243

چیئر مین سینٹ کا انتخاب

ہمارے قریبی دوست اور اے این پی کے دیرینہ کارکن ہمایون خلیل نے سینٹ الیکشن کے نتائج پر میرے ایک حالیہ کالم میں تمام دیگر جماعتوں کی کارکردگی اور کردار پر گفتگو کے دوران اے این پی کا ذکر نہ کرنے کاگلہ کیا ہے۔ہمایون خلیل کی باتوں میں اس حدتک تو کافی وزن ہے کہ اے این پی ایک نظریاتی سیاسی جماعت ہے اور حالیہ سینٹ الیکشن میں اسکے ممبران اسمبلی نے ووٹوں کی خرید وفروخت کی لعنت سے خود کو جس استقامت سے بچا کر رکھا ہے اس پر نہ صرف یہ ممبر ان قابل مبارک باد ہیں بلکہ اس کا کریڈٹ اے این پی کو بھی یقیناملنا چاہئے‘اے این پی نے کروڑ پتی اور ارب پتی امیدوار کو سینٹ کا ٹکٹ دینے کی بجائے پارٹی کی ایک مخلص ورکر شگفتہ ملک کو نامزد کر کے ایک اچھی روایت قائم کی حالانکہ اگر اے این پی چاہتی تو دیگر جماعتوں کی طرح وہ بھی کسی کروڑ پتی یا ارب پتی خاندان کی خاتون امیدوار کو میدان میں اتار کر اپنی نشست کنفرم کر سکتی تھی لیکن اے این پی نے ایسا نہ کر کے شکست کا کڑوا گھونٹ تو حلق سے اتارلیا لیکن اپنے دامن پر کروڑپتیوں کے ہاتھوں بکنے کا الزام قبول کرنا پسند نہیں کیا۔

اے این پی اور جماعت اسلامی کی یہی قدر مشترک ان دونوں نظریاتی مخالف جماعتوں کو پہلی دفعہ ایک دوسرے کے اتنا قریب لانیکا باعث بنی ہے کہ دونوں نے نہ صرف سینٹ کا الیکشن مل کرلڑا ہے بلکہ جماعت اسلامی کے وفد نے اپنے صوبائی امیر اور نومنتخب سینیٹر مشتاق احمد خان کی قیادت میں باچا خان مرکز کا دورہ کرکے ایک دوسرے کو جس خیر سگالی کا پیغام دیا ہے اسے بہت سارے دل جلے چاہے کوئی بھی نام دیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ا س طرح کے رابطے اور اعتماد سازی کے اقدامات نہ صرف خوش آئند ہیں بلکہ ان اقدامات کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہئے‘اے این پی کی سیاست اورا سکے نئے قومی کردار پر تبادلہ خیال کو کسی اور موقع کے لئے اٹھا رکھتے ہوئے اب چلتے ہیں سینٹ کے اس معرکے کی طرف جس کا پہلا مرحلہ تو اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا ہے اور آج اس سلسلے کا وہ آخری مرحلہ طے ہونا ہے جس میں سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ہو گاجس پر پوری قوم کی نگاہیں پچھلے کئی ماہ سے مرکوز ہیں۔

اس حتمی مرحلے کے حوالے سے قوم اس ہیجانی کیفیت میں ہرگزمبتلا نہ ہوتی اگر پہلے مرحلے میں ٹکٹوں کی تقسیم سے لیکر ووٹوں کی خرید وفروخت اور اسکے نتیجے میں پہلی دفعہ بڑے پیمانے پر آزاد امیدواراس مقدس ایوان میں پہنچ کر اس کے تقدس کو پامال کرنے کا باعث نہ بنتے‘پچھلے چند دنوں سے جب سے سینٹ کے نتائج سامنے آئے ہیں اور ان میں بلوچستان اور فاٹا کے آزاد ممبران کو جو فیصلہ کن کردار ملا ہے جس کی طرف ہم اپنے ایک گزشتہ کالم میں اشارہ بھی کر چکے ہیں اس صورتحال کو ہماری لولی لنگڑی جمہوریت کے لئے نیک شگون ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا ہے‘پانچ سو ووٹوں سے ممبرصوبائی اسمبلی بننے اور پانچ ممبران صوبائی اسمبلی کی بنیاد پر پیرا شوٹ کے ذریعے وزیراعلیٰ بننے والے عبدالقدوس بزنجو کو پچھلے چند دنوں سے قومی سطح پر بادشاہ گر کی جو حیثیت حاصل ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے نہ صرف سر شرم سے جھک جاتا ہے بلکہ اس کیفیت اور ملک کی دو بڑی جماعتوں کے قائدین کو ایک نومولود سیاسی لونڈے کے ارد گر منڈلاتے ہوئے دیکھ کرپاکستان کی سیاست اور جمہوریت پرترس بھی آنے لگتا ہے دراصل اس ڈرامے کی بنیاد اس وقت ہی رکھ دی گئی تھی۔

جب بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کی صفوں میں بغاوت برپا کر کے اکثریت کو اقلیت اور اقلیت کو راتوں رات اکثریت میں تبدیل کردیا گیاتھا جبکہ رہی سہی کسر سینٹ الیکشن کے دوران پوری کر دی گئی تھی‘تادم تحریر اب تک بلوچستان کے آزاد امیدواران جو عبد القدوس بزنجو کے ہاتھ پر سیاسی بیعت کر چکے ہیں کی جانب سے چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے امیدواران انوارلحق کاکڑ اور صادق سنجرانی کی صورت میں سامنے آ چکے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی جو پہلے مرحلے میں تو بڑی جارحانہ موڈ میں تھی لیکن اس کے غبارے سے اگر ایک طرف عمران خان نے اسکے امیدوار کی حمایت نہ کرنے کے اعلان کے ذریعے ہو انکال دی ہے تو دوسری طرف میاں نواز شریف نے اپنی اکثریت اور راجہ ظفر الحق جیسے پارٹی سے وفاداراور کہنہ مشق رہنما کی قربانی دیکر اپنی اکثریت کا وزن رضا ربانی کے پلڑے میں ڈال کر جہاں آصف زرداری کو بیک فٹ پر کھیلنے پر مجبور کر دیاہے وہاں نواز شریف کی اس فراخدلانہ پیشکش کی غیر مشروط حمایت جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی جانب سے سامنے آنے کے بعد توقع ہے کہ اے این پی اور ایم کیو ایم سمیت حکومت کی دیگر اتحادی جماعتوں پختونخوا میپ ‘ جمعیت (ف) اور بی این پی کی جانب سے بھی رضا ربانی کو غیر مشروط حمایت ملنا یقینی ہے‘ایسے کسی ممکنہ اتفاق رائے کی صورت میں فاٹاکے ممبران کے پاس بھی رضا ربانی کی حمایت کے سوا اور کوئی آپشن نہیں ہوگا لہٰذا توقع یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کسی اور کا کھیل کھیلنے کی بجائے رضا ربانی کے ذریعے کھیلنے کوترجیح دے گی جس میں اس کا بھرم بھی ر ہ جائے گا اور اس سے جمہوریت کا بھی بھلا ہوگا ‘امید ہے پی پی اس چانس کو مس نہیں کریگی۔