241

وزیراعظم کا دورہ امریکہ


ملک کے اندر اپوزیشن ناراض اور عوام بے زار ہیں مگر وزیراعظم عمران خان سے دنیا مطمئن نظر آتی ہے ‘وائٹ ہاﺅس نے بالآخر تصدیق کردی ہے کہ 22جون کو صدر ٹرمپ‘ وزیراعظم عمران خان کا وائٹ ہاﺅس میں استقبال کرینگے‘ اس سے پہلے دونوں ممالک کی وزارت خارجہ کے حکام مجوزہ دورے کے بارے میں کنفیوز تھے وزیراعظم کے مشیر برائے سمندر پار پاکستانی ذوالفقار بخاری جو ان دنوں امریکہ میں ہی موجود ہیں اس دورے کی اطلاعات دے رہے تھے‘ پاکستان کے وزیراعظم کا امریکہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہمارے خطے میں افغان امن مذاکرات کامیابی کےساتھ آگے بڑھے ہیں‘پہلی بار پاکستان میں انٹرا افغان مذاکرات بھی ہوئے اور گزشتہ ہفتے طالبان کے امریکی حکام اور افغان نمائندوں کے ساتھ دوحہ مذاکرات میں بھی مثبت پیشرفت ہوئی ہے‘ابھی امریکہ سے ان مذاکرات پر سرکاری ردعمل نہیں آیا لیکن لگتا یہی ہے کہ ان مذاکرات کے دوران سامنے آنے والے سوالات اور معاملات پر پاکستان کے وزیراعظم کےساتھ بات چیت کرکے اپنی پالیسی کا اعلان کیا جائیگا‘وزیراعظم عمران خان اسوقت ایسے سخت فیصلوں کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں جو انکے خیال میں ملک کا مستقبل روشن کریں گے‘ اندرون ملک بجٹ کے بعد حالات دن بہ دن تبدیل ہو رہے ہےں‘عوام پر مہنگائی کا بوجھ بھی ان کی طاقت سے بہت زیادہ ڈال دیاگیا ہے اور اب تو آٹا بھی7سے9روپے کلو مہنگا ہوگیا ہے‘ہر چیز پر بے تحاشا ٹیکس اور1500 کی خریداری سے جنرل سیلز ٹیکس کا نیا نفاذ کردیا گیا ہے۔

 یہ ایک طرح سے دہرا ٹیکس ہے کیونکہ کسی سٹور سے خرید کردہ اشیاءپر پہلے ہی قیمت میں جی ایس ٹی شامل ہے اب1000 روپے سے زیادہ خریداری پر مزید جی ایس ٹی دینا پڑے گا اور اس کی شرح ہر ہزار روپے اضافے کےساتھ بڑھ جاتی ہے یہ تو ٹیکس دینے کے حامی شہریوں کی بھی چیخیں نکال دینے والا عمل ہے‘ اس پر تاجروں کےساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں کہ وہ13جون کو ہونیوالی مجوزہ ہڑتال نہ کریں کراچی کے تاجروں نے چند دن پہلے گورنر کےساتھ ملاقات کے بعد اپنی3روزہ ہڑتال منسوخ کر دی تھی مگر وزیراعظم کےساتھ یہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں تاجر دیگر مطالبات پر بات کرنے کو تیار تھے مگر50 ہزار اور زائد کی خریداری کرنے والے سے شناختی کارڈ لینے کی شرط کو ختم کرنے کے مطالبے پر ڈٹ گئے تھے‘وزیراعظم نے بھی دیگر مطالبات پر رعایت دینے کا عندیہ دیا مگر خریدار سے شناختی کارڈ لینے کی شرط ختم کرنے سے انکار کر دیا اس پر حکومت کا موقف ہے کہ مہنگی اشیاءخریدنے اور ٹیکس نہ دینے والوں کی شناخت ہوگی جبکہ تاجروں کا موقف ہے کہ اس طرح ہر گاہک سے شناختی کارڈ طلب کرنا اور الگ کوائف درج کرنا ممکن نہیں‘ اب دیکھیں کراچی کے تاجر آئندہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ویسے ملک بھر کی تاجر تنظیموں نے13جولائی کو ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے اور فی الحال حکومت کی طرف سے اس کو روکنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

 اگر چہ ایک دن کی ہڑتال سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن کسی حکومتی فیصلے یا اقدام کےخلاف اس طرح کی شٹر ڈاﺅن یا پہیہ جام ہڑتال اسکے نامقبول ہونے کی دلیل ہوتی ہے‘بات وزیراعظم کے دورہ امر یکہ اور ان کی پذیرائی سے شروع ہوئی تھی اس دورے کے دوران وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی بڑے ہوٹل کی بجائے واشنگٹن میں پاکستان ایمبےسی میں قیام کریں گے‘ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے اس سے وزیراعظم کا سابق حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں پر اعتراض درست ثابت ہوگا‘ دورہ واشنگٹن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کی وزارت خارجہ کو پریشانی ہوگئی ہے اور امریکہ مےں بھارتی سفارتخانے کو یہ دورہ ناکام بنانے کا ہدف دیاگیاہے ویسے تو صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت اور مودی کی طرف جو پیار کا رابطہ بڑھایا تھا وہ اب کافی ٹھنڈا پڑ چکا ہے اور اب بھارت بھی صدر ٹرمپ کے ٹوئٹر پر طنزیہ تبصروں کا موضوع بن چکا ہے مگر پاکستان اور چین کے بڑھتے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے امریکہ سے نیٹو اتحادی جیسی مراعات لے رکھی ہیں‘ ہمیں امریکہ سے زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہئیں اور چین و روس سے تعلقات کو ترجیح دینی چاہئے کیونکہ اسوقت صدر ٹرمپ کی کوشش صرف یہ ہے کہ نومبر تک افغانستان سے فوج بلاکر اپنے آئندہ الیکشن کی جیت کی بنیاد رکھیں اور یہ پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اسلئے حالیہ خیر سگالی بے غرض نہیں ہے اور اس پر ہمیں دیگر ممالک سے اپنے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔