185

اہم خارجی مسائل

امورخارجہ کے محاذ پر دو ایسی اہم خبریں ہیں جو تبصرے کی متقاضی ہیں پہلی خبر امریکہ میں پاکستان کے نئے سفیر کی تعیناتی کے بارے میں ہے اور دوسری سعودی عرب کے ولی عہد کے ایک نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ بیان کی بابت‘ یہ تو اس ملک کا تقریباً ہر باسی اچھی طرح سے جانتا ہے کہ یوں تو امور خارجہ میں دنیا کے ہر ملک کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے لیکن بعض ممالک ایسے ہیں کہ جو پاکستان کیلئے زیادہ سیاسی اورعسکری اہمیت کے حامل ہیں جیسا کہ چین ‘ بھارت ‘ ایران ‘ افغانستان ‘ چین ‘ روس اور امریکہ وغیرہ‘ ماضی میں واشنگٹن ‘ بیجنگ ‘ کابل ‘ تہران ‘ ماسکو اور نئی دلی میں فارن سروس کے بہترین اہلکاروں کو بطور سفیر لگایا جاتا تھا سیاست کے میدان سے بھی یعنی فارن سروس کے کیرئیر ڈپلومیٹس کے بجائے اگر اوپن مارکیٹ سے بھی کسی فرد کو چن کر ان ممالک میں سفیر تعینات کیا جاتا تو نہایت تجربہ کار اور سیاسی طور پر نہایت ہی باشعور ‘ زیرک اور تجربہ کار اور جہاں دیدہ ہوتا۔

وزیراعظم صاحب نے اگلے روز واشنگٹن میں بطور پاکستان کے سفیر ایک جواں سال فرد کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے اور حکومتی حلقے تجارت کی دنیا میں اس کے کارناموں پر رطب اللسان ہیں تجارت اور سیاست دو مختلف چیزیں ہیں سیاست کی باریکیاں سمجھنے کیلئے ایک عمر درکار ہوتی ہے وقت چاہئے ہوتا ہے یہ ضروری نہیں کہ ایک اچھا فیکٹری منیجر اچھا ڈپلومیٹ بھی ثابت ہو آج امریکہ میں تعیناتی کیلئے ہمیں جمشید مارکر ‘ جنرل یعقوب علی خان ‘ جے اے رحیم ‘ مسعودخان وغیرہ جیسے نہایت ہی تجربہ کار ڈپلومیٹ درکار ہے کہ جس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوسعودی عرب کا ولی عہد نہ صرف یہ کہ بونگیاں مارنے کیلئے بدنام ہے وہ ہوش کے بجائے جوش کا مظاہرہ کر رہا ہے بالکل اسی طرح امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وطیرہ ہے ان دونوں میں ایک قدرے مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ اکثر یہ دونوں بغیر سوچے سمجھے بول اٹھتے ہیں جو بعد میں ان کی سبکی کا باعث بن جاتا ہے سعودی عرب کے ولی عہد نے اپنے ملک کے اندر اصلاحات کا بیڑا اٹھایا ہے لیکن ان میں وہ حد سے زیادہ عجلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو سیاسی طور پر ان کومہنگا پڑ سکتا ہے۔

وہاں کے وہابی علماء اقتدار اعلیٰ میں اپنی گرفت کو اتنی آسانی سے چھوڑنے والے نظر نہیں آرہے جس بات کا ہم آج ذکر کرنا چاہتے ہیں وہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے نہ صرف سعودی عرب کیلئے بلکہ پورے عالم اسلام کیلئے جس کو آج باہمی اتحاد کی جتنی سخت ضرورت ہے غالباً اس سے پہلے اس قدر نہ تھی موصوف نے اپنے ایک حالیہ بیان میں ترکی کو برا ‘ فاسق اور شرانگیز قرار دیا ہے سعودی عرب کے ولی عہد کے اس بیان سے ترکوں کیخلاف عربوں کے دلوں میں جو نفرت ہے وہ عیاں ہو جاتی ہے تاریخ کے طالب علم یہ جانتے ہیں کہ کئی سو سالوں تک دنیا میں سلطنت عثمانیہ کا راج تھا جسکے بانی مبانی ترک تھے تاریخ کے طالب علم یہ بھی جانتے ہیں کہ کس طرح فرنگی جاسوس جو تاریخ میں لارنس آف عریبیا کے نام سے جانا جاتا ہے نے حجاز کے گورنر شریف حسین جو اپنے آپ کو ہاشمی خاندان کا فرد گردانتا تھا ترغیب دی اور گمراہ کیا کہ وہ ترکوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرے اور یہ کہ اس مقصد کے حصول کیلئے فرنگی اس کی عسکری حمایت کریں گے اور کس طرح پھر فرنگیوں کی اس قسم کی سازشیں رنگ لائیں اور سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر گیا کبھی کبھی جب یہ خیال آتا کہ اگر مسلمان ممالک کی آپس میں نفاق کی یہ حالت ہو گی تو عالمی سطح پر عالم اسلام کے اتحاد کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو گا۔