410

میڈیکل کالجز میں داخلے ٗ طریقہ کار میں تبدیلی چیلنج

پشاور۔پاکستان میڈیکل اینڈڈینٹل کونسل کی جانب سے خیبرپختونخواکے سرکاری اورنجی میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے طریقہ کارکو تبدیلی کے اقدام کو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے وسیم الدین خٹک ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائردرخواست گذارحمائل وسیم خٹک کی رٹ میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ درخواست گذارہ نے ایف ایس سی کے امتحان میں 1100میں سے1002نمبرحاصل کئے جس کے لئے میڈیکل کالج میں داخلہ کے خواہشمندہیں 30مئی2019ء کو پی ایم ڈی سی نے ایک نوٹی فکیشن کیا۔

جس میں طلباء کومیڈیکل کالج کی ترجیحات اب تین تک محدود کردی ہیں اورنجی میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لئے پی ایم ڈی سی نے ڈومیسائل کی شرط ختم کردی ہے اورمیرٹ کو ملکی سطح پر کردیا ہے اورامسال یہ پالیسی نافذالعمل اس بناء نہیں ہے کہ یہ پالیسی امتحان کے بعدلائی گئی اورخیبرپختونخواپہلے ہی دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ ہے اوریہاں تعلیم کادیگرصوبوں بالخصوص پنجاب کی سطح پرنہیں ہے اوراگرڈومیسائل کی شرط ختم کردی گئی ہے تو اس طرح یہاں کے طلباء سے تعلیم کاحق چھیناجارہا ہے اوراس طرح دیگرصوبوں کے طلباء آکریہاں تعلیم حاصل کرے چلے جائیں گے۔

 جبکہ اس قسم کی پالیسی کے لئے ضروری ہے کہ پورے ملک میں تعلیم کانصاب یکساں ہوجوتاحال نہیں ہے جبکہ 2010ء میں جوترامیم آئی ہے اس کے تحت پی ایم ڈی سی کے  اختیارات صوبوں کے حوالے کئے گئے ہیں اوراب یہ صوبے کریں گے جبکہ بعض دیگرنجی یونیوسٹیوں کے لئے یہ پالیسی دوسری طرح ہے رٹ پٹیشن میں پی ایم ڈی سی ٗ کے ایم یو اورمحکمہ صحت کوفریق بنایاگیاہے پشاورہائی کورٹ کادورکنی بنچ آئندہ چند روزمیں رٹ پٹیشن کی سماعت کرے گا۔