205

وزیراعظم کی نئے صوبے کیلئے تمام جماعتوں کو بات چیت کی پیشکش

بہاولپور: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئے صوبے کے لیے تمام جماعتوں کو بات چیت کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہےکہ صوبوں کے بارے میں سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے فیصلہ کریں گی۔بہاولپور میں نیشنل ہائی وے جلال پور اوچ شریف سیکشن کے افتتاح پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ واحد حکومت ہے جو نہ صرف حکومت شروع کرتی ہےبلکہ مکمل بھی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا 20 ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کے منصوبے لگے لیکن اس حکومت نے اپنے دور میں 10 ہزار چار سو میگاواٹ کے اضافی منصوبے مکمل کیے، اس کی ترسیل میں مشکلات ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی کام کیا جاتا ہے تو مشکلات آتی ہے، مشکل مشرف کو نہیں آئی، زرداری کو نہیں آئی اور عمران خان کو نہیں آئی کیونکہ انہوں نے کوئی کام نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتیں سب کے پاس ہیں، کوئی جماعت ایسی نہیں جس کے پاس حکومت نہ ہو، پنجاب میں شہباز شریف کا کام دیکھ لیں، فرق سب کو نظر آتا ہے، کے پی کے میں عمران خان اور سندھ میں زرداری کا کام دیکھ لیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم کوئی ایک جماعت نہیں کرسکتی، یہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سےہوتی ہے جب کہ نیا صوبہ بنانے کے لیے کوئی ایک جماعت فیصلہ کرسکتی ہے اور نہ کرنا چاہیے، مسلم لیگ (ن) نےبہاولپور اور جنوبی پنجاب کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد پاس کرائی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان، سب جگہ نئے صوبے بنانے کے مطالبات ہیں، لوگ ہزارہ اور جنوبی کے پی کے میں صوبے کی بات کرتے ہیں، صوبوں کے بارے میں سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے فیصلہ کریں گی، نئے صوبے اتفاق رائے سے بنانے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں بیٹھیں، ڈائیلاگ کریں اور ایک فیصلہ کریں، الیکشن سےچند ماہ پہلے پریس کانفرنس کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نام نہاد لیڈر کہتے تھے حکومت دو مہینے چلے گی اور سال کے آخر تک نہیں رہے گی لیکن (ن) لیگ کی حکومت مدت پوری کرے گی، پاکستان کو ترقی دیتی رہےگی، سیاست کے فیصلے جولائی میں پولنگ اسٹیشنز پر ہوں گے، پاکستان صرف جمہوریت اور عوام کے فیصلے پر چلے گا۔انہوں نے کہاکہ ہارس ٹریڈنگ کی سیاست ملک سے ختم ہوچکی ہے، فیصلہ عوام کا ہوتا ہے، وفاداریاں بدلنے کا زمانہ گیا، جولائی کے الیکشن میں پتا چل جائے گا عوام کس کے ساتھ ہے؟