63

سیاست:روشن و تاریک پہلو

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی .... پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی ”خفیہ اِیجنسیاں“ بنا رکھی ہیں‘ جو ہمہ وقت ملک کی اہم شخصیات کی نجی زندگی اور روزمرہ مصروفیات سے لیکر اُن کی ٹیلی فونک بات چیت کا ریکارڈ رکھتی ہیں؟ سیاسی جماعتیں ایسے جدید ترین مواصلاتی آلات (ٹیکنالوجی) سے لیس ہیں‘ جو صرف اور صرف ریاست کی ملکیت ہونے چاہئیں اور جن کی درآمد اور استعمال سختی سے ممنوع ہے۔ جاسوسی کے ایسے آلات عالمی منڈیوں میں باآسانی مل جاتے ہیں تاہم اُن کی قیمتیں سینکڑوں کروڑوں روپے میں ہوتی ہے۔ جیسا کہ ’جی ایس ایم موبائل سکینر (GSM Scanner)‘ جو کہ ایک بریف کیس جتنا بڑا ہوتا ہے اُور اگر اِسے بریف کیس جنریٹر سمیت خریدا جائے تو قریب ایک ارب روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اِس قسم کی بھاری سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی اور ریاست کے لئے خطرہ ہے کیونکہ جو سیڑھی سیاسی جماعتیں اقتدار جیسی بلندی تک پہنچنے کے لئے استعمال کرتی ہیں‘ اُس سے پاکستان کا دفاع اور سلامتی دونوں متاثر (compromise) اور دونوں مشکوک ہو گئے ہیں! غیرقانونی طور پر درآمد کئے گئے جاسوسی کے یہ آلات ایک ایسے سوال اور ایسی تلخ حقیقت کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں‘ کہ جس کے روشن و تاریک پہلوو¿ں پر غور کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کی حدود کا ازسرنو تعین اور اُن کے لئے سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کے ’ضابطہ¿ اخلاق‘ پر نظرثانی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔ پاکستان کی ساکھ اور وقار کا حلف اُٹھانے والی جماعتیں جب ایسی حرکتیں کرتی ہیں تو وہ سوچ بھی نہیں رہی ہوتیں کہ اُنہوں نے ملکی سلامتی کے ضامن اور قانون نافذ کرنے والے اِداروں کو کتنی مشکل میں ڈال دیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر پاکستان کا مذاق اُڑانے والوں کے ہاتھ بھی ایک ’نیا موضوع (اعتراض)‘ آ چکا ہے۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں جب کبھی کسی کتاب‘ کسی فلم یا چیز کو مقبول بنانا ہو‘ تو اُس پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ برائے نام ’سنسر بورڈ‘ کام نہ کرے تو ایسے انتہاءپسند دھڑوں کی بھی کمی نہیں‘ جو پابندی لگوانے کے چکر میں اُسے زیادہ مقبول بنا دیتے ہیں۔ یوں کھڑکی توڑ ہجوم اُمڈ آتا ہے۔ اکثر کمپنیاں اپنی فلموں اور کمپنی کی مشہوری کے لئے بھی خود اپنی پیشکش کو متنازع بناتی ہیں اور ایسے ماہرین کی خدمات ہمیشہ دستیاب رہتی ہیں جو کسی بھی چیز کو متنازعہ بنانے کا ہنر جاتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کی بھی ”کل کہانی“ یہی ہے کہ یہاں ایک فلم اُترتی نہیں لیکن دوسری فلم کا ٹریلر چل پڑتا ہے۔ فلم کا سکرپٹ لکھنے والا کون ہے‘ پس پردہ موسیقی کس کی ہے‘ کہانی کے جاندار پہلو کیا ہیں‘ فلم کو متنازعہ بنانے کے لئے کس قدر مواد شامل کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کسی فلم کے بنیادی خیال سے لیکر اُس کے تخلیق و ساخت کے مراحل میں کئی ادارے اپنی اپنی مہارت پیش کرتے ہیں۔ ایسی بہت سے ’یادگار (سیاسی) فلمیں‘ عوام کے ذہنوں میں محفوظ ہیں جیسا کہ ’قرض اُتارو ملک سنوارو‘ اور کچھ ایسی بھی ہیں جو آج کسی کو یاد ہی نہیں جیسا کہ ’سیور ریفل ٹکٹ‘ وغیرہ۔

پاکستان کی فیچر اور سیاسی فلمی صنعتیں الگ الگ ہیں اور حسن اتفاق دیکھئے کہ دونوں ہی کا صدر مقام (پایہ¿ تخت) لاہور ہے‘ جسے عرف عام میں ’لالی ووڈ (lollywood)‘ کہا جاتا ہے۔ سیاسی لالی ووڈ کی نئی پیشکش سے پاکستان میں عدلیہ کا کردار مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا سیاسی فلم کا جواب سیاسی فلم ہی کی صورت دیا جائے گا اور اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو پاکستان کے ادارے اور حکمرانی کا رہا سہا بھرم (پول) بھی دنیا پر کھل جائے گا۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے سال 2018ءمیں پاکستان کو 180بدعنوان ممالک کی فہرست میں 117ویں نمبر پر فہرست کیا ہے جو 2013ءمیں 139ویں نمبر پر تھا۔ ’تحریک اِنصاف‘ بدعنوانی سے پاک ملک و معاشرے کا قیام تو چاہتی ہے لیکن یہ ایک ایسے ماحول میں ناممکن حد تک دشوار ہے جہاں ’سیاسی جماعتوں‘ اقتدار میں آنے کے لئے ہر ناجائز کو جائز اور جائز کو ناجائز بنا کر پیش کر رہی ہیں! آخر کچھ تو پاکستان کے لئے بھی سوچنا چاہئے!