179

خونیں موڑ!

حسن ابدال کے مقام پر جی ٹی روڈ سے شروع ہونے والی 2 رویہ پرپیچ شاہراہ قراقرم گنجان آباد رہائشی و تجارتی مراکز کے درمیان سے ہو کر گزرتی ہے‘ یہ اہم شاہراہ شمالی علاقہ جات سے ہوتی ہوئی چین تک مسافروں اور مال برداری کا واحد زمینی ذریعہ ہے‘سی پیک کی تکمیل سے شاہراہ قراقرم پر بھاری ٹریفک کا دباؤ کم ہو جائیگا جو فی الوقت حادثات کا موجب ہے‘ بالخصوص ایبٹ آباد داخل ہونے کے مقام یونین کونسل سلہڈ کی حدود میں واقع سبزی منڈی ایک ایسی خوفناک جگہ ہے‘ جہاں تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے ہر وقت رش رہتا ہے اہل علاقہ کی زبان میں اس مقام پر ایک خونیں موڑ بھی ہے‘ جہاں ہر سال ٹریفک کے بڑے حادثات اخبارات کی شہ سرخیوں میں شائع ہونے کے باوجود بھی ماضی کی طرح موجودہ تبدیلی کے علمبردار فیصلہ سازبھی خاطرخواہ توجہ مرکوز نہ کر سکے۔ خونیں موڑ جیسی وجہ تسمیہ اپنی جگہ شناختی علامت تو ہو سکتی ہے تاہم کسی شاہراہ کا کوئی بھی حصہ یا موڑ نہ تو خونیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس خیرمحض کا کوئی حصہ باعث حیات لیکن زندگی و موت کا انحصار اس سے استفادہ کرنیوالوں کے ڈرائیونگ پر منحصر ہے کہ وہ عمومی سفر کرتے ہوئے کتنی احتیاط سے کام لیتے ہیں اورٹریفک قواعد و ضوابط پر کس حد تک عمل درآمد کو ضروری سمجھتے ہیں!پاکستان کی قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک میں N-35 کہلانے والی شاہراہ قراقرم کی کل لمبائی 1300 کلومیٹر ہے جسکا 887 کلومیٹر حصہ پاکستان جبکہ 413 کلومیٹر حصہ چین میں ہے‘۔

برطانوی دور میں تعمیر ہونیوالی شاہراہ قیام پاکستان کے بعد سے 1979ء تک اصل حالت میں برقرار رکھی گئی‘ لیکن قریب چالیس برس کے دوران جبکہ ٹریفک کا دباؤ کئی سو گنا بڑھ چکا ہے‘ لیکن اس شاہراہ کی پاکستانی حدود میں بڑے پیمانے پر توسیع نہیں کی جاسکی‘المیہ یہ بھی ہے کہ شاہراہیں وفاقی اور صوبائی نگران اداروں میں تقسیم ہیں لیکن وفاق اور صوبوں کو سوچنا چاہئے کہ ان کے آپسی اختیاراتی نظم و ضبط کی وجہ سے اگر عام آدمی کی جان و مال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے تو اسکا سدباب ہونا چاہئے‘کیا نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور صوبائی محکمہ اس وقت ہوش میں آئیں گے جب چیف جسٹس سپریم کورٹ اس بات کا ازخود نوٹس لیں گے؟متعلقہ حکومتی اداروں کی سردمہری‘ عدم توجہی اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ایبٹ آباد کے داخلی مقام اور دیگر شہری و مضافاتی علاقوں میں ہر سال ٹریفک حادثات معمول بن چکے ہیں لیکن فیصلہ سازوں کو احساس ندامت یا افسوس نہیں کیونکہ جانی و مالی نقصانات عام آدمی کے ہو رہے ہیں‘اگر اِن حادثات میں خواص کی اموات ہوتیں تو اب تک قیامت برپا کر دی گئی ہوتی! فوری ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِیبٹ آباد سبزی منڈی‘ کو قریب ہی موجود وسیع مقام پر منتقل کیا جائے جو حکومت کی ملکیت ہے اور جہاں نئی سبزی منڈی صفائی کی بنیادی سہولیات کیساتھ زیادہ بہتر انداز میں تعمیر کی جا سکتی ہے‘موجودہ سبزی منڈی کے داخلی اور خارجی راستے بھاری گاڑیوں کی آمدورفت کی وجہ سے زمین میں دھنس چکے ہیں اور اگر فوری طور پر سبزی منڈی ایبٹ آباد کے اطراف میں شاہراہ کے اس حصے کی مرمت و توسیع نہیں کی جاتی تو 10مئی کے روز ہوئے حادثے کی طرح مزید واقعات بھی رونما ہوں گے‘یونین کونسل سلہڈ میں آباؤ اجداد سے رہائشی‘ چھیاسٹھ سالہ‘ حاجی افتخار خان جدون کے بقول ٹریفک حادثات اور ٹریفک جام معمول بن چکے ہیں۔

ٹریفک پولیس کی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی اگر ذرائع آمدورفت سے جڑے مسائل حل نہیں ہو رہے تو اِس کی بنیادی وجہ خستہ حال سڑکیں ہیں‘ہر سال سیاحتی سیزن کے دوران ایسے ٹریفک حادثات تواتر سے رپورٹ ہوتے ہیں لیکن 10مئی کی شام ایبٹ آباد کی سبزی منڈی سلہڈ موڑ کے قریب ہوا حادثہ انتہائی جان لیوا ثابت ہوا‘ جس میں 10 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ حادثے میں 6 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے‘ جس سے ایبٹ آباد کی فضاء غمگین و اداس ہے! اس حادثے میں گندم سے لدا ہوا ٹرک مسافر گاڑی کے اوپر اُلٹ گیا جبکہ ٹرک کی زد میں آنیوالی مسافر گاڑی جس میں 13 مسافروں کو بٹھانے کیلئے نشستیں ہوتی ہیں اس میں 16مسافر سوار تھے یعنی مسافر گاڑی اوور لوڈ ہونے کے علاوہ اوور سپیڈنگ کی مرتکب بھی تھی‘ بس اڈوں سے نکلنے والی پرمٹ یافتہ گاڑیاں میں مسافروں کو گنجائش سے زیادہ سوار کیا جاتا ہے چونکہ کسی بھی ضلع سے منتخب ہونیوالے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی‘ سینیٹرز‘ ضلع ناظم اور دیگر فیصلہ ساز پبلک ٹرانسپورٹ سے استفادہ نہیں کرتے اور نہ ہی ضلعی افسرشاہی یا انکے اہلخانہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ذلیل و خوار ہوتے ہیں اسلئے عام آدمی کی تکلیف اور مشکلات کا انہیں رتی بھر احساس نہیں!فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ کس قدر حقوق العباد کی ادائیگی کر رہے ہیں۔