173

کلیدی چیلنج

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی حالیہ خرابی افغانستان اور دہشت گردی پر دونوں ممالک کے پالیسی اختلافات کی وجہ سے پیدا ہوئی‘یہ اختلاف یا تو تعلقات میں مکمل تنازعے کو جنم دے سکتے ہیں یا پھر عملی سمجھوتے کو بھی مگر پاک امریکہ تعلقات کیلئے طویل مدت میں سب سے اہم چیز پاکستان کی بھارتی بالادستی کی کوششوں کی مزاحمت اور خطے میں بھارتی جارحیت کیخلاف دفاع پر امریکی مؤقف ہوگا‘یہ موجودہ عالمی سیاست کا تفریق پر مبنی رویہ ہے کہ جہاں بڑی طاقتیں اپنے اپنے ایٹمی اور سٹریٹجک اسلحے اور صلاحیتوں کو توسیع دینے میں مصروف ہیں‘ تو وہیں جوہری خطرے کا منبع شمالی کوریا اور جمہوری اسلامی ایران کو تصور کیا جاتا ہے‘دونوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں کہ ان کے ایٹمی اور میزائل پروگرامز کو طاقت کے استعمال کے ذریعے ختم کردیا جائیگا‘ زیادہ تر پاکستانی سٹریٹجک مفکرین اس بات کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں کہ کوئی بھی غیر ملکی طاقت پاکستان کے بہترین ترقی یافتہ جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے مگر پھر بھی پاکستان اس حوالے سے بالکل بے فکر رہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔

اسے ان امریکی بیانات کی بنیادوں کا جائزہ لینا چاہئے جس میں اس نے اب پوری طرح ایٹمی اور میزائل ہتھیار رکھنے والے ملک شمالی کوریا کو بذریعہ طاقت ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا اعادہ کیا ہے‘ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیاروں اور ایٹمی مواد کا بڑا ذخیرہ اور کئی طرح کے ڈیلیوری سسٹم اور کئی ایٹمی تنصیبات ہیں جن پر آسانی سے قبضہ یا انہیں تباہ نہیں کیا جاسکتا مگر بھارت اور امریکہ کے ابھرتے ہوئے سٹریٹجک اتحاد اور امریکہ کی ماضی و حال کی پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ بھارت اور امریکہ پاکستان کی جوہری اور سٹریٹجک صلاحیتوں کو محدود اور ممکنہ طور پر ختم کرنے کیلئے اپنی کوششیں دگنی کردیں گے۔اوباماانتظامیہ کے آخری سالوں میں امریکہ نے پاکستان کو مختصر فاصلے تک مار کرنیوالے ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیب‘ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور مزید ایٹمی مواد کی پیداوار روکنے کیلئے بھرپور کوششیں کیں‘ اسلام آباد نے بھرپور انداز میں ان مطالبات کو مسترد کردیا کیونکہ ان مطالبات کو تسلیم کرنے کا مطلب بھارت کے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا کثیر الجہتی انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر سمجھوتہ کرنا ہوتا۔

یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ ان مطالبات کو دوبارہ دہرائے گی یا نہیں‘ اس دوران امریکہ پاکستان کے سٹریٹجک پروگرام بالخصوص وہ جو بھارت کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کئے گئے ہیں‘حال ہی میں امریکہ کی جانب سے جدید ترین ٹیکنالوجی پراڈکٹس درآمد کرنے پر کئی پاکستانی کمپنیوں کو باضابطہ طور پر بلیک لسٹ کرنا امریکہ کے پاکستان کیخلاف عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔امریکہ پاکستان کیخلاف ایسی یک طرفہ پابندیوں کو توسیع دینے اور باقاعدہ صورت دینے کیلئے کئی وجوہات پیش کرکے اس مسئلے کو عالمی تناظر میں پیش کرسکتا ہے مثلاً ایٹمی پھیلاؤ کے مسائل پر پاکستان کا عدم تعاون‘ ایٹمی پھیلاؤ کے تازہ ترین الزامات‘ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور ایٹمی مواد کے ذخیروں کے تحفظ پر تشویش جس میں پاکستان آرمی کا انتہاء پسند ہوجانا یا اسلام پسند جنگجوؤں کا اِن ہتھیاروں پر قبضہ کرلینا اور پاکستان کو دہشت گردی کا ریاستی سرپرست قرار دلوانا شامل ہے مؤخر الذکر راستہ وہ ہے جس پر بھارت اور امریکہ اسوقت سب سے زیادہ شدت سے عمل پیرا ہیں اسی طرح پاکستان کے سٹریٹجک اثاثوں کے خلاف سبوتاژ کی کاروائیاں ہمیشہ موجود خطرہ ہیں ان اثاثوں پر انجینئرڈ حملے بین الاقوامی مانیٹرنگ اور ان اثاثوں کے کنٹرول کا جواز فراہم کرسکتے ہی۔

‘ان ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے اسلحے جتنی اہم سفارتی حکمت عملی بھی ہے‘ جس کا پہلا عنصر یہ ہونا چاہئے کہ چین پاکستان کے تمام ایٹمی اور سٹریٹجک چیلنجز پر ہماری پالیسی اور مؤقف کی حمایت کرے‘چین کی مدد کے بغیر‘ بالخصوص سلامتی کونسل میں پاکستان کو مجرم ٹھہرا دیا جائے گا اور یہ شمالی کوریا جیسی صورتحال کو پہنچ سکتا ہے‘ دوسری حکمت عملی یہ ہونی چاہئے کہ پاکستان کو بھارت کے سامنے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کی دوڑ محدود کرنے کیلئے کئی قابل بھروسہ تجاویز رکھنی چاہئیں جن پر دونوں ممالک مشترکہ طور پر عمل کریں‘ان میں فوجیوں کی نقل و حرکت کا مکمل شفاف ہونا‘ فوجی مشقوں کے سائز پر حدود‘ ایسے علاقوں کی نشاندہی جہاں طاقت کا استعمال ممنوع ہو اور ایسے علاقے جہاں طاقت کا صرف محدود استعمال کیا جاسکتا ہے‘ اس کے علاوہ ایٹمی وارہیڈز اور ڈیلیوری سسٹمز کی تعداد کی حد کا باہمی رضامندی سے تعین اور اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹمزپرپابندی کا دو طرفہ سمجھوتہ بھی کرنا چاہئے یہ تجاویز دو طرفہ طور پر بھارت کے سامنے بین الاقوامی فورمز بشمول سلامتی کونسل کے ذریعے رکھی جاسکتی ہیں یا امریکہ سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اتحادی تک یہ تجاویز پہنچا دے‘ اتیسری حکمت عملی کے طور پر پاکستان کو اسلحے میں تخفیف کے بین الاقوامی فورمز میں چھوٹی اور درمیانی ریاستوں کے ایک گروہ کو ابھارنا چاہئے۔ چوتھی حکمت عملی میں پاکستان کو امریکہ پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے سٹریٹجک منصوبوں کیخلاف تفریق پر مبنی پابندیوں کا خاتمہ کرے‘ کیونکہ یہ تعاون پر مبنی دو طرفہ تعلقات کے لئے ضروری ہے۔ (تحریر: منیر اکرم۔ بشکریہ: ڈان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)