56

منتظر آنکھیں

رواں ہفتے دو انتہائی نایاب ہستیوں نے جہان فانی سے کوچ کیا‘ 3جولائی کو راولپنڈی سے خبر آئی کہ شاعر‘ نغمہ نگار‘ ادیب ’محترم نثار ناسک اب ہم میں نہیں رہے!آپ مقبول ملی نغمہ ’دل دل پاکستان‘ کے خالق تھے۔ اردو اور پنجابی زبانوں کے مشہور شاعرنثار ناسک کی بینائی کچھ عرصے سے جزوی طور پر متاثر تھی جبکہ وہ طویل عرصے سے علیل تھے یاد رہے کہ ’دل دل پاکستان‘ جاں جاں پاکستان‘ کو جنید جمشید نے گایا تھا اور یہی وہ ملی نغمہ تھا جس کی بدولت جنید جمشید کے بینڈ وائٹل سائنز کو شہرت ملی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ علمی ادبی خدمات پر درجنوں اعزازات حاصل کرنےوالے نثار ناسک کی خدمات پر انہیں پی ٹی وی کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا لیکن یہ سبھی اعزازات ان کی مالی مشکلات کم نہ کر سکے اور انکے پاس آخری دنوں علاج معالجے کےلئے مالی وسائل نہ تھے‘ ذرائع ابلاغ میں یہ بات رپورٹ بھی ہوئی لیکن نثار ناسک نے اپنی زندگی کے آخری ایام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں بسر کر کے منتظر آنکھیں ہمیشہ کےلئے بند کر لیں!خدا کی بستی‘ حج اکبر‘ آخر شب‘ اماوس‘ گردش‘شمع‘ عروسہ منٹو راما‘ چاندنی راتیں‘ماسی اور ملکہ‘ مرے قاتل مرے دلدار‘ مراسم‘ ببن خالہ کی بیٹیاں اوربرفی لڈو میں اظہار اور ادائیگی کے جوہر دکھانے والی محترمہ ذہین طاہرہ نے اداکاری کے سبھی شعبوں میں ڈھیروں کامیابیاں سمیٹیں اور ٹیلی ویژن کی سکرین اور ناظرین کے دلوں پر ہی نہیں بلکہ نسلوں پر طویل عرصے تک راج کیا اور 9 جولائی کو ذہین آپا نے اچانک رخصت لے لی‘ جنہیں دیکھنے کی منتظر آنکھیں اشکبار ہیں!ذہین طاہرہ 1960ءاور 1970ءکی دہائی میں ٹیلی ویژن کی نمایاں اداکاراو¿ں میں شامل تھیں‘ یہ وہ دور تھا جب ہر گھر میں ٹیلی ویژن نہیں ہوتے تھے لیکن ٹیلی ویژن آج سے زیادہ مقبول اور پاکستان کے ڈرامے بھارت کی فلمی صنعت سے زیادہ شہرت کے حامل ہوا کرتے تھے‘یہی وہ دور تھا جب ٹیلی ویژن اخلاق و آداب سکھانے کا ذریعہ بھی تھا‘کسی ٹیلی ویژن ڈرامے سے بے حیائی کا تصور منسوب نہ تھا۔

دوپٹہ اوڑھے کردار گھریلو اور سماجی مسائل اور الجھنوں کے حل پیش کئے جاتے تھے‘معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی کی جاتی تھی حتیٰ کہ مزاحیہ ڈراموں کے ذریعے بھی صرف حقیقت ہی کی عکاسی ہوا کرتی تھی جیسا کہ پی ٹی وی کراچی مرکز سے ’ففٹی ففٹی‘ لاہور مرکز سے سونا چاندی اور پشاور مرکز سے دیکھ دا جاندا رے ایک جیسی کوششیں تھیں جس میں ٹیلی ویژن کے ناظرین کو اپنے گردوپیش میں ہونےوالی تبدیلیوں اور اصلاحات میں کردار ادا کرنے کی دعوت دی جاتی تھی‘ تب ٹیلی ویژن کے ڈرامے غیرسیاسی ہونے کے باوجود بھی سیاسی ہوا کرتے تھے۔ آمرانہ ادوار میں مزاحمتی شاعری کی طرح مزاحمتی ڈراموں نے عوام میں جمہوریت کی بحالی کی امید کو زندہ رکھا۔ بین السطور باتیں ایک ایسا امتیازی حسن تھا‘ جس نے ٹیلی ویژن کے ذریعے تفریح کو نئی بلندیوں سے آشنا کیا۔ اسی دور سے ٹیلی ویژن علم و ادب کی خدمت یعنی تعلیم کا ذریعہ بھی تھا۔ ذہین طاہرہ جیسا رکھ رکھاو¿ اور اچھے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین تمام تر سماجی و خاندانی مخالفتوں کے باوجود ٹیلی ویژن سے وابستہ ہوئیں۔

انہوں نے دانستہ کوششوں سے اردو زبان کے درست تلفظ کو عام کیا اور تبھی کی بات ہے کہ ذہین طاہرہ جیسی عمدہ بردبار شخصیت کی حامل خاتون فنکارہ نے بطور خاص ٹیلی ویژن اور فن اداکاری کو نئے مطالب و معانی دیئے جو اپنی جگہ مطالعے کا الگ موضوع ہے‘ ذہین طاہرہ کی رحلت سے نہ صرف فنی نقصان ہوا ہے بلکہ پاکستان سے فن اداکاری کی چلتی پھرتی جامعہ رخصت ہو گئی ہے‘ جن کی کمی شاید کبھی پوری نہیں ہو سکے گی‘وہ صرف اداکارہ نہیں تھیں بلکہ انہیں تو اپنے کردار اوڑھ لینے پر ملکہ حاصل تھا اور اسی ایک خوبی کی وجہ سے ہمیشہ اپنے ہر کردار میں انہوں نے متاثر کیا‘2013ءمیں حکومت کی طرف سے محترمہ ذہین طاہرہ کو تمغہ¿ امتیاز سے نوازا گیا‘ جسکے علاوہ انہیں پاکستان ٹیلی ویژن سے سمیت کئی نجی ٹیلی ویژن چینلوں سے بھی اعزازات ملے لیکن سب سے بڑا اعزاز یہ رہا کہ محترمہ ذہین طاہرہ پاکستان کی ان چند خوش قسمت اداکاروں میں شمار کی جا سکتی ہیں کہ جن کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں کر لیا گیا تھا۔