232

موثر حکمت عملی کی ضرورت

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ احتساب سب کا ہوگا اور سب کو ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا‘ لاہور رجسٹری میں سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے یہ بھی کہا ہے کہ تمام کمپنیوں کے سی ای اوز کو سرکاری ملازمت کے مساوی تنخواہ ملے گی پیسے ان سے وصول کریں گے جنہوں نے تقرریاں کیں‘اس سے اگلے روز کوئٹہ میں ہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ جہاں بنیادی حقوق کا استحصال ہوگا وہاں عدلیہ مداخلت کریگی آئین کے آرٹیکل199 اور 184 کے تحت اختیار حاصل ہے‘جہاں تک عوامی مسائل کا تعلق ہے تو اس حقیقت سے چشم پوشی ممکن نہیں کہ وطن عزیز میں یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنیوالی حکومتوں نے اکثر کیسوں میں وقتی اقدامات پر ہی اکتفا کیا ہے کسی حکومت نے آبادی میں اضافے اور آبادیوں کے پھیلاؤ کی نسبت سے تکنیکی بنیادوں پر منصوبہ بندی میں درکار سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا‘آج پینے کا صاف پانی سوالیہ نشان ہے توزراعت اور بجلی کی پیداوار کیلئے آبی ذخائر کی ضرورت ہے جبکہ ملک کا موجودہ انفراسٹرکچر ضروریات کے مقابلے میں کم پڑ چکا ہے خدمات کی فراہمی کو کسی صورت قابل اطمینان قرار نہیں دیاجاسکتا‘۔

اس سب کیساتھ قومی وسائل کے بے دریغ استعمال نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی‘ خلاف میرٹ بھرتیوں کے نتیجے میں قابل افرادی قوت کو سامنے آنے کے مواقع نہیں ملے اسی لئے ہماری پلاننگ تکنیکی مہارت سے عاری ہی ہوتی گئی اس سارے منظر نامے کا تقاضا اصلاحات کیلئے کوششوں میں تیزی اور سنجیدگی کا ہے‘ سیاسی تناؤ اپنی جگہ سہی انتخابات کیلئے تیاریاں جمہوری عمل کا تقاضا ہیں تاہم اس سب کے ساتھ مرکز اور صوبوں کی سطح پر عوامی مسائل کا حل فوری اقدامات کا متقاضی ہے‘ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ خطے کی صورتحال کے تناظر میں مضبوط موقف اختیار کرنے کے ساتھ مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم سمیت دوسرے معاملات پر ٹھوس حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے فوری ریلیف کے اقدامات اٹھائے جائیں۔

اصلاحات کے نتائج؟

خیبرپختونخوا میں پولیس‘ پٹوارخانوں اور صحت کے اداروں میں اصلاحات سے متعلق اعلانات اور اقدامات ریکارڈ کا حصہ ہیں‘ ان اصلاحات کے تحت پولیس کی سطح پر اعلیٰ افسروں کے اختیارات نچلے لیول پر منتقل کئے گئے ہیں‘ اس سب کے باوجود پولیس اور شہریوں کے درمیان فاصلے کم نہیں ہو پارہے اور تھانے کا خوف اسی طرح لوگوں میں موجود ہے گو کہ واقعات کی تعداد میں کمی ضرور ہوئی ہوگی تاہم آئے روز پولیس تشدد اور حبس بے جا کے کیس رپورٹ ہوتے ہیں جن میں بعض پر انکوائری کا حکم بھی جاری ہوتاہے‘حکومت کی جانب سے پولیس اصلاحات کیلئے تمام اقدامات صرف اسی صورت ثمر آور ہوسکتے ہیں جب شہریوں کیساتھ رویوں میں تبدیلی لائی جائے‘یہی تبدیلی صحت کے اداروں اور مراکز سے بھی جڑی ہے‘ سرکاری ہسپتالوں میں مریض اور ان کے لواحقین اب بھی وسل اور چھڑی کے اشاروں سے ایک سے دوسری جگہ دھکے کھاتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پٹوارخانوں سے متعلق بھی خوف کی فضاء برقرار ہے‘کیا ہی بہتر ہو کہ اصلاحاتی ایجنڈے کو صرف احکامات اور فنڈز کے اجراء تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی نتائج یقینی بنائے جائیں۔