244

تھک گیا ہوں!

کھیل ہی کھیل میں صورتحال سنگین اور پشاور زلمے مخالف ہو رہی ہے‘پاکستان سپر لیگ کے جاری سیزن تھری کرکٹ مقابلوں کی سنسنی خیزی اپنی جگہ لیکن یادش بخیر سیزن ٹو کے دوران جب ایک مرحلے پر کراچی اور لاہور کا مقابلہ تھا‘ تب کراچی نے ٹاس جیت کر لاہور کو کھیلنے کی دعوت دی جس نے آخر میں رضوان کے بتیس اور سہیل تنویر کے بائیس رنز کی بدولت ایک سو پچپن رنز کا قدرے معقول ہدف دیا اور آخری ساڑھے پانچ اوور میں پچپن رنز کا اضافہ یادگار کارکردگی تھی۔ جواب میں کراچی بارہویں اوور تک حاوی رہا۔ صرف ایک وکٹ پر اس کے اسی رنز تھے لیکن جیسے ہی کپتان کمار سنگاکارا آؤٹ ہوئے گویا معاملہ خراب ہوگیا اور کچھ ہی دیر میں انچاس رنز بنانے والے بابر اعظم‘ پھر شعیب ملک اور روی بوپارا کی وکٹیں بھی گئیں‘ تب صرف اٹھائیس گیندوں پر چھپن رنز کی ضرورت تھی اور عماد وسیم کے ساتھ میدان میں موجود تھے کیرون پولارڈ! ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی دنیا کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی کے لئے موجودہ پی ایس ایل سیزن اچھا نہیں تھا لیکن اس مقابلے میں پولارڈ نے ثابت کیا کہ کرکٹ صرف اچھی قسمت ہی کا نام نہیں بلکہ اِس میں تجربے کی بھی اہمیت ہوتی ہے اور یہ ہوا کہ ہر اوور میں کم از کم ایک باؤنڈری لگاتے ہوئے انہوں نے مقابلے کو آخری چھ گیندوں تک پہنچایا جہاں کراچی کو جیت کیلئے چودہ رنز کی ضرورت تھی‘عامر یامین نے پہلی چار گیندوں پر صرف چار رنز دیئے اور لگتا تھا مقابلہ لاہور لے جائے گا‘ تب پولارڈ نے پانچویں اور چھٹی گیند پر دو جاندار چھکے لگا کر میچ کا فیصلہ کردیا اور اس فتح کے بعد منایا گیا پولارڈ کا جشن کبھی نہیں بھلایا جاسکتا‘ جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آخر کراچی اور لاہور کے مقابلے کی اتنی اہمیت کیوں ہوتی ہے؟

تقریباً ایک سال بعد پی ایس ایل تھری میں دونوں ٹیمیں اپنے آخری مقابلے میں پھر ٹکرائیں‘ یہ مقابلہ بھی بہت اہم تھا‘ لاہور کیلئے نہیں کہ وہ تو اعزاز کی دوڑ سے باہر ہوچکا تھا البتہ اسے ساکھ بہتر بنانے کا مسئلہ درپیش تھا جبکہ کراچی کو اگلے مرحلے کی نشست پکی کرنی تھی وہ مقابلہ جو جتنا آسان دکھائی دے رہا تھا دونوں ٹیموں کیلئے نہایت ہی مشکل ثابت ہوا بلاشک و شبہ یہ پی ایس ایل کی تاریخ کے بہترین مقابلوں میں سے ایک تھا‘کراچی کے عثمان شنواری نے جس آخری گیند پر وکٹ لی اور اپنے تئیں کراچی کو مقابلہ جتوا دیا تھا‘ وہ نو بال ثابت ہوئی جس کے بعد لاہور کو ایک بال پر صرف دو رنزدرکار تھے مگر دوبارہ پھینکی گئی آخری گیند پر وہ دو رنز بھی نہیں بن سکے اور یوں مقابلہ فیصلہ کن سپر اوور تک چلا گیا‘جہاں لاہور نے اپنی باؤلنگ اور فیلڈنگ کی مدد سے حیران کن کامیابی حاصل کی‘لاہور قلندرز کی ٹیم آٹھ مقابلوں میں چھ شکستوں کیساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہوچکی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سیزن کے دو بہترین مقابلے اسی لاہور کی ٹیم نے کھیلے ہیں یعنی سپر اوور والے میچز‘ اسے اسلام آباد یونائیٹڈ کی اعصابی مضبوطی کہہ لیں یا لاہور قلندرز کی کمزوری کہ پہلے مقابلے میں آندرے رسل کے چھکے کی بدولت لاہور جیت کے اتنا قریب پہنچنے کے باوجود بھی بازی اپنے نام نہ کرسکی لیکن کراچی کیخلاف مقابلے میں اس نے ایسی کوئی غلطی نہیں دہرائی۔

ایک تو اوور کسی دوسرے کو نہیں بلکہ سنیل نرائن کو دیا پھر کیچ چھوڑنے کی بے وقوفی نہیں کی بلکہ مچل میک کلیناگھن نے کولن انگرام کا جو کیچ پکڑا‘ اس نے کراچی کو زبردست دھچکا پہنچایا‘ اور مقابلے ہی سے باہر کردیا۔ یوں لاہور نے سیزن میں کراچی کیخلاف پہلے مقابلے کی شکست کا بدلہ بھی لے لیا گیا‘ کراچی کنگز کو ابھی دو میچز کھیلنے ہیں کہ جہاں ایک میں بھی کامیابی اس کی مشکلات کو آسان کردے گی جبکہ ملتان اور پشاور کا معاملہ کچھ گھمبیر ہے‘ زلمی کو اپنے باقی دونوں میچز جیتنے ہیں جبکہ ملتان سلطانز کو واحد بچ جانے والے میچ میں لازمی کامیابی حاصل کرنی ہے اب ایسا ہوتا ہے یا نہیں‘ اس کے لئے ہم سب کو سولہ مارچ تک انتظار کرنا ہوگا اور اگر اس مقابلے میں بھی لاہوری جیت گئے تو سمجھیں پشاور کے لئے پی ایس ایل سیزن تھری کی کہانی ختم ہو جائے گی۔