261

اتحادبرائے پشاور

الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں سے خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی نسبت پشاور سب سے کم متاثر ہوا ہے اور سوائے ’نمبروں‘ اور آبادی کی بنیاد پر چند سرکلز میں توڑ جوڑ کے سوا زیادہ کچھ تبدیل نہیں ہوا‘ اصل ضرورت کسی ایسے کثیرالمقاصد سیاسی انتخابی اور سماجی اِتحاد کی ہے جو نسلی اور لسانی بنیادوں پر پشاور کو مزید تقسیم ہونے سے بچائے اور پشاور کے مسائل کو مخاطب کرے۔ ازحد ضروری ہے کہ اِسی اتحاد کی برکت سے پشاور کو وہ قیادت بھی میسر آ سکے جو اس کی حقیقی ترجمان قرار پائے کیونکہ اب تک کے سیاسی و انتخابی تجربات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ ہر سیاسی جماعت نے دوسرے سے بڑھ کر پشاور کا فائدہ اٹھایا اور چلتے بنے‘آئندہ عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں اور اسی ماحول میں جاری گرما گرم بحث کا ایک عنوان جاگ پشاوری جاگ بھی ہے‘اس نعرے سے بظاہر تعصب اور امتیاز کی بو آتی ہے لیکن ہندکو زبان بولنے والوں کا یہ نکتۂ نظر اپنی جگہ غورطلب ہے کہ جب پشاور کے وسائل کے بروئے کار لاتے ہوئے پشتو بولنے والے اپنی زبان پر فخر کر سکتے ہیں اور پشتو زبان و ثقافت ایک طبقے کو متحد رکھ سکتی ہے تو ہندکووان ایسا کیوں نہیں کرتے اور اپنی زبان ہندکو پر کماحقہ فخر کیوں نہیں کیا جاتا؟

پشاور کے شہری علاقوں پر مشتمل ماضی کے این اے ون سے اِنتخابی امیدوار‘ پی ایچ ڈی سکالرسقاف یاسر ایڈوکیٹ سال 1990ء سے سکائینز (skyians) نام کی غیرسرکاری تنظیم کے سربراہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہندکو زبان بولنے والے آئندہ عام انتخاب میں اپنی زبان و ثقافت سے تعلق رکھنے والے انتخابی امیدواروں کو ترجیحاًووٹ دیں۔ ہندکو زبان سے جڑے محض طنزومزاح کے تاثر و تصور کو زائل کرنے سے متعلق شعور اجاگر کرنا بھی انکی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے اور وہ پشاور کو اس کی کھوئی ہوئی سیاسی‘ سماجی اور ثقافتی شناخت واپس دلانے کیلئے پرامید ہیں‘ انٹرنیٹ کے ذریعے سماجی رابطہ کاری کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے سقاف یاسر کا پیغام ہے کہ قومی سیاست کرنیوالی مذہبی اور دیگر جماعتوں نے انفرادی یا اجتماعی طور پر ہمیشہ پشاور کو دھوکہ دیا اور بارہا یہاں سے منتخب ہونے کے باوجود بھی پشاور کے حقوق کماحقہ ادا نہیں کئے‘ وقت ہے کہ پشاور کے نوجوانوں کو قیادت کرنے کا موقع دیا جائے‘ جنکی ترجیحات‘فکرونظر اور بول چال میں صرف اور صرف پشاور کا عکس دکھائی دے‘ جو اپنی زبان و ثقافت پر فخر کریں‘۔

سماجی سطح پر اتحاد کے لئے کوششیں کی جائیں‘ تیزی سے پھیلتے پشاور کے وسائل پر آبادی کے بوجھ اور پائیدار ترقی کی راہیں متعین کی جائیں‘ پشاور کے ماحولیاتی تنوع اور تحفظ کی اِہمیت اجاگر کرنے کیساتھ شہری زندگی کا حسن اور صحت و تعلیم‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسی درکار بنیادی سہولیات جیسے موضوعات ہرسطح پر زیربحث لائے جائیں‘شعور کی کسی بلند منزل پر جاگتے پشاور کا خواب دیکھنے والوں کی انتخابی کامیابی بصورت تحریک ممکن ہے لیکن اندیشہ ہے کہ سب سے زیادہ رکاوٹیں ہندکووان ہی حائل کرینگے۔بہت پرانی بات نہیں جب ...پشاور پھولوں کا شہر کہلاتا تھا کیا اب بھی ایسا ہی ہے؟ پشاور کے باغات وقف عام اور پررونق ہوا کرتے تھے کیا باغات کوواگزار اور مفاد عامہ میں بحال ہونا چاہئے؟ پشاور میں صحت مند تفریح کے مواقعوں کی فراہمی کس کی ذمہ داری ہے؟ المیہ ہے کہ پشاور کی 92 یونین کونسلوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جہاں کے رہنے والوں کو بنیادی سہولیات‘ معیاری صحت و تعلیم اور پینے کا صاف پانی میسر ہو لیکن سارا زور اگر کسی بات پر ہے کہ تو وہ مجوزہ حلقہ بندیوں پر ہے جس میں پشاور سے این اے ون ہونے کا اِعزاز چھن گیا ہے‘لغت میں سیاستدان کی اصطلاح اس کردار کا صفاتی تعارف ہے‘ جو معاشرے میں اختلافات پیدا ہی نہ ہونے دے یا انکے خاتمے کیلئے کوششیں کرے لیکن ہمارے ہاں سیاستدان اس باکمال و باہنر شخصیت کو کہا جاتا ہے جو اختلافات کو ہمیشہ زندہ و تازہ دم رکھنے کی مہارت رکھتا ہو‘ جسکے ہاں نت نئے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی اہلیت پائی جائے۔

اگر الیکشن کمیشن نے تنازعات سے بچنے کیلئے عالمی اصولوں کے مطابق جنوب سے شمال کی طرف انتخابی حلقہ بندیاں کی ہیں‘ تو اسکی تعریف ہونی چاہئے تھی‘سیاست کو اجتماعیت کے اصولوں پر استوار بنانے کیلئے ہمیں کسی نہ کسی ایسے مسلمہ اصول کو بطور کسوٹی بہرحال تسلیم کرنا پڑے گا جو اپنی فطرت میں اختلافی نہ ہو۔ یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ شمال سے جنوب کی طرف انتخابی حلقہ بندیوں میں پشاور سے کیا چھن گیا ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کو کیا کچھ مل گیا ہے۔کیا مثبت سوچ اور اجتماعی بہبود کی عینک لگا کر اصلاح و تبدیلی نہیں لائی جا سکتی؟بنیادی سوال ہے کہ جب پشاور کی شناخت این اے ون ہوا کرتا تھا تو اس سے کیا حاصل ہوا اور اگر یہ عدد تبدیل ہو جاتا ہے تواس سے مستقبل میں کیا اثرات مرتب ہوں گے؟۔