220

سیاسی درجہ حرارت

وطن عزیز میں گرمی کی شدت میں اضافے کیساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے سیاسی قیادت کے بیانات میں انتہائی تیزی آتی جا رہی ہے جبکہ قومی قیادت نے اسی ماہ کے آخرتک بہت سارے اہم امور نمٹانے ہیں جن کا احساس ضروری ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ الیکشن نگران حکومت نہیں بلکہ خلائی مخلوق کرائے گی تاہم اسکے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں انہیں انتخابات کے شفاف ہونے کی بھی امید ہے نگران وزیراعظم سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف جو نام بھی دے گی وہ انہیں منظور ہوگا تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نگران وزیراعظم ریٹائرڈ سیاستدان تو ہوسکتاہے مگرجنرل نہیں‘ دوسری جانب سابق وزیراعظم نوازشریف اپنے سینے میں دفن راز کھولنے کی دھمکی دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ریاست پر ایک ستون نے قبضہ کرلیا ہے وہ 2014ء کے دھرنے سے متعلق حقائق بھی جلد سامنے لانے کا عندیہ دے رہے ہیں سابق صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے ملک کو کھوکھلاکر دیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں فوج نے نوازشریف کی مدد کی پی ٹی آئی کے سربراہ الیکشن میں تاخیر کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔

جبکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ایسی تاخیر کا کوئی امکان نہیں سیاسی قیادت کے تندوتیز بیانات ایک جانب تناؤ کی شدت میں اضافہ ظاہر کرتے ہیں تو دوسری طرف ادارے بھی ان میں زیر بحث آرہے ہیں انتخابات کے عمل میں خلائی مخلوق جیسی اصطلاحات استعمال ہو رہی ہیں اس سب کیساتھ حکومت نے فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس7 مئی کو طلب کیا ہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کہتے ہیں کہ قبائلی علاقے2019 میں خیبرپختونخوا میں ضم ہونگے وزیراعظم نئے این ایف سی ایوارڈ کا عندیہ بھی اس ضمن میں دے چکے ہیں بجٹ پر بحث جاری ہے صوبوں کے بجٹ اور نگران سیٹ اپ جیسے اہم معاملات بھی درپیش ہیں ایسے میں ضرورت سیاسی بیانات کی شدت میں کمی لانے اور حکومتوں کی رخصتی سے قبل اہم معاملات یکسو کرنے کی ہے جس کیلئے سیاسی قیادت کو کردار ادا کرنا ہے۔

پانی کی قلت؟

قابل اطمینان ہے کہ حکومت کو پانی کی قلت کا احساس و ادراک ہے دوسری جانب یہ بات قطعاً ناقابل اطمینان ہے کہ آبی ذخائر کے حوالے سے قومی قیادت کیساتھ مشاورت اور بڑے فیصلوں سے گریز کیا گیا ہے واٹر چارٹر میں اس حقیقت کا اعتراف کیا گیاہے کہ آزادی کے وقت فی کس پانی کی دستیابی 5200 مکعب میٹر تھی جو اسوقت کم ہو کر ایک ہزار مکعب میٹر ہوگئی ہے سرکاری سطح پر پاکستان پانی کی قلت والے ممالک میں شامل ہو چکاہے پانی کا نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے جبکہ موجود پانی کا ضائع ہونا گڈگورننس پر بڑا سوالیہ نشان ہے قومی اسمبلی کی گزشتہ روز کی کاروائی میں بھی آبی ذخائر کے حوالے سے بازگشت سنائی دی گئی ہے ذمہ دار ادارے بھی مسئلے کی سنگینی کا احساس دلا رہے ہیں بجلی کی کمی سنگین صورتحال اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر پڑی ہے‘ کیا ہی بہتر ہو کہ قومی قیادت آبی ذخائر پر بھی ایک جگہ بیٹھ کر فیصلہ کرلے اس مقصد کیلئے یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ کل پیش آنیوالی مشکلات کی ذمہ داری ہماری اس وقت کی قیادت پر ہوگی۔