177

جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ، آئی جی پنجاب طلب

لاہور: سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد ان کے گھر سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی۔

ذرائع کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن کی لاہور میں رہائش گاہ پر گزشتہ رات اور آج صبح نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کا دورہ کیا اور فائرنگ کے واقعے کا جائزہ لیا۔

چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز کو بھی جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر طلب کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کرکے ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

فائرنگ کے واقعے کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ کی سیکیورٹی پولیس اور رینجرز نے سنبھال لی۔

ادھر پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی شرمناک واقعہ ہے۔

جائے وقوع سے برآمد کی گئی گولیاں — فوٹو، رانا بلال

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے کوشاں ہیں، اور واقعے کی تمام تر معلومات جمع کی جارہی ہیں۔

ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ کے جج ہیں، اور انہیں سیکیورٹی فراہم کرنا ہر لحاظ سے اہم ہے اور صوبائی حکومت تمام اقدامات اٹھا رہی ہے۔

واقعے کی تحقیقات کرنے والے اہلکاروں کو جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر سے پستول کی 2 گولیاں ملی ہیں، جن کے بارے میں اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ایک گولی رہائش گاہ کے مرکزی دروازے جبکہ دوسری گولی باورچی خانے کی کھڑکی میں لگی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے سیکریٹری لاہور کے علاقے ماڈؒل ٹاؤن میں جسٹس اعجاز الاحسن کے کی رہائش گاہ پر ان سے ملنے کے لیے پہنچے لیکن سپریم کورٹ انتظامیہ نے انہیں ملنے کی اجازت نہیں دی۔

وکلا برادری کی مذمت

سپریم کورٹ بار اور لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

سیکریٹری سپریم کورٹ بار صفدر تارڑ کا کہنا تھا کہ جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر فائرنگ کرنے والے افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پورے ملک کے وکلا سپرہم کورٹ کے ججز کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دوسری جانب صدر لاہور ہائی کورٹ بار انوارالحق پنوں نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کرنے والے عناصر کو جلد بے نقاب کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر کے وکلا سپریم کورٹ کے ججز صاحبان کے سپاہی ہیں۔

چیئرمین سینیٹ کا ردِ عمل

چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقع کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس مکروہ اور گھناؤنے واقعے کی فوری تحقیقات کی جانی چاہیئں۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سزا دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کی بالا دستی کے لیے پارلیمان عدلیہ کے ساتھ ہے۔

سیاست دانوں کا واقعے میں ملوث عناصر کو گرفتار کرنے کا مطالبہ

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے معزز جج کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ انتہائی تشویشناک ہے۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ واقعے کے ملزمان کو گرفتار کرکے بے نقاب کیا جائے۔

اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے بھی جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ ہر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ معزز جج صاحبان کی سیکیورٹی کے فُول پروف انتظامات کیے جائیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے قائدین چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزالٰہی نے بھی جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ واقعے کے ملزمان کو گرفتار کرکے بے نقاب کیا جائے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے معزز جج کے گھر پر فائرنگ سے عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی حالیہ سرگرمیاں

خیال رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف پاناما پیپرز کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے۔

جسٹس اعجازالاحسن سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپز کیس کے حتمی فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر ریفرنسز کی کارروائی کے نگراں جج بھی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز کو توہینِ عدالت کے جس کیس کا سامنا ہے وہ جسٹس اعجاز الاحسن کے حوالے سے ہی ہے۔