108

تعلیمی اداروں میں طلباء کے منشیات ٹیسٹ لینے کا بل پیش 

اسلام آباد۔قومی اسمبلی میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کیلئے سال میں ایک مرتبہ غیر اعلانیہ طلباء کے منشیات ٹیسٹ لینے کا بل پیش کر دیا گیا،بل کے تحت سال میں ایک مرتبہ غیر اعلانیہ طلباء کا منشیات ٹیسٹ لیا جائے گا،منشیات ٹیسٹ نہ دینے والے طلباء کو سالانہ امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہو گی،ایسے تعلیمی ادارے جو منشیات ٹیسٹ لینے میں ناکام ہوں ان پر 5لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا ۔ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کی رکن شاہدہ رحمانی نے تحریک پیش کی کہ تعلیمی اداروں کے طلباء میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے امتناع کا بل (تعلیمی اداروں میں منشیات کے امتناع بل 2018)پیش کرنے کی اجازت دی جائے، حکومت کی جانب سے بل کی عدم مخالفت پر سپیکر قومی اسمبلی نے بل پیش کرنے کی اجازت دے دی۔

بل کی محرک شاہدہ رحمانی نے بل پیش کیا جسے مزید غور و خوص کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا، بل کا اطلاق وفاقی حکومت کے انتظامی کنٹرول تک ہو گا، بل کا اطلاق 9ویں تا 12ویں اور او اینڈ اے لیول تک ہو گا۔ بل کے تحت منشیات ٹیسٹ کے نتیجے میں مثبت منشیات ٹیسٹ کے حامل طالب علم کی رازداری برقرار رکھنے کی ذمہ داری متعلقہ ادارے پر ہو گی اور طالب علم کے خلاف اسے ناجائز استحصال یا بدنام کئے جانے کیلئے استعمال نہیں ہو گی۔

مثبت ٹیسٹ کے حامل طالب علم کی معلومات افشاں کرنے والے عملے پر 50ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکے گا، بل کے تحت منشیات ٹیسٹ کیلئے اخراجات ادارے خود برداشت کریں گے اور ادارے ان اخراجات کو اپنے سالانہ بجٹ کا حصہ بنائیں گے،بل کے تحت اچانک منشیات ٹیسٹ میں غیر حاضر طلباء کو دوبارہ منشیات ٹیسٹ کا موقع دیا جائے گااگر کوئی طالب علم منشیات ٹیسٹ سے انکار کرتا ہے تو اسے سالانہ امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔