271

توجہ کے متقاضی اہم امور

وطن عزیز کے سیاسی منظرنامے میں تندوتیز بیانات کی جنگ شدت اختیار کرتی جارہی ہے جس کیساتھ سیاسی رابطوں میں بھی مسلسل تیزی ریکارڈ ہورہی ہے سابق وزیراعظم نوازشریف کہتے ہیں کہ ان کی تحریک عدل کسی کے خلاف نہیں بلکہ حصول انصاف کیلئے ہے اور یہ کہ اب وہ گھر نہیں بیٹھیں گے جاتی امراء میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں ان کی جماعت نے حزب اختلاف کو بھرپور جواب دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے دوسری جانب پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت جمہوریت کمزور ہے اور حکمران بے بس ہوچکے ہیں آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ اب کوئی این آر او آیا تو اس کا مقابلہ کریں گے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بعد اب پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے درمیان بھی رابطہ ہوچکا ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ شیروانیاں بنانے والوں کو 2018ء میں بھی شرمندگی ہوگی اس سارے منظر نامے میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوریت اور حکومت کے خلاف سازش تیار ہورہی ہے اس حوالے سے وہ عمران خان اور طاہر القادری کے درمیان ملاقات کو ثبوت قرار دیتی ہیں اس ساری صورتحال کے ساتھ نیب کی جانب سے کیسز اور ریفرنس دائر کرنے کے فیصلے ہورہے ہیں تو بعض افراد کے خلاف تحقیقات بھی شروع ہوگئی ہیں سیاسی بیانات میں تیزی اور ڈیڈ لائنز اپنی جگہ2018ء کے انتخابات کی تیاریاں ان انتخابات سے قبل اہم قومی معاملات کو نمٹانااور عام شہری کی سہولت وریلیف کیلئے اقدامات کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے سیاسی معاملات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی روش کم سے کم ہوتی جارہی ہے جبکہ اہم قومی امور پر اتفاق رائے کیلئے درکار جوش وجذبے سے کام دکھائی ہی نہیں دیتا فاٹا اصلاحات کا معاملہ طوالت اختیار کرتا جارہا ہے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈز کا اعلان نہیں ہو پارہا بیرونی قرضے بڑھتے چلے جارہے ہیں روپے کی قدر میں کمی ہوچکی ہے گرانی کا گراف بڑھتا چلا جارہا ہے۔ مشیرخزانہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کا عندیہ دے رہے ہیں، ٹیکس بڑھے یا ٹیکس نیٹ وسیع ہو بوجھ عوام ہی پر پڑتا ہے‘حکومت مرکز میں ہو یا کسی بھی صوبے میں ضرورت اہم معاملات کو طے کرنے کیساتھ عوامی مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہے۔

سرکاری مشینری کی فعالیت؟

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے 75 ہزار 722 مستقل ملازمین کو اپ گریڈیشن دینے کیساتھ4 ہزار743 ایمپلائز کو مستقل کر دیا ہے‘ ملازمین کی مراعات اور ملازمت کے تحفظ کے حوالے سے دونوں اقدامات اہمیت کے حامل ہیں‘اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ گرانی کے طوفان میں زیادہ تنخواہ دار طبقہ ہی متاثر ہوتا ہے‘رائے اس میں بھی کوئی دوسری نہیں کہ مطمئن ملازمین کی کارکردگی میں نکھار بھی آتا ہے‘ اب ضروری یہ ہے کہ سرکاری محکموں کی کارکردگی مجموعی طورپر بہتر بنائی جائے‘ دفتری نظام سافٹ ویئرز پر لائے جائیں‘ عوام کو خدمات ون ونڈو آپریشن میں دی جائیں‘دفاتر میں فائلوں کی گردش کو ٹائم کا پابند بنایاجائے‘ چیک اینڈ بیلنس کے نظام میں اچھی کارکردگی کو سراہا جائے اور ناقص پر باز پرس ہوبصورت دیگر ساری ایکسر سائز اور بھاری اخراجات بے ثمر رہ جائیں گے۔