195

جوابی ردعمل

پاکستان میں تعینات امریکی سفارت کاروں کی نقل وحرکت کے حوالے سے نئی حکمت عملی ترتیب دیدی گئی ہے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سفارت کاروں کو اپنی نقل وحرکت سے متعلق پہلے اجازت لینا ہوگی‘ امریکی سفارت خانے کی اپنی اور رینٹ پر لی گئی گاڑیوں پر کالا شیشہ لگانے کی اجازت نہیں ہوگی‘ کرائے کی عمارت حاصل کرنے یا کوئی بلڈنگ تبدیل کرنے کیلئے این او سی لینا ہوگا‘ اسی طرح یہ بھی فیصلہ کیاگیا ہے کہ سفارت کاروں کو موبائل سم بغیر بائیو میٹرک تصدیق کے جاری نہیں کی جائے گی‘ اسی طرح گاڑیوں پر اصل نمبر پلیٹ لگانا ضروری ہوگا‘ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے یکم مئی سے پاکستانی سفارت کاروں کی نقل وحرکت پر پابندی کا فیصلہ کیاگیا جس میں بعد ازاں 10روز کی توسیع کی گئی‘ دریں اثناء چیئرمین سینٹ نے پاک امریکہ تعلقات میں تناؤ اور سفارت کاروں پر سفری پابندیوں کے حوالے سے بریفنگ کیلئے وزیر خارجہ اور فارن سیکرٹری کو طلب کیا ہے‘ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق حکومت نے وزیر دفاع خرم دستگیر کو وزارت خارجہ کا اضافی قلمدان بھی دیدیا ہے۔

اس سے پہلے سینٹ میں پیپلزپارٹی کی شیری رحمن نے وزیر خارجہ کا منصب خالی ہونے پر کڑی تنقید کی دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ امریکی سفیرکرنل جوزف کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق دو ہفتے میں فیصلہ کرے‘ پاکستان ایک طویل عرصے سے افغانستان کے حالات سے متاثر چلا آرہا ہے‘ لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی اور امن وامان کی صورتحال نے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے‘ امن کے قیام کیلئے پاکستان کی جدوجہد ریکارڈ کا حصہ ہے‘ پاکستان بھارت کیساتھ معاملات بات چیت کے ذریعے سلجھانے کی کوششیں بھی کرتا رہا ہے‘ اس سب کے باوجود بے بنیاد الزام تراشی کیساتھ پاکستان سے ڈومور کے مطالبے ہی ہوتے رہے ہیں‘ ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے پاکستان کو اپنے فیصلے کرنے کا بھرپور حق حاصل ہے‘ ان فیصلوں میں بھی امریکی سفارت کاروں کے سامان کے حوالے سے ویانا کنونشن کے مطابق ڈیل کرنے کا ہی کہاگیا ہے‘ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ پاکستان کے درست اور اصولی موقف کو سپورٹ کرے اور اپنی غیر جانبداری پر سوال نہ اٹھنے دے۔

ایک اور بے نتیجہ اجلاس

فاٹا اصلاحات اور قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا ہے جبکہ وزیراعظم نے کیس ن لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں لے جانے کا عندیہ دیا ہے جس سے متعلق تادم تحریر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی‘ دوسری جانب فاٹا کے معاملے پر حکومت کے تذبذب پرحزب اختلاف کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے اپنے گھر کو سنبھالے‘حکومت کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کی دو اتحادی جماعتیں انضمام کے معاملے پر مخالفت کررہی ہیں تو پہلے ضروری تھا کہ ان کو اعتماد میں لے کر اور آپس کے معاملات کو طے کرکے اجلاس بلایاجاتا‘حکومت نے اگر اس کیس کو اپنی مدت اقتدار میں نمٹانا ہے تو اب اس بات کا احساس کرنا ہوگا کہ وقت کم رہ گیا ہے جبکہ ہمارے ہاں سرکاری امور نمٹانے کی رفتار قابل تشویش حد تک سست روی کا شکار رہی ہے اور اگر اجلاس صرف روٹین کا حصہ سمجھ کر بلائے جارہے ہیں تو اس طرح کے مزید کئی اجلاسوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔