198

عدم برداشت

سیاست اور برداشت ہم وزن وہم معنی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ کسی لفظ کے اصطلاحی اور عملی مفاہیم ایک دوسرے کے قریب بھی ہوں‘ہمارے سیاستدانوں نے جس انداز میں آئین کو انفرادی مفادات کے تابع بنا دیا ہے اور جس انداز میں اختلافی نکتہ نظر کو برداشت نہ کرنے کی ایک سے بڑھ کر ایک مثالیں قائم کی گئی ہیں اس سے سیاست ذاتی و انتخابی مفادات کی اسیر بن کر رہ گئی ہے۔ عام آدمی کے نکتہ نظر سے سیاست خدمت نہیں بلکہ کاروبار ہے اور رواں ماہ کو ہوئے سینٹ انتخابات کی پولنگ کے نتائج سے ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا ہے کہ پارلیمانی سیاست دراصل بے اصولی کا ممجموعہ ہے اور اس سے خیر کی توقع رکھنا خود کو دھوکہ دینا ہے‘سیاست اور اخلاقیات بھی ہم وزن و ہم معنی اصطلاحات ہیں لیکن افسوس کہ پارلیمانی اِداروں میں اخلاقی اَقدار کو خاطرخواہ اہمیت حاصل نہیں اور جہاں اخلاق نہیں رہتا‘ وہاں امانت و دیانت جیسے ہم وزن و ہم معنی الفاظ بھی اپنی موت آپ مر جاتے ہیں! حکومتی فیصلہ سازی کے منصب پر فائز کردار اگر خود کو احتساب کے لئے پیش نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ بدعنوانی انکا استحقاق ہے۔ تو وہ جو چاہے کرتے پھریں لیکن ان کا یا ان کے اہل و عیال کا احتساب نہیں ہونا چاہئے‘ اس سے محکوم طبقات کی محرومیاں لاوا بن کر ابل پڑتی ہیں‘ جسکے افسوسناک اور قابل مذمت مظاہرے دس مارچ اور گیارہ مارچ کے روز دیکھنے میں آئے‘ جب قدکاٹھ رکھنے والی دو اہم سیاسی شخصیات کو غیرمتوقع حالات کا سامنا کرنا پڑا!گیارہ مارچ کے روز پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت کے قائد نواز شریف نجی تقریب میں خطاب کرنے آئے تو اُن پر جوتے سے وار کیا گیا۔

جو ان کے کندھے سے لگا اور وہ اِس غیرمتوقع استقبال پر ہکا بکا رہ گئے! دارالعلوم نعیمیہ کی اِنتظامیہ نے جوتا پھینکے والے شخص کو پکڑا جبکہ تقریب میں موجود لوگوں نے اس شخص کی دل کھول کر پٹائی کی لیکن حملہ آور کو افسوس یا شرمندگی نہیں تھی بلکہ اُس نے فاتحانہ انداز میں دونوں ہاتھ بلند کر کے فتح کا جشن منایا۔ نواز لیگ ہی کے رہنما خواجہ آصف پر تقریب کے دوران سیاہی پھینکنے کا واقعہ گزشتہ روز پیش آیا اور اِن پے درپے واقعات کی کسی بھی سیاسی جماعت نے تعریف و توصیف اور حمایت نہیں کی‘ جو مسئلے کا حل نہیں‘تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ایسے واقعات اخلاقیات کا حصہ نہیں‘ انہوں نے اِس بات پر خوشی کا اِظہار کیا کہ اِس عمل میں تحریک اِنصاف کا کوئی کارکن ملوث نہیں پایا گیا یقیناًسیاہی اور جوتا پھینکناکسی کے سیاسی نکتہ نظر سے اختلاف اور اِس اختلاف کے بارے میں پرتشدد انداز اختیار کرنا مہذب انداز نہیں لیکن جہاں ریاستی نظام و قانون افراد کے تابع بنا دیئے گئے ہوں‘ جہاں ایک طرف غربت افلاس بیروزگاری توانائی و اقتصادی بحران اور مہنگائی سے نمٹنے والی اکثریت ہو اور دوسری طرف امتیازات کو ہوا دینے والے حکمران‘ تو انقلاب کی چنگاری کسی راکھ میں نہیں بلکہ اسی طرح کی سیاہی اور جوتے سے مؤجب بنتی ہے!ہر سیاست دان اور سیاسی جماعت مذمت کرنے میں پیش پیش ہے لیکن اس بنیادی محرک کا ذکر نہیں کیا جارہا‘ جس نے عوام کو اِس قسم کی خودکش مہم جوئی اور عدم برداشت کے اظہار پر مجبور کیا ہے! سیاستدانوں کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ گلوبٹ جیسے کرداروں کی پشت پناہی‘ اِنصاف تک رسائی کے عمل کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کرنے اور خواص کو ملکی قوانین سے بالاتر بنانے والوں کے خلاف تو وہ کبھی بھی یوں آن کی آن یک زبان نہیں ہوئے!

اگر سیاست دانوں کی عزت ہے تو کیا عام آدمی کی کوئی عزت نہیں‘ جس کی قسمت میں ہر روز جوتوں (ذلت) سے تواضع لکھ دی گئی ہے! ٹیکس چوروں کے مراعات اور ٹیکس ادا کرنے والوں کی چند بوند صاف پانی سے محرومی‘ سرکاری علاج گاہوں میں پڑنے والے جوتے‘ ملاوٹ شدہ اجناس کی مار‘ جعلی ادویات کی صورت مرمت‘ نجی تعلیمی اداروں کا لاٹھی چارج‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں‘ تھانہ کچہری اور پٹوارخانے کے ہاتھوں کیا کسی بااثر شخص کی درگت بنتے دیکھی گئی ہے؟ پبلک ٹرانسپورٹ میں ہر روز کس کی تذلیل ہوتی ہے؟ عام آدمی کے غیض و غضب کی شدت کو سمجھنے کی ضرورت ہے‘ اگر اس طرح کے واقعات ہوتے رہے تو سیاستدانوں کو عوام سے فاصلہ بڑھانا پڑے گا۔ نواز شریف جس جوتا کلب کے رکن بنے ہیں اسکے تازہ ترین ممبر خیبرپختونخوا اسمبلی کے بلدیو کمار بھی شامل ہیں جنہیں اٹھائیس فروری کو اسمبلی اجلاس کے دوران ارباب جہانداد نے جوتا مارا۔ چار مارچ دوہزار سترہ کے روز لاہور میں ’عوامی مسلم لیگ‘ کے سربراہ شیخ رشید کو ریلوے سٹیشن پر نامعلوم شخص نے جوتا مارا تھا اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چوبیس اپریل دوہزارچودہ کا دن بھی محفوظ ہے جب ساؤتھ ایشیاء لیبر کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرف جوتا اُچھالا گیا‘ پرویز مشرف کو سندھ ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر جوتا دیکھنا پڑا جبکہ سندھ اسمبلی کی عمارت میں سابق وزیر اعلیٰ ارباب رحیم کو اپریل دوہزار آٹھ میں بطورنو منتخب رکن صوبائی اسمبلی حلف لینے کے بعد جوتاسہنا پڑا‘ کسی سیاستدان پر جوتا پھینکنے کا پہلا واقعہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ پیش آیا‘ جنہیں عوامی عدالت نے نام نہاد دہشت گردی کے نام پر مسلمان ممالک پر جنگ مسلط کرنے کی سزا دی تھی! پاکستانی حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ عوام کی عدالت سے رجوع کرنے کی صورت اُنہیں ایسے غیرمتوقع فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔