819

کم وقت میں اہم فیصلے

الیکشن کمیشن نے واضح کردیاہے کہ2018ء کے انتخابات کے لئے کسی تاریخ کا ابھی کوئی تعین نہیں ہوا خبررساں ایجنسی کا کمیشن کے ترجمان کے حوالے سے کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخوں سے متعلق ایک روز قبل سامنے آنے والی خبریں بے بنیاد اور قبل از وقت ہیں جن رپورٹس کی تردید کی گئی ہے ان میں کہا گیاتھا کہ الیکشن کیلئے25یا26 جولائی کی تاریخیں تجویز کرلی گئی ہیں اور سمری کی منظوری کے ساتھ ماہ رواں کے آخر یا جون کے پہلے ہفتے میں شیڈول جاری کر دیا جائے گا‘ وطن عزیز میں جاری سیاسی تناؤ میں انتخابات میں تاخیر سے متعلق سیاسی بیان بھی سامنے آیا جبکہ کسی ممکنہ تاخیر کی صورت میں سڑکوں پر نکلنے سے متعلق عندیہ بھی دیا گیا ‘ملک کو درپیش چیلنجوں کیساتھ منتخب حکومتیں مرکز اور صوبوں میں اپنی مدت انتخاب مکمل کرنے جارہی ہیں‘ اس اہم مرحلے پر جبکہ نگران حکومتوں کا فیصلہ ہونا ہے بجٹ کی منظوری کے مراحل طے ہونے ہیں جبکہ فاٹا اصلاحات ادھورے ایجنڈے کی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں اس موقع پر سیاسی قیادت کو سنجیدہ فیصلے کرنے ہیں ایسے میں اگر تندو تیز رویوں کے ساتھ محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہا اور تناؤ و بے یقینی کی فضا پیدا ہوئی تومایوسی بڑھے گی ۔

اس وقت ضرورت رویوں میں لچک اور فراست کے ساتھ فیصلوں کی ہے ایسے فیصلے جن کے نتائج عملی طور پر ثمر آورشکل میں سامنے آئیں اس وقت درپیش معاملات میں سے اہم قبائلی علاقوں میں اصلاحات اور ان کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا ہے اس مقصد کے لئے ایک اجلاس آج بھی شیڈول میں ہے اور بتایا یہ بھی جا رہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ریفارمز سے متعلق اقدامات پر وفاقی کابینہ کو اعتماد میں لے لیا ہے سپریم کورٹ نے حکومت کو اصغر خان کیس میں ہونیوالے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیدیا ہے جس کے لئے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے حکومت کو آبی ذخائر سے متعلق بھی فیصلے کرنے چاہئیں جن کے لئے سیاسی قیادت کیساتھ مشاورت ضروری ہے تاکہ اتفاق رائے حاصل کیا جاسکے فاٹا کے مستقبل سے متعلق فیصلے کیساتھ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ بھی جڑا ہوا ہے ٗ اس میں صوبوں کے شیئرز پر اتفاق حاصل کرنا ہے اس سب کے ساتھ توانائی بحران اور گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی روک تھام کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے جس کا احساس ضروری ہے۔

پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس

چیف جسٹس آف پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات پر ہوشربا ٹیکسوں کا فارنزک آڈٹ کروانے کا کہا ہے چیف جسٹس کا اس حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہنا ہے کہ پٹرولیم پراڈکٹس پر 25فیصد ٹیکس لگتا ہے اور جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں تو سیلز ٹیکس لگادیا جاتا ہے عدالت عظمیٰ نے اس حوالے سے مکمل چارٹ بھی طلب کیا ہے وطن عزیز میں گرانی کے طوفان میں شدت کی ایک بڑی وجہ پٹرولیم مصنوعات کے ریٹس بھی ہیں اس سیکٹر میں کسی ریلیف کا فائدہ تو عام شہری کو پہنچ نہیں پاتا جبکہ نرخوں میں معمولی اضافے سے پوری مارکیٹ متاثر ہوجاتی ہے قیمتوں کے ساتھ معیار کے حوالے سے بھی یہ سیکٹر کڑی نگرانی کا متقاضی ہے اس سے متعلق متعلقہ وزارت کے فیصلوں میں چند لوگ نہیں پورے ملک کے شہریوں کے مفاد کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔