297

دیتے ہیں دھوکہ یہ باز یگر کھلا

روسی زبان کا ایک لفظ ہے ازوستیا اور ایک لفظ ہے پراودا‘اول الذکر کامطلب ہے ’نیوز‘ یعنی ’خبر اور ثانی الذکر کے معنی ہیں سچائی‘ 1918 اور 1991 کے دوران جب سوویت یونین میں کمیونسٹ پارٹی اپنے بام عروج پر تھی تو ماسکو میں ازوستیا یعنی خبر کے نام سے ایک سرکاری خبررساں ایجنسی کام کرتی تھی اور ان دنوں کمیونسٹ پارٹی کا جو سرکاری اخبار تھا وہ پراودا کہلاتا تھا یعنی سچائی‘ 1950ء کی دہائی میں امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ اپنے شباب پر تھی‘ اس زمانے میں امریکی ازوستیا اورپراودا پر طنز اس طرح کرتے کہ وہ یہ کہتے کہ اگر کوئی ازوستیاپڑھے تو اسے پراودا نہیں ملتی اور اگر کوئی پراودا پڑھے تو اس میں ازوستیا نہیں ہوتی باالفاظ دیگر اگر کوئی ازوستیا خبررساں ایجنسی کی ریلیز کی گئی کوئی خبر پڑھے تو اس میں سچائی نہیں ہوتی اور اگر کوئی پراودا پڑھے تو اس میں کوئی خبر ہی نہیں ہوتی‘ درحقیقت1940 کے اوائل میں ہٹلر کے وزیر اطلاعات ڈاکٹر گوہبلز نے پروپیگنڈے کے ہنر میں جتنی مہارت پیدا کرلی تھی اسے سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی نے مزید جلا بخشی بزرگوں نے صحیح کہا جھوٹ کی عمر بڑی چھوٹی ہوتی ہے آپ بھلے کیسے ہی شاطرانہ انداز میں پروپیگنڈا کیوں نہ کریں اگر اس میں سچائی کا فقدان ہوگاتووہ آپ کو فائدہ پہنچانے کے بجائے الٹا نقصان دیگی ڈاکٹر گوہبلز نے آخری لمحے تک جرمن قوم کو اس مغالطے میں رکھا کہ ہٹلر جنگ جیت رہا ہے اور یہ کہ کوئی دن جاتا ہے کہ اتحادی افواج شکست فاش سے دوچار ہوجائیں گی پر جب روسی افواج برلن میں داخل ہوئیں تو جرمنوں کی کہیں جاکر آنکھ کھلی اور انہیں احساس ہوا کہ ڈاکٹر گوہبلز تو ان کے ساتھ ہاتھ کرگیا ہے‘ ۔

ایوب خان نے جب ایوان اقتدار میں دس سال پورے کئے تو اس کے وزیراطلاعات الطاف گوہر نے اسے باور کرایا کہ اس کے دس سالہ دور حکومت میں کئے گئے کارناموں کو Decade of Reforms کے نام سے منایا جائے تو اس کی حکومت کو چار چاند لگ سکتے ہیں چنانچہ حد سے بڑھ کر غیر ضروری طور پر ایوب خان کی شان میں اتنے زیادہ آسمان اور زمین کے قلابے ملائے گئے کہ وہ پھر چند ہی ماہ بعد اس کے زوال کا باعث بنے‘ آج بھی صورتحال کم وبیش وہی ہے شراب پرانی ہے صرف بوتلیں نئی ہیں اور ان پر برانڈ نام جو درج ہیں وہ مختلف ہیں ترقیاتی کاموں کی پبلسٹی میں برائی نہیں بشرطیکہ وہ گراؤنڈ پر نظر آرہے ہوں اور ان میں کوئی گھپلا نہ ہوا ہو چونکہ ترقیاتی کام ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے کئے جاتے ہیں لہٰذا عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ بالکل درست ہے کہ ان کاموں کی پبلسٹی کے سلسلے میں اخبارات میں جو اشتہارات چھاپے جاتے ہیں ان میں ایوان اقتدار سے تعلق رکھنے والے کسی ارباب اقتدار کی تصویر بالکل شائع نہ ہو کہ جس سے ارباب اقتدار یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے یہ ترقیاتی کام انہوں نے اپنے ذاتی پیسوں سے کرائے ہوں جس طرح نقل کے لئے عقل کی ضرورت ہوتی ہے پبلسٹی کو موثر انداز میں کرانے کے لئے بھی ذہانت درکار ہوتی ہے چھوٹے موٹے کام کر بڑھا چڑھا کر بیان کرنا تو شاید عوام کو اتنا برا نہ لگے پر کالے کو سفید یا سفید کو کالا پیش کرنا یا سوفیصد جھوٹ کو سچ کہنا ایسا فعل ہے کہ اس عمل میں ملوث جو کوئی بھی ہوگا وہ عوام کی نظروں میں ذلیل قرار پائے گا دھوکہ باز لوگوں پر غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ
ہیں کواکب کچھ ‘نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازیگر کھلا