226

بے نتیجہ اجلاس؟

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے خوش کن اعلانات اور یقین دہانیوں کے بعد گزشتہ روز کے بے نتیجہ اجلاس نے ریفارمز کے خواہشمندوں میں مایوسی پھیلا دی ہے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں اکرم درانی اور محمود خان اچکزئی اپنے موقف پر ہی رکے رہے جبکہ اجلاس میں حکومت اور جمعیت علماء اسلام ف کے درمیان قبائلی علاقوں کی حیثیت تبدیل نہ کرنے کا معاہدہ بھی سامنے آیا ہے‘ جس کی مدت 5سال ہے‘ پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں تحریک انصاف ‘ پیپلزپارٹی‘ ایم کیو ایم ‘ اے این پی اور جماعت اسلامی سمیت دیگر پارٹیاں بھی اصلاحات کے حق میں نظر آئیں تاہم اکرم درانی اور اچکزئی مخالفت کرتے رہے‘ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا مسودہ 14ماہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے‘ حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے حلیف رہنماؤں مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو منائے‘ حکومت جے یو آئی معاہدے سے متعلق فاٹا اصلاحات کیلئے قائم کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے‘ اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی کہتے ہیں کہ فاٹا کے انضمام کے سوا کوئی آپشن قابل قبول نہیں۔

فاٹا اصلاحات کے بارے میں متعلقہ محکموں کی سست روی کا عالم تو یہ ہے کہ تادم تحریر اعلیٰ عدلیہ کے دائرہ کار کی قبائلی علاقوں تک وسعت سے متعلق اعلان کے حوالے سے سرکلر تک جاری نہیں ہوا‘ ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس کل پھر طلب کیا ہے‘ قبائلی علاقوں کیلئے اصلاحات اور ان کے خیبرپختونخوا میں انضمام کیلئے کام کاآغاز موجودہ حکومت ہی کے دور میں پوری تیزی سے شروع ہوا اور اس کے بعد اس کو روایتی سے بھی کچھ زیادہ سست روی کا شکار بنا دیا گیا‘ پھر اچانک وزیراعظم نے پیش رفت کا عندیہ دیکر اجلاس طلب کرلیا جس میں خود حکومت کے اپنی حلیف جماعتوں کیساتھ معاملات طے نہ پاسکے‘ اب جبکہ اسمبلیوں اور حکومتوں کی مدت ختم ہونیوالی ہے‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ کل کے اجلاس میں سیاسی قیادت کے تمام خدشات اور تحفظات پر بات کرکے عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے‘ بصورت دیگر فاٹا اصلاحات کیلئے اب تک کی کوششیں ادھورے نتائج کی حامل ہی رہیں گی اور مرکزی حکومت اپنے دور میں شروع کئے گئے کام کو تکمیل تک نہ پہنچا پائے گی۔

کلین اینڈ گرین مہم

پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی صوبائی دارالحکومت میں صفائی کی خصوصی مہم شروع ہوچکی ہے‘ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ڈبلیو ایس ایس پی کے اہلکارہر ہفتے 5یونین کونسلوں پر مشتمل علاقوں میں صفائی کریں گے‘ کسی بھی صفائی مہم میں گندگی کے ڈھیر اٹھائے جانے کے بعد زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں دوبارہ وہی صورتحال دیکھنے کوملتی ہے‘ اسلئے مہم کی کامیابی کا تقاضا ہے کہ بڑے پیمانے پر صفائی کے بعد روزمرہ کاکام باقاعدگی سے ہوتا کہ دوبارہ سے ڈھیر نہ لگ جائیں‘ اس کے ساتھ رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ پر چمکنی تھانے سے آگے سڑکوں کے کناروں اور سنٹرل میڈیا پر شجرکاری کی ضرورت ہنوز موجود ہے‘ بلین ٹری سونامی مہم کا اعزاز رکھنے والے صوبے کے دارالحکومت کی اہم سڑکوں پر سبزہ نظر نہ آنا گرین پشاور کے سلوگن کی نفی ہے‘ شجرکاری کے ساتھ ضرورت پودوں کی دیکھ بھال کی ہے‘ بصورت دیگر کسی بھی جگہ شجرکاری مہم چند روزہ اثرات کی حامل ہی رہ جاتی ہے۔