123

سیاحت کا فروغ‘عملی اقدامات؟

خیبرپختونخوا حکومت نے شندور پولو فیسٹیول کے باقاعدہ انعقاد اور صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے وزیراعلیٰ محمود خان کہتے ہےںکہ تین روزہ میلہ علاقائی ثقافت کے فروغ میں اہم کردار کا حامل ہے‘ شندور مےلے کو سطح سمندر سے بلند ترین مقام پر منعقد ہونے کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہے اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا یہ مرکز بھی رہا ہے‘ وطن عزیز کی معیشت اسوقت مختلف حوالوں سے سخت مشکلات کا شکار ہے اکانومی پر کھربوں روپے کے اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ ہے جو کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے‘ معیشت کو مشکلات سے نکالنے کےلئے ہمارے یہاں ایک قرضے کے اوپر دوسرے کی روایت عام ہوچکی ہے ملکی صنعت توانائی بحران ‘پروڈکشن کاسٹ‘ٹیکس نظام اور سرمایہ کاری کےلئے سہولیات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کررہی ہے اسکے نتیجے میں تجارتی خسارہ مسلسل بڑھتا رہا ہے سمگلنگ نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے‘ ایسے میں ٹورازم انڈسٹری کا فروغ اصلاح احوال کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے یہاں سیاحت کےلئے بے پناہ مواقع موجود ہےں ۔

بدقسمتی سے ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی ممالک ٹورازم انڈسٹری کے ذریعے اپنی معیشت کو سہارا دئیے ہوئے ہےں ہمارے ہاں ماضی قریب میں امن وامان کی صورتحال نے رہی سہی کسر بھی نکال دی قابل اطمینان ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت ٹورازم انڈسٹری کے فروغ کا احساس اجاگر کررہی ہے تاہم برسرزمین حقائق کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس بڑے ٹاسک کےلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے یہ محض ایک آدھ اعلان سے ہونے والا کام نہےں سب سے پہلے سیاحتی مقامات تک رسائی کے راستوں کو بہتر بنانا ہوگا سکیورٹی کے انتظامات میں بہتری لانا ہوگی ہوٹلوں کو معیار اور چارجز کے حوالے سے قاعدے قانون میں رکھنا ہوگا ٹرانسپورٹ کےلئے کار سروسز نجی اداروں کے اشتراک سے شروع کی جاسکتی ہے جس کے چارجز فی کلومیٹر کے حساب سے مقرر ہوں سیاحتی مقامات پر صفائی اور دیگر میونسپل سروسز کی فراہمی اور مارکیٹ کنٹرول میں رکھنے کےلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

 سیاحتی مقامات پر میڈیکل سروسز کی فراہمی کےلئے انتظام بھی ضروری ہے اس وقت صوبائی دارالحکومت سے بھی سوات‘گلیات اور دوسرے پر فضاءمقامات تک جانے کےلئے آرام دہ اور براہ راست ٹرانسپورٹ سروس کا معقول انتظام نہےں نہ ہی چارجز کے حوالے سے کوئی کلیہ موجود ہے اپنی گاڑیوں میں سفر سے گریز پارکنگ کے انتظامات نہ ہونے پر بھی کیا جاتا ہے کیا ہی بہتر ہو کہ ٹورازم انڈسٹری کے فروغ کےلئے ہونےوالے بڑے فیصلوں کےساتھ بنیادی اہمیت کے حامل معاملات پر بھی توجہ مرکوز کی جائے سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کسی ایک ادارے کا کام نہےں اس میں مختلف سٹیک ہولڈرز محکموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا اور خدمات کے پورے نظام کو ایک ضبط میں لانا ضروری ہے جب تک تمام اداروں کے وسائل اور افرادی قوت یکجا نہےں ہوگی اتنے بڑے ٹاسک کو پورا کرنا ممکن نہےں اس سب کے ساتھ دستور میں ترمیم کے بعد سیاحت کے شعبے سے جڑے اداروں کے انتظام وانصرام سے متعلق مسائل کا حل بھی ضروی ہے ۔