244

میراکیاقصورہے

ایک کہانی جو سچ بھی ہو سکتی ہے اور جھوٹ بھی ہم یہ تو نہیں کہتے کہ یہ سچ ہی ہو گا مگر جھوٹ کہنے کی بھی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے اس لئے کہ اللہ والوں کے پاس جو طاقت ہوتی ہے وہ تو ہماری عقل کی پہنچ سے بھی کوسوں دور ہے ‘اسی لئے ہم اس کہانی کو جھوٹ نہیں کہہ سکتے‘ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک اللہ کے بندے کو راہ میں کہیں شیطان ہاتھ لگ گیا اس نے شیطان کے کان کھینچے کہ مردود تو لوگوں کو گمراہ کرتا ہے میں آج تم کو چھوڑوں گا نہیں شیطان نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ حضور میرا اس میں کوئی قصور نہیں ہے ‘لوگ خود ہی ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کو دوڑتے رہتے ہیں‘اگر اعتبار نہیں تو میرے ساتھ آئیں اور دیکھیں کہ میں کسی کو بھٹکاتا ہوں یا لوگ خود ہی بھٹکنے کو تیار ہوتے ہیں‘شیطان اللہ کے بندے کو لیکر شہر میں گیا ‘چلتے چلتے وہ دونوں ایک حلوائی کی دکان پر پہنچے‘ حلوائی مٹھائی بنانے کے لئے چاس تیار کر رہا تھا‘شیطان نے چاس میں انگلی ڈبوئی اور شیرا اپنی انگلی کیساتھ لگا لیا‘ آگے ایک گلی میں دیوار کیساتھ چاس لگا دی‘ ظاہر ہے جہاں میٹھا ہوگا وہاں مکھیاں تو پہنچیں گی‘ شیطا ن اور زاہد دونوں ایک طرف ہو کر دیکھنے لگے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔مکھیاں جو چاس پر اکٹھی ہوئیں تو ادھر سے ایک چھپکلی نے ان کو تاک میں رکھ لیا تا کہ ان پر حملہ کر کے اپنا پیٹ بھر سکے‘چھپکلی پر ایک بلی کی نظر پڑی تو وہ اس پر جھپٹی مگر اس سے قبل گلی سے ایک کتے نے بلی پر حملہ کر دیا‘بلی کتے کے ڈر سے بھاگی اور اپنی مالکن کے پیچھے پناہ لی‘ بلی کی مالکن نے لاٹھی لے کر کتے کی پٹائی کر دی‘ کتا شور مچا تا ہوا اپنے گھر کو دوڑا ‘کتے کی مالکن نے کتے کے چیخنے کی آواز سنی تو وہ باہر نکل آئی اور بلی کی مالکن کے ساتھ جھگڑنے لگی۔

جھگڑا بڑھا تو ان کے خاوند بھی میدان میں آ گئے‘ اب جو ہنگامہ برپا ہوا تو ادھر ادھر سے لاٹھیاں اور بندوقیں نکل آئیں‘کچھ زخمی ہوئے اور کچھ کی جا ن گئی‘ پولیس آئی اور ان کو پکڑ کر لے گئی شیطان نے زاہدسے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ حضور میرا اس میں کیا قصور ہے ‘میں نے تو بس چاس ہی دیوار کے ساتھ لگائی تھی اس کے بعد کی ذمہ داری مجھ پر کیسے عائد ہوتی ہے‘ ایک ہنگامہ پاکستان میں پانامہ پیپرز کا ہوا‘ اس میں سپریم کورٹ نے ایکشن لیا اور وہ شخص جس کا نام بھی ان پیپرز میں نہیں تھا اس کو اوراس کے خاندان کو ملوث کر لیا اور پھر ایک اقامے پر اسے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کیا‘ اس کے بعد نیب کی باری آ گئی اور اس نے خدا جانے کیا کیا الزام اس خاندان پر لگائے اوراس کے لئے کہاں کہاں سے ثبوت لائے اور ان ثبوتوں پر پوری عدالت عظمیٰ ‘ عدالت عالیہ اور دیگر عدالتوں کو لگا دیا‘ اب ایک زمانے سے پورے پاکستان کو اسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا‘یوں لگتا ہے کہ پانامہ پیپرز میں صرف شریف خاندان ہی کا ذکر ہے اس کے علاوہ جو چار پانچ سو لوگ ہیں ا نکا کہیں بھی نام نہیں ہے‘اب خدا جانے یہ قصہ کہاں تک پہنچتا ہے‘اب احتساب عدالت کو اپنی پڑی ہوئی ہے کہ کیسے اس خاندان کو اور خصوصاً نواز شریف کو جیل کی ہوا کھلائی جائے‘اس میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارا قصور صرف نواز شریف کا ہے کہ ان کے پاس یہ رقوم کہاں سے آئیں‘پاکستان میں اور بھی بہت سے خاندان ہیں کہ جو پاکستان بنتے وقت ہند وؤں کے گھروں میں کام کیاکرتے تھے اور آج وہ کروڑ پتی ہیں مگر ان کے متعلق کوئی تحقیق نہیں ہو رہی۔

اب تو یہ بات بھی ہو رہی ہے کہ اگر نواز شریف کے نام پر کوئی فیکٹری یا جائیداد نہیں ہے توبھی بقول اعتزاز احسن اس کے خاندان کی جائیداد اسی کی جائیداد ہے اس لئے اسے ہی اس کی سزا بھگتنی ہے اسی طرح وزیر خزانہ جو اس ملک کی معیشت کو آگے بڑھانے کے لئے دن رات ایک کرنے میں لگا ہوا تھا اسے بھی نشانے پر رکھ لیا گیا اس لئے کہ وہ نواز شریف کا سمدھی ہے‘ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ملک کی معیشت زیرو کی جانب رواں دواں ہے‘ڈالرجو اسحاق ڈار کی وزارت کے دوران اٹھانوے روپے کا تھا آج ایک سو سو لہ روپے کا ہو گیا ہے اسحاق ڈار کیخلاف کوئی خاص مقدمہ بھی نہیں ہے بس یہ ہے کہ اسکے پاس یہ دولت کہاں سے آئی‘اگر وہ کہتا ہے کہ اس نے مشرف کے دس سال کے دوران یہ دولت دبئی سے کمائی ہے تو کوئی ماننے کو تیار نہیں‘ اس ملک میں جو لوگ پاکستان بننے کے بعد بھی کوڑیوں میں تھے اب اربوں کھربوں میں ہیں ان کو کوئی نہیں پوچھتا اور جو بھٹو کے زمانے میں کارخانوں کے مالک تھے ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ آج یہ دولت انکے پاس کہاں سے آئی ۔