126

ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد 4 کروڑسے متجاوز

اسلام آباد۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے،جبکہ کمیٹی نے جعلی ڈگری کی بنیاد پر عہدے سے ہٹائے گئے سی ای او ڈریپ کے تمام فیصلوں کی تفصیلات طلب کرلیں،کمیٹی نے وزارت کے جواب پر مطمئن نہ ہونے کی صورت میں معاملہ نیب کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا،چیئرمین کمیٹی میاں عتیق شیخ نے مزید 5 ہزار ادویات کی قیمتیں کم ہونے کا عندیہ بھی دے دیا۔جمعہ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس سینیٹر میاں عتیق شیخ کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں بھارت سے ویکسین اور ادویات کی درآمد کا معاملہ زیر غور آیا،سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ ملک کے مختلف مقامات سے کتے و سانپ کے کاٹنے کی ویکسین کی کمی رپورٹ ہو رہی ہے۔

ادویات بنانے والے کمپنیوں کو کتے و سانپ کے کاٹنے کی ویکسین بنانے کا پابند کا پابند کیا جائے، بتایا جائے کہ بھارت سے کونسی ادویات اور ویکسین درآمد کی جا رہی ہیں۔کیا وجہ ہے کہ کتے اور سانپ کے کاٹے کی ویکسینز پاکستان میں نہیں بنائی جاتیں ہیں۔سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ ہمیں ایسی پالیسی دینی چاہیئے جس سے ادویات یہاں بنائی جا سکیں،سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں اس وقت 42 ملین لوگ ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں،این آئی ایچ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اب ریبیز ویکسین کی کوئی کمی نہیں،اجلاس میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر عہدے سے ہٹائے جانے والے ڈریپ کے سی ای او کا معاملہ بھی زیر غور آیا،سینیٹر اشوک کمار نے کہا کہ بہت ساری ادویات کی قیمتیں وہ سی ای او بڑھا کر گیا جن کمپنیوں کی ادویات بڑھائی گئیں ان کا بھی آڈٹ ہونا چاہیئے،اس سی ای او سے بہت سے غلط کام کروائے گئے کس نے اس کی تعیناتی کی اور کس کو فائدہ ہوا؟ اس حوالے سے بھی کمیٹی کو بتایا جائے، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس سی ای او نے جو فیصلے بھی کیئے ان کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔

اگر کمیٹی وزارت کے جواب سے مطمئن نہ ہوئی تو ہم یہ معاملہ میں نیب کے پاس بھیجیں گے،اجلاس میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ بھی زیر غورآیا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دوائیوں کی قیمتوں کو بڑھایا گیا لیکن وزیراعظم نے اس کا سخت نوٹس لیا اور یہاں تک کہ اپنے وزیر کو بھی ہٹایا،485 ادویات کی قیمتیں 70 سالوں میں پہلی مرتبہ کم ہوئی ہیں،5 ہزار مزید دوائیوں کی قیمتیں کم ہوں گی، اجلاس کے دوران شیشہ کے استعمال کا معاملہ بھی زیر غور آیا،سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ شیشہ پہلے ریسٹورینٹ میں ہوتا تھا اب ہر گھر میں آگیا ہے،وزارت صحت حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ شیشہ پر پابندی نہیں ہونی چاہیئے بلکہ ریگولیٹ ہونا چاہیئے۔