143

پختونوں کے حقوق

گزشتہ اتوار کو پشاور میں منعقد ہونے والے پختون تحفظ مو ومنٹ کا ایک بڑا احتجا جی جلسہ عام ایک ایسے مو قع پر ہو ا جب ایک جا نب صو بے کی تما م قا بل ذکر جما عتیں آئندہ انتخا بات کی فکر میں گھلی جا ر ہی ہیں اور دوسری جا نب جمعہ جمعہ آٹھ دن ہو ئے معر ض وجو د میں آنے والی اس نومو لو د تحر یک نے نہ صر ف پو ری دنیا کو اپنی جانب متو جہ کر رکھا ہے بلکہ انتخا بی سیا ست کی شہسوار بعض قوم پر ست جما عتوں کوجان کے یہ لا لے بھی پڑے ہوئے ہیں کہ نو جو انوں کی اس تحر یک نے اگر انتخابی میدان میں کو دنے کا فیصلہ کر لیا تو ان روایتی موروثی قو م پرست جماعتوں کا کیابنے گا پختون تحفظ موومنٹ جسکے بارے میں اکثر ناقدین کا یہ خیا ل تھا کہ اسلام آباد دھر نے کی صورت ابھر نے والی یہ تحر یک جلد ہی پا نی کا بلبلہ ثا بت ہو گی اور ایک کمزور معا ہدے کے نتیجے میں ختم ہو نے والے اس دھر نے اور اس تحر یک کا بھی وہی حشر ہو گا جس طر ح ما ضی میں اس طر ح کی جذبا تی اور عارضی تحر یکو ں کا ہو تاآیا ہے لیکن سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ تحر یک ہر گزرتے دن کے سا تھ توانا ہو تی جا رہی ہے اور اس میں نوجو ان بڑی تعداد میں ازخود اپنی مر ضی سے شا مل ہو تے جا رہے ہیں اور یہ سلسلہ اگر اسی طر ح چلتا رہا تو عین ممکن ہے کہ آگے جا کر اسے قا بو میں رکھنا کم از کم ان قوتوں کے لئے ایک بڑا درد سر بن جائے گا جو اسے اپنے لئے آنے والے دنوں میں ایک نئے اور بڑے چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یہ با ت محتا ج بیا ن نہیں ہے کہ ہما رے ہا ں ایک اوسط درجے کا جلسہ منعقد کر نے کیلئے بھی ہما ری مر وجہ سیا سی جما عتوں کو طر ح طر ح کے پا پڑ بیلنے پڑتے ہیں اور ان جما عتوں کے قا ئدین اور کارکنان جان جو کھو ں میں ڈال کرلاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر کے بڑی مشکل سے کو ئی بڑا سیا سی شو کر پاتے ہیں ایسے میں پی ٹی ایم کا یہ بڑا اور کا میا ب جلسہ عام اپنے پیچھے کئی سو الات چھو ڑ گیا ہے۔ اس جلسے کے ویسے تو کئی پہلو ؤں پر با ت کی گنجائش ہے اور ان پر با ت کی بھی جا نی چاہئے لیکن اس جلسے میں بڑی تعداد اور منظم انداز میں شریک ہونے والے وہ ہزاروں نوجوان یقیناًقا بل مبارک باد ہیں جو اپنے خرچے پر ملک کے طول وعرض سے بالخصوص اور صوبے کے مختلف علاقوں سے بالعموم جس جوش وجذبے سے شریک ہوئے وہ ہم سمیت بہت ساروں کیلئے یقیناًایک خوشگوار حیرت کا باعث ہے‘ اس جلسے میں نہ تو روایتی دھکم پیل دیکھی گئی اور نہ ہی بڑ ی تعداد میں خو اتین کی موجودگی کے با وجو د کسی بد مزگی کا کو ئی واقعہ رپورٹ ہو ا ۔پختون تخفظ مو ومنٹ کی بڑھتی ہو ئی سر گر میوں اور ان میں متو سط طبقے کے پڑھے لکھے پختو ن نو جو انوں کی بڑے پیمانے پر شرکت سے یہ تحر یک جو ں جو ں آگے بڑھ رہی ہے اسے بعض حلقے نہ صر ف شک کی نگا ہ سے دیکھ رہے ہیں بلکہ اسکی راہ میں رکا وٹیں کھڑی کر نے کیلئے اس پر آزمودہ طر یقوں کے مطابق ملک دشمنی اور مقتدر اداروں کی بد نا می کے لئے یہ سب کچھ بیرونی اشاروں پر کر نے کے من گھڑت الزاما ت بھی لگا ئے جا رہے ہیں۔

اسی اثناء آرمی چیف کے دورہ جنوبی وزیرستان اور خاص کر اس تحریک کو جنم دینے والے نقیب اللہ محسود شہیدکے والد اور نقیب اللہ کے معصوم اور یتیم بچوں کیساتھ ان کی خوشگوار موڈ میں ملاقات اور اس ملاقات کی تصویر کا بااہتمام میڈیا کو جاری کئے جانے سے تو بظاہر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ فوجی قیادت ان فاصلوں کو پاٹنے میں انتہائی مخلص ہے جنکا یکطرفہ طورپرمنفی پروپیگنڈاکیا جاتا ہے۔دوسری جانب بعض لوگ اس تحر یک کو جہا ں ماضی کی پختو نستا ن کی تحر یک سے جو ڑ نے کی باتیں کر رہے ہیں وہا ں کچھ لو گ اس تحر یک کو طالبا ن کے سیا سی ونگ کی نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں حا لانکہ پختو ن تحفظ موومنٹ نہ صر ف پاکستان کے مر وجہ آئین کو تسلیم کر تی ہے بلکہ اپنے حقوق کیلئے پر امن سیاسی جدوجہد پر عمل پیرا ہے ‘لہٰذاحکو مت اور متعلقہ اداروں کو پو ائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچنے کی بجا ئے جتنا جلدی ہو سکے پی ٹی ایم کی نو جو ان قیادت کیسا تھ مل بیٹھ کر خو شگوار ماحو ل میں انکے مطا لبا ت کا نہ صر ف سنجید گی اور اخلا ص کیسا تھ کو ئی قا بل عمل حل نکا لنا چا ہئے بلکہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہو ئے اس تحر یک کو ڈیل کر نے کیلئے وسیع تر قو می سو چ اور مثبت حکمت عملی بھی جتنی جلدی ہو سکے اپنانی چا ہئے ۔