80

پاکستان سے تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، امریکی جنرل

واشنگٹن۔ امریکہ کے مستقبل کے فوجی سربراہ نے کہاہے کہ امریکا کو پاکستان سے فوجی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق  جنرل مارک ملی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی سربراہی کے لیے نامزد کر رکھا ہے۔تاہم انہوں نے اپنی نامزدگی کے موقع پر یہ انتباہ دیا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا فوری انخلا اسٹریٹجک غلطی ہوگی۔انہوں نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ اگر میں چیئرمین بنتا ہوں تو میں امریکا اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات برقرار رکھنا چاہوں گا جبکہ ہم پاکستان سے کارروائیوں کا مطالبہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سیکیورٹی معاونت معطل کردی ہیں اور دفاعی مذاکرات روکے ہوئے ہیں۔

 مگر ہمیں اپنے مشترکہ مفادات پر فوجی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیر اعظم عمران خان چند روز بعد امریکا کا دورہ کرنے والے ہیں جو پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔جنرل ملی نے سینیٹرز کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'مجھے لگتا ہے کہ افغانستان سے فوج کا انخلا حکمت عملی کی غلطی ثابت ہوگا۔یاد رہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ملی نے افغانستان، عراق، سومالیہ اور کولمبیا میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اب یہ امید کی جارہی ہے کہ وہ بغیر کسی مخالفت کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف بن جائیں گے۔

اس کے علاوہ جنرل ملی افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈنگ جنرل، انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس جوائنٹ کمانڈ اور ڈپٹی کمانڈنگ جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ادھر سینیٹ پینل نے انہیں افغانستان، پاکستان اور عراق کے حساس معاملات پر تحریری سوالنامہ ارسال کیا جس کے جواب میں انہوں نے پاکستان سے دفاعی تعلقات کی ضرورت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اسلام آباد کا افغانستان میں امن و استحکام میں اہم کردار ہے اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی اہم ضرورت ہے۔

کمیٹی نے سوال کیا کہ آپ اس عہدے پر پاکستان سے امریکا کے تعلقات، بالخصوص فوج سے فوج کے تعلقات اور عالمی سطح پر فوجی تربیت کے حوالے سے کیا تجاویز دیں گے۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی پاکستان کو امریکی مفادات حاصل کرنے میں اہم شراکت دار بتاتی ہے، اس کے علاوہ اس میں افغانستان میں القاعدہ اور داعش،خراساں کو شکست دینے کے لیے امریکی فوج کو ساز و سامان فراہم کرنا اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے حوالے سے سیاسی معاہدے شامل ہیں۔