247

جیل خانہ جات : اصلاحات

’’دل بینا بھی کر خدا سے طلب ۔۔۔ آنکھ کا نور دل کا نور نہیں۔‘‘ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا کے جاری اصلاحاتی عمل کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں جن میں بطور مثال جیل خانہ جات کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں جرائم کی آماجگاہ اور بنیادی سہولیات سے محروم قیدخانوں کا نام آتے ہی ذہن میں جو نقشہ ابھرتا تھا‘ وہ تنگ و تاریک بدبودار کوٹھڑیاں‘ آہنی سلاخوں سے بنے قوی دروازے‘ اونچی چھتوں والے کمرے‘ قریب تین فٹ موٹائی والی دیواریں‘ قیدیوں سے مشقت کے مناظر‘ بیڑیاں‘ تشدد و سزاؤں میں استعمال ہونے والے آلات‘ بے حس تلخ رویئے اور روکھا پھیکا کھانا (لنگر) ہوتا تھا‘ جن پر خوف کا ذائقہ ہمیشہ غالب رہتا لیکن اب ایسا نہیں رہا ایک عرصے تک جہاں کچھ بھی نہیں بدلا تھا وہ خیبرپختونخوا کے پراسرار جیل خانہ جات تھے‘ بدقسمتی سے وہی انگریز دور کے چھوڑے ہوئے معمولات اور سزائیں‘ جیل عملے کے مسائل و مشکلات اور حالت زار کی کیفیات دیکھ کر تو ایسے لگتا تھا کہ جیسے قیام پاکستان سے قبل کا زمانہ ہنوز طاری‘ جاری و ساری ہو۔ خوش آئند‘ لائق توجہ ہے کہ جاری اصلاحاتی عمل آئی جی جیل خانہ جات شاہد اللہ خان کی ذاتی دلچسپی اور سنجیدگی کا عکاس ہے جن کے بقول ماضی میں جیل خانوں کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی گئی‘ اور یہی بنیادی سبب رہا کہ حکومت کی جانب سے مطلوبہ وسائل مہیا نہیں کئے جاتے تھے‘ تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت نے اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے نہ صرف حسب حال و ضرورت مالی وسائل فراہم کئے ہیں بلکہ اصلاح احوال میں جیل خانہ جات کے حفاظتی انتظامات کی بہتری بھی شامل کی گئی ہے جسکے لئے پینتیس کروڑ روپے کی لاگت سے اسلحہ اور نگرانی کے الیکٹرانک آلات خریدے گئے جن میں جی تھری رائفلز‘کلاشنکوف‘ سنائپر گنیں‘ ہیلمٹ‘ نائٹ ویژن آلات‘ میٹل ڈیٹیکٹرز واک تھروگیٹس‘ سکینرز اور موبائل فون کمیونیکیشن آلات کی نشریات روکنے کیلئے جیمرز شامل ہیں۔

جیل خانہ جات میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے کے لئے عنقریب ایک ہزار افراد کی بھرتی بھی حکمت عملی کا حصہ ہے جبکہ عملے کی فوجی تربیت کا عمل جاری ہے اور تین سو پچاس وارڈنز کی تربیت مکمل ہوچکی ہے۔ مختلف شعبوں میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے کے لئے چودہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس کی بھرتی اور ایک عرصے سے معطل جیل خانہ جات کے اعلیٰ و ادنی اہلکاروں کی محکمانہ ترقیاں بھی بحال کر دی گئی ہیں۔صوبائی حکومت کی مشاورت و تائید سے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس کو یکساں سکیل دے دیا گیا ہے اور ملازمین کی محکمانہ ترقی کے نظام کو مربوط و آسان بنادیا گیا ہے۔ پشاور‘ ہنگو‘ سوات اور صوابی جیل کی نئی عمارتیں تکمیل کے آخری مراحل سے گزر رہی ہیں۔ کرک جیل بھی اَپ گریڈ کر دی گئی ہے جبکہ جیلوں میں شمسی توانائی سے چلنے والے گیزرز‘ پینے کے پانی کی ٹینکیوں کی تبدیلی اور پانی کی جراثیم کش ادویات سے تطہیر (کلور ینیشن) جاری ہے۔ قیدیوں سے ملاقاتیوں کے کمروں کو ماڈل بنانے اور بذریعہ انٹر کام بات چیت کرنے سے جیل خانہ جات کی سکیورٹی اور سہولیات کا معیار ایک درجہ بلند ہوگا‘اس قسم کی سہولیات کی فراہمی سے خیبرپختونخوا کے جیل خانہ جات ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے نسبتاً جدید ہو جائیں گے‘قیدیوں اور حوالاتیوں کیلئے ویڈیو لنک نظام بھی جلد متعارف کرا دیا جائیگا جسکے ذریعے خطرناک قیدیوں کو عدالت میں جسمانی طور پر پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ جیل کے اندر ہی سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کاروائی میں حصہ لے سکیں گے۔علاؤہ ازیں خیبر پختونخوا کے جیل خانہ جات میں یونیفارم کا اجرأ عمل میں لایا جا رہا ہے‘ جس میں سزایافتہ قیدیوں کیلئے سبز رنگ جبکہ زیرحراست حوالات کے قیدی نیلے رنگ کے کپڑے استعمال کریں گے۔

‘مجموعی طور پر خیبرپختونخوا کے جیل خانہ جات میں رائج انگریز دور کے 204 قوانین و قواعد کا خاتمہ کیا گیا ہے جن میں قیدیوں کو بیڑیاں پہنانا‘ کوڑے لگانا اُور ’قصوری چکی‘ جیسی سزاؤں کا خاتمہ قابل ذکر اقدامات ہیں‘اسی طرح 76نئے قوانین کا جیل قواعد (مینؤل) میں اضافہ ہوا ہے جبکہ 38 رولز میں ضروری ترامیم کرتے ہوئے شارٹ پیرول کا اختیار متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو سونپ دیا گیا ہے کیونکہ ماضی میں شارٹ پیرول کی درخواستیں ہوم سیکرٹری تک پہنچتے مہینوں لگ جاتے تھے جبکہ لانگ پیرول کا اِختیار ہوم سیکرٹری ہی کے پاس رہے گا جیلوں کا سارا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کردیاگیا ہے۔ اب ہر قیدی کے کوائف فوری اور ہمہ وقت دستیاب رہتے ہیں۔ صوبے کی جملہ جیلوں میں اے‘ بی اور سی کلاسیز ختم کرکے صرف ایک ہی کلاس رائج کر دی گئی ہے اور تمام قیدیوں سے یکساں سلوک روا رکھا جائے گا‘اسی طرح غیر مسلموں کیلئے مسلمان قیدیوں کی طرح معافی کی گنجائش اور غیر مسلم قیدیوں کیلئے مذہبی کتب کی فراہمی بھی قابل ذکر ہیں‘ جنہیں مسلمانوں کی طرح اپنے مذاہب کے اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا‘ جیلوں میں کھانے پینے کے معمولات اور معیار بہتر بنانے کیلئے ’میس سسٹم‘ کے ذریعے ہر قیدی اور حوالاتی کو باعزت انداز میں کھانا دیا جائیگا جیلوں میں بالٹی کے ذریعے کھانے کی تقسیم عنقریب مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی جبکہ تجربہ کار باورچیوں کی خدمات حاصل کرنے کے بعد قیدیوں سے مشقت لینے کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا‘ سزا مکمل کرنے کے بعد قیدیوں کو معاشرے کا فعال و ذمہ دار رکن بنانے کے لئے جیل خانہ جات میں فنی تربیت گاہیں بنائی گئی ہیں جیسا کہ پشاور جیل میں قیدیوں کوموبائل فون ریپئرنگ اور دیگر ہنر کے علاوہ کمپیوٹرکے علوم سے بھی روشناس کیا جا رہا ہے جیلوں میں اخبارات اور کتب کی فراہمی غیرمعمولی اقدام ہے‘ جسکے ذریعے قیدی اپنے ساتھ مطالعے کا ذوق و شوق لیکر عملی دنیا میں قدم رکھیں گے تو یقیناًپہلے سے بہتر بلکہ شعوری طور پر بھی نکھرے ہوئے فرد ثابت ہوں گے۔ قیدیوں کے لئے ان ڈور اور آؤٹ ڈور کھیلوں کا بندوبست ماضی میں ہوتا رہا ہے تاہم اس سلسلے میں باقاعدہ مقابلوں کا انعقاد زیرعنوان اصلاحی حکمت عملی کا جز ہے‘‘ اُمید ہے کہ بہتری کی گنجائش کو بھی ملحوظ رکھا جائے گا اور تبدیلی جاری و ساری رہے گی۔