونے سے پہلے امیگریشن ہو جاتی ہے اور سعودی عرب کے ائرپورٹ جدہ یا مدینہ پر رکنے کی ضرورت نہیں رہتی‘ عازمین حج ٹرمینل سے نکل کر بسوں یا کسی دوسری ٹرانسپورٹ کے ذریعے اپنی رہائش گاہوں کی طرف روانہ ہو جائیں گے پاکستان میں تین ائرپورٹس پر روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے کاﺅنٹر قائم کئے گئے ہیں ان میں اسلام آباد‘ لاہوراور کراچی شامل ہیں یہ چناﺅ کرنے کیلئے چند ماہ پہلے سعودی امیگریشن کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آیا تھا۔

 جس نے ہمارے ائرپورٹ پر سہولیات کا جائزہ لیکر تین ائرپورٹ منتخب کئے تھے بہرحال یہ سال پاکستانی حاجیوں کیلئے بہت خوش کن ثابت ہوا کہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری کی کوششوں سے سعودی حکام نے پاکستان کا حج کوٹہ بڑھا کر2لاکھ کر دیا ہے جس کی تقسیم سرکاری اور پرائیویٹ حج نظام کے تحت40/60 کے تناسب سے تقسیم کی گئی جبکہ اسی کوٹے سے عمر رسیدہ تین سال سے قرعہ اندازی میں ناکام رہنے والے اور معذوروں کو بھی اکاموڈیٹ کیاگیا ہے‘ اس کے علاوہ وفاقی وزیر نے یہ بھی خوشخبری سنائی ہے کہ پاکستانی حجاج کو وہاں سہولیات کے استعمال کے لحاظ سے اور رہائش حرم سے قریب یا دور ہونے کی وجہ سے30 ہزار سے لیکر58 ہزار روپے تک واپس بھی کئے جائیں گے ‘بڑی عجیب بات ہے کہ حج پالیسی کا اعلان ہوتے وقت سبسڈی ختم کرنے اور اخراجات بڑھنے پر شور مچانے والے اب خاموش ہیں کہ ڈالر مہنگا ہونے کے باوجود بھی معقول رقم واپس دینے کا اعلان ہوا ہے حالانکہ اسوقت بھی وفاقی وزیر نے بتایا تھا کہ حج ایسا فریضہ ہے جو مالی استطاعت رکھنے والے پر ہی فرض ہے اسلئے اس پر سرکاری سبسڈی نہیں دی جا سکتی اور ماضی میں جو حکومت ایسا کرتی رہی وہ بھی غیر شرعی تھا بہرحال اب اخراجات میں اضافے کی شکایت بھی بڑی حدتک ختم ہوگئی ہے۔

 یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستان کی وزارت مذہبی امور کا کام صرف یہاں سے عازمین حج کو سعودی عرب پہنچانا اور پھر واپس لانا ہی ہوتا ہے سعودی عرب میں حج انتظامات اور حاجیوں کو سہولیات فراہم کرنا وہاں کے مقامی انتظامی ڈھانچے کی ذمہ داری ہوتی ہے‘ سعودی حکمران ہمیشہ اللہ کے مہمانوں کیلئے زیادہ بہتر سہولیات کیلئے کوشاں رہتے ہیں ‘سچی بات ہے کہ ہر سعودی حکمران نے مقدس مساجد اور مقدس مقامات کی تعمیر و توسیع اور حج وعمرہ کیلئے آنے والوں کیلئے جدید سہولیات فراہم کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر کام کیا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ حرم مکہ اور حرم مدینہ میں مسلسل توسیعی کام ہوتا رہتا ہے اب منیٰ اور عرفات میں بھی مستقل اور مضبوط و محفوظ خیموں کی تنصیب سے لیکر پانی کی وافر فراہمی تک انتظام کردیاگیاہے‘ اس سال رمضان میں صرف پاکستان سے17لاکھ افراد عمرہ کیلئے گئے تھے اگرچہ انکا بھی بہت اچھا انتظام ہوتا ہے مگر سہولت یہ ہے کہ عمرہ زائرین دوشہروں میں تقسیم ہوتے ہیں اور ہر روز لاکھوں کی تعداد میں تبدیل بھی ہوتے رہتے ہیں یعنی کچھ واپس آتے ہیں اور کچھ نئے پہنچ جاتے ہیں‘ بہرحال یہ اللہ کے مہمانوں کی خدمت کا شرف اور سعادت ہے جس میں سعودی حکمران مستعدی کےساتھ کوشاں رہتے ہیں اسی لئے دن بہ دن زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔